یکساں نظام تعلیم وقت کا تقاضا ہے

یکساں نظام تعلیم وقت کا تقاضا ہے

  

 پاکستانی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے زمینی حقائق کے مطابق پلاننگ کی ضرورت ہے

گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم کا انٹرویو

پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ کے حال ہی میں پرنسپل مقرر ہوئے ہیں انہیں پروفیسر اعزاز احمد خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد تعینات کیا گیا ہے اس سے قبل وہ ایک طویل عرصہ بطور وائس پرنسپل اور پوسٹ گریجوایٹ شعبہ معاشیات کے پروفیسر اور صدر شعبہ رہے ہیں۔ ان کا تعلق ضلع حافظ آباد کے علاقہ جلالپور بھٹیاں سے ہے۔ ابتدائی تعلیم جلالپور بھٹیاں سے حاصل کی جبکہ میٹرک اسلام آباد سے کیا بی ایس سی آنرز اور ایم ایس سی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے جبکہ ڈاکٹریٹ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے کی۔ ملازمت کا آغاز گورنمنٹ ڈگری کالج حافظ آباد سے کیا جبکہ گزشتہ 28سال سے گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ لاہور سے وابستہ ہیں انہوں نے بارہ کتابیں تصنیف کیں اسلامی معیشت اور معاشیات ان کے خاص موضوعات ہیں۔ انہوں نے ملکی معیشت کی صورت حال کو بہتر بنانے کے سلسلے میں ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے کہا کہ ہمارے ہاں پلاننگ کا فقدان ہے۔ منصوبہ بندی زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر نہیں کی جاتی بلکہ اعداد و شمار کا ایک گورکھ دھندا بنایا جاتا ہے۔قرآن پاک کی سورہ یوسف میں حضرت یوسف کے خواب کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پھر ہمارے یہاں خود انحصاری کی بجائے غیر ملکی امداد اور قرضوں کی معیشت نے فروغ پایا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے حقیقی اہداف سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح کے جرائد میں بے شمار مضامین بھی شائع کروائے۔ ٹی وی چینلز پر تاجر اور تجارت کے موضوع پر اور سٹی 42 پر درس قرآن کے حوالے سے پروگرام کرتے رہے ہیں۔

گورنمنٹ کالج آف سائنس لاہور 8اگست 1973ء کو وجود میں آیا جو دو مختلف کالجز کے ادغام سے بنا۔ شروع میں فزکس اور کیمسٹری سے پوسٹ گریجویٹ کلاسز شروع کی گئیں جبکہ ازاں بعد معاشیات اور ریاضی کے پوسٹ گریجویٹ شعبہ جات قائم ہوئے۔ ازاں بعد زوالوجی اور دیگر 16شعبہ جات میں بی ایس آنرز پروگرام شروع کیا گیا جو انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔ انٹرمیڈیٹ کلاسز بھی صبح اور شام کے اوقات میں جاری ہیں۔

ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے حکومت کی طرف سے یکساں نظام تعلیم (S.N.C)ایس این سی کے سلسلے میں کئے گئے اقدامات پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی معنوں میں یکساں نظام تعلیم نافذ ہونا چاہیے اور نصاب بھی یکسان ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ طبقاتی بنیادوں پر بعض اداروں کا نصاب مختلف ہو۔ انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو سب سے پہلی ترجیح بنایا جائے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کسبِ زر اور جلب منفعت پہلی ترجیح بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم کے معاملے میں نہ تو اقوام متحدہ کے پہلے اہداف حاصل کر سکے ہیں اور نہ ہی موجودہ اہداف کی طرف ہماری توجہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل اور ہنر کی تعلیم،ہنر نئی نسل کی اخلاقی تربیت بے حد ضروری ہے۔ ہمارے نصاب تعلیم میں اسلام اور نظریہ پاکستان کی اہمیت پر سب سے زیادہ زور دیا جانا چاہیے۔ اخلاقی بے راہ روی کے دور میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے طلباء اساتذہ اور والدین کے باہمی رابطے کی اہمیت بھی واضح کی اور کہا کہ والدین کے علم میں ہونا چاہیے کہ طلبا گھر سے باہر کس ماحول میں اپنا وقت گزارتے ہیں اور اسلامی شعائر کو کس حد تک ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم سے جب اس بات کا تذکرہ ہوا کہ بہت سے عبقری اساتذہ اس درسگاہ سے وابستہ رہے ہیں اور اس ادارے نے ایسے نامور طلبا و طالبات کو جنم دیا جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں اور عصر حاضر میں بھی سائنس کالج کے طلبائے قدیم اہم ملکی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان اساتذہ کرام میں پروفیسر ایم اے سعید، ڈاکٹر عبدالمجید اعوان، ڈاکٹر عبدالقیوم لودھی، ڈاکٹر خالد مسعود، ڈاکٹر اکبر حسین، ڈاکٹر شوکت علی، ڈاکٹر اصغر چودھری، پروفیسر اعزاز احمد خان، ڈاکٹر میاں محمد انور، ڈاکٹر افتخار بیگ، ڈاکٹر اختر پرویز، ڈاکٹر طارق عزیز، جعفر بلوچ، افسر رضوی، ڈاکٹر طاہر یعقوب، عبدالجبار شاکر، امتیاز احمد خان کے علاوہ بے شمار اعلیٰ مرتبے کی تدریسی شخصیات کے ناموں سے تعلیمی حلقے بخوبی آشنا ہیں۔ کالج کے موجودہ مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مختلف شعبہ جات میں تدریسی عملے اور سٹاف کی بے حد ضرورت ہے۔ کامرس، کمپیوٹر سائنس اور انگریزی کے شعبوں میں سٹاف کی بے حد کمی ہے۔ ضرورت ہے کہ باقاعدہ تدریسی سٹاف کے علاوہ سی ٹی آئینہ (CTIS) کا بروقت تقرر کیا جائے تاکہ تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ لیبارٹریز اور لائبریری کی ضروریات کو بھی پورا کیا جائے۔ 

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -