شیخوپورہ میں آٹا نایاب، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، شہری خوار

شیخوپورہ میں آٹا نایاب، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، شہری خوار

  

 شیخوپورہ (ارشد شیخ) آٹے کی قلت جاری، مختلف شہری و دیہی آبادیوں میں آٹا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا،عام سٹورز،دکانوں و کریانہ فروشوں کی طرح  یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی آٹا مسلسل غائب، شہریوں نے آٹے کی مصنوعی قلت کا ذمہ دار فیکٹری مالکان اور ضلعی انتظامیہ کو قرار دیدیا،شہریوں کے مطابق چکیوں پرآٹا 2400سے 2600 روپے من کے حساب سے بلیک میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ چند بڑے ہول سیل ڈیلرز کو دن میں 20/25 تھیلے آٹا فیکٹری سے ملتا ہے جو دوکان دار 1200 روپے کے حساب سے  فروخت کر رہے ہیں جوکہ ایک غریب مزدور آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔شہریوں نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ نے اس بارے ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا جس کی وجہ سے غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاہے جبکہ آٹا بحران کے ساتھ ساتھ زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں، شہری حلقوں کے مطابق سبزیوں، دودھ،دہی، دالوں، پھلوں،چینی، چائے پتی کی قیمتوں میں عدم استحکام سے یہ اشیاء عام شہری کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں،اس صورتحال کے باعث دیہاڑی طبقہ پس کرہ گیا ہے اور شدید مایوسی کا شکار ہے۔غریب طبقات خودکشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت مصنوعی مہنگائی کا فوری نوٹس لے اور گراں فروشوں کو نشان عبرت بنائے  اگر فی الفور ان عناصر کا محاسبہ نہ کیا گیا تو عوام احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 

آٹے کی قلت

مزید :

صفحہ آخر -