گو مل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان

گو مل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان

  

تعلیم و تحقیق اور اعلیٰ تربیت کی بہترین درسگاہ

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے ادارے کو چار چاند لگا دیئے

1974ء میں قائم ہونیوالی گومل یونیورسٹی جس کا شمار نہ صرف صوبہ خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان کی قدیم جامعات میں ہوتا ہے۔ جہاں صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ سوڈان، شام، فلسطین سمیت دیگر ممالک سے آئے ہوئے طلباء کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہیں اور علم کی شمع سے روشناس ہو کر نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں اپنی کامیابی کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ 

گومل یونیورسٹی میں 07مارچ کو نئے تعینات ہونیوالے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخاراحمد(تمغہ امتیاز) جو اس سے پہلے ایبٹ آباد یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر رہ چکے ہیں اور بہترین اکیڈمک ریکارڈ کی وجہ سے صدر مملکت کی جانب سے تمغہ امتیاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد ایڈمنسٹریشن کے امور چلانے میں نہایت مہارت رکھتے ہیں جس کا ثبوت ان کے ایبٹ آباد یونیورسٹی میں بطور وائس چانسلر شپ سے ظاہر ہوتاہے جہاں انہوں نے یونیورسٹی کی بہتری، ترقی،خوبصورتی اور طلباء کو بہترین وپر سکون تعلیمی ماحول فراہم کرکے دکھایا۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کے آنے سے پہلے گومل یونیورسٹی مالی خسارے کا شکار تھی۔ گروپ بندیوں میں گھری ہوئی تھی جس کی وجہ سے یونیورسٹی کا ماحول انتہائی خراب تھا۔ قومیت کی بنیاد پر قائم گروپ ایک دوسرے کیخلاف تھے اور تمام معاملات سے یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کے ساتھ ساتھ انتظامی امور بھی مسائل کا شکار' ڈسپلن کا فقدان، اکیڈمک اور ریسرچ نہ ہونے کے برابر تھی۔ مگر چھ ماہ پہلے گومل یونیورسٹی کی باگ ڈور سنبھالنے والے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے آتے ہی سب سے پہلے شفافیت، ڈسپلن، اکیڈمک اور ریسرچ کو بہتر کرنے کو ترجیح دی، اور گومل یونیورسٹی میں طلباء، ملازمین کے لئے سگریٹ اور منشیات پر سختی سے پابندی لگا دی اور ان اقدامات میں شامل طلباء و ملازمین پر فوری جرمانے لگانے کا حکم صادر فرمایا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے شفافیت کے قیام کے لئے گومل یونیورسٹی کے تمام دروازوں پر شیشے نصب کروائے تاکہ تمام ملازمین و اساتذہ سب کے سامنے ہوں۔

پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کام کرنیوالی خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف خیبرپختونخوا ایکٹ ترمیم شدہ2017 کو منظور کرکے فوری لاگو کر دیا۔جسکے نفا ذ کامقصد گومل یونیورسٹی میں کام کرنیوالی خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ تمام خواتین پر امن اور محفوظ ماحول میں احسن طریقے سے اپنے فرائض کی ادائیگی کر سکیں۔ جسے سماجی حلقوں میں سراہا گیا۔

وائس چانسلر کا سب اہم ترین اقدام گومل یونیورسٹی میں گروپ بندی کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے گومل یونیورسٹی کے تمام ملازمین پر واضح کیا کہ گومل یونیورسٹی میں اب کوئی گروپ نہیں ہے سب ملازمین گومل یونیورسٹی کی ترقی،بہتری اور خوشحالی کیلئے کام کریں اور اگر کوئی بھی ملازم ایسی سرگرمیاں میں پایاگیا تو اس کے خلاف سٹیچیوٹس اور ایکٹ کے تحت سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ 

پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے فوری طور پر طلباء کیلئے گومل یونیورسٹی میں نظم و ضبط پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 10مارچ 1993کے فیصلے کولاگو کرکے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا جس میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طالب علم اور ان کے والدین /سرپرست ایک حلف نامہ جمع کروائیں گے کہ انکا بچہ تعلیمی ادارے میں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہو گا اور اگر وہ ان سیاسی سرگرمیوں میں پایا گیا تو بغیر کسی نوٹس کے اس طالب علم کو ایکسپل کر دیا جائے گا۔اس ضمن میں ادارے کے سربراہ کافیصلہ حتمی ہو گا اورسپریم کورٹ کے علاوہ کسی اورفورم پر چیلنج نہیں ہوسکتا۔

وائس چانسلرڈاکٹر افتخار احمد نے اپنے چھ ماہ دورہ کے اندر تین اکیڈمک کونسل کی میٹنگ اور چار سنڈیکیٹ میٹنگ کا انعقاد کروا یاجو کہ سابقہ ادوار میں سال ہا سال میں ایک یا دو میٹنگ ہوا کرتی تھیں۔پروفیسر ڈاکٹر افتخار نے اکیڈمک کونسل میں سب سے اہم بات کورونا وائرس کی وجہ سے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ''No Student Behind Model'' کو منظور کیا گیا۔ اس ماڈل کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے طلباء کے مسائل کو دیکھتے ہوئے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے تیار کیا۔ یہ ماڈل امریکی اعلیٰ تعلیم کو دیکھتے ہوئے بنایا گیا ہے جسکا سارا دارو مدار نصابی کتابوں پر ہے اس ماڈل کے مطابق طلباء کو پڑھانے میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے بچے کم سے کم 10گھنٹے روزانہ پڑھائی کریں۔ پڑھائی نہ کرنے کی صورت میں یونیورسٹی کو اطلاع کریں۔ اس ماڈل میں طلباء ایک ہفتہ یا 15دنوں کے بعد ایسی جگہ جائیں جہاں ان کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہو تووہ ایک ہی دن میں اپنے تمام لیکچرز ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ اس ماڈل کے تحت سمسٹر میں طلباء کی کارکردگی کی تشخیص کیلئے صرف آخری امتحان لیا جائیگا۔ واضح رہے کہ اس ماڈل سے درسی کتاب کی اہمیت اور افادیت طلباء میں اجاگر ہو گی اور کتاب بینی کو بھی مزید فروغ ملے گا۔پاکستان کی دیگر یونیورسٹیاں بھی اس ماڈل سے مستفید ہو کر بہترین طریقے سے آن لائن کلاسز کا اجراء کر سکتی ہیں۔

اکیڈمک کونسل میں نئے پروگرامز بی ایس جیالوجی، سائیکالوجی،لائبریری سائنسز اورپی ایچ ڈی، شریعہ اینڈ لاء،فائن آرٹس، انٹرنیشنل ریلیشن،ایگریکلچر انجنیئرنگ، کمپیوٹر انجینئرنگ کے پروگرام ہائیر ایجوکیشن اسلام آباد، پاکستان انجنیئرنگ کونسل کے معیار کے مطلوبہ معیار اور تکنیکی ہدایات کی روشنی میں شروع کرانے پر بھی زوردیا گیا۔ 

گومل یونیورسٹی کی 56ویں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی میٹنگ میں وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کی سربراہی میں پہلی مرتبہ سرپلس بجٹ منظور ہوا۔ جس میں موجودہ نیا کوئی خسارہ شامل نہیں جبکہ پچھلا خسارہ جو 837ملین تھا کم ہو کر386ملین رہ گیا ہے جوانشا اللہ جلد ہی ختم ہو جائے گا اور اگلابجٹ انشا اللہ سارا سرپلس میں ہوگا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے گومل یونیورسٹی کے 46ویں یوم تاسیس کے موقع پر سابقہ وائس چانسلر کو آن لائن تقریب میں مدعو کیا جس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جی ایم میانہ،پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل خٹک، پروفیسر ڈاکٹر فرید خان،پروفیسرڈاکٹرعبدالوحید، پروفیسر ڈاکٹر اجمل خان،پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی، میجر جنرل(ر)پروفیسر ڈاکٹر حامد شفیق،پروفیسر ڈاکٹر محمدسرور چوہدری،پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ بابڑ نے شرکت کی۔ اس موقع پر گومل یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر نواب اللہ نواز خان کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے تقریبا11ہزار کنال پر محیط اپنی ذاتی زمین گومل یونیورسٹی کے نام کر دی۔ جو ان کا اس خطے پر بہت بڑا احسان اور ان کی علم دوستی کا ثبوت ہے۔

وائس چانسلر نے گومل یونیورسٹی کی خوبصورتی اور سیکیورٹی کے حوالے سے مزید بہتر بنانے کیلئے بہت سے اقدامات کرتے ہوئے ان درختوں کو کاٹنے یا ہٹانے کا حکم صادر فرمایا جو عمارتوں کے قریب ہیں اور ان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ درخت بھی جو بجلی کی مین تاروں کے ساتھ ہیں جوبجلی کی تاروں پر گر کر بجلی کے رسائی میں تعطل کا باعث بن سکتے ہیں۔

گومل یونیورسٹی کے مسائل میں سے ایک مسئلہ پنشنرز ملازمین کا بھی تھا جس پر گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار نے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی کام شروع کر دیا اور اس حوالے سے اعلیٰ حکام کو نہ صرف تحریری طور درخواست دی بلکہ خودبھی ان سے پنشنرز کے مسئلہ کے حل کے لئے ملے۔ملاقات میں وائس چانسلر نے ان پنشنرز ملازمین جن کو اپنی مدت ملازمت کے اختتام پر رقم کی ادئیگی نہیں ہو سکی کیلئے ڈائریکٹر فنانس کو فوری طور پر ہدایات دیں کہ فوری طور پرایسے ملازمین کو جن کی تعداد170کے قریب بنتی تھی کو فی کس ایک ایک لاکھ روپے ادا کر دیں تاکہ ان ملازمین کے مسائل کا کچھ ازالہ ہو سکے۔ 

عالمی وباء کورونا کے خلاف جاری جہاد میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کورونا وائرس کے بارے میں آگاہی اور اس سے بچاؤ کیلئے گومل یونیورسٹی کے شعبہ صحت سے وابستہ تمام ماہرین پروفیسرز، ڈاکٹرزاور اساتذہ کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس بارے میں اخبارات،ریڈیو،ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام الناس کواس بیماری کے بارے میں بتا ئیں کہ یہ بیماری کیا ہے اور اس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے۔اس کیساتھ وائس چانسلر نے فوری طور پر گومل یونیورسٹی کے ایف ایم ریڈیو کے عملے کو بھی احکامات جاری کئے کہ وہ لوگوں میں کورونا سے متعلق معلومات اور اس سے بچاؤ کے لئے گومل یونیورسٹی کی ماہرین کے خصوصی انٹرویو نشرکریں اور گومل یونیورسٹی سے ہٹ کر باہرکے لوگوں جن میں شعبہ صحت کے ماہرین'ڈاکٹرز وغیر ہ شامل ہیں کے بھی انٹرویو نشر کریں۔ تاکہ گومل یونیورسٹی کورونا وباء کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے اور کورونا کو شکست دے۔ کیونکہ اس وقت گومل یونیورسٹی کو اس جنگ میں اپناکردار ادا کرنا ہے۔ جس پر گومل یونیورسٹی کے اساتذہ اور ایف ایم ریڈیو سمیت تمام اہلکار وں نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔وائس چانسلر کی نظر میں تمام ملازمین کے حقوق اور عزت برابر ہے اسی حوالے سے مالی اور سویئپر سے ملاقات کی اور ان کو ان کے بہترین اقدامات پر سراہا۔ اس حوالے سے وائس چانسلر نے اعلان کیا کہ جلد ہی سکیل 1 ملازمین کو سکیل 3میں ترقی دی جائے گی۔ 

وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمدشب و روز محنت، لگن اور جانفشانی سے اس قدیم جامعہ کیلئے کام کررہے ہیں جس سے گومل یونیورسٹی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے اور وہ وقت دو ر نہیں جب گومل یونیورسٹی مزید کچھ عرصہ میں ہی پاکستان کی بہترین جامعات میں شامل ہو گی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -