اپوزیشن جلسے کرے یا دھرنے دے، این آر او نہیں ملے گا، مہنگائی پر جلد قابو پالیں گے: عمران خان

اپوزیشن جلسے کرے یا دھرنے دے، این آر او نہیں ملے گا، مہنگائی پر جلد قابو ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو واضح پیغام دیا ہے کہ انھیں کسی صورت این آر او نہیں ملے گا، وہ اس کیلئے چاہے دھرنے دیں یا جلسے کریں۔وزیراعظم عمران خان نے یہ بات سینیٹر فیصل جاوید اور سینیٹر ذیشان خانزادہ کیساتھ ملاقات کے موقع پر کہی۔ ملاقات میں فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے ریوائیول کیلئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ اسلامی تاریخ پر مبنی فیچر فلمز اور ڈرامے مقامی سطح پر بنانے پر غور بھی کیا گیا۔وزیراعظم نے اس موقع پر نوجوانوں کی مثبت اور تعمیراتی سرگرمیاں بڑھانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ رواں ہفتے ٹائیگر فورس کے کنونشن میں نوجوانوان سے خطاب کروں گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ نوجوان تعمیری سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔ ملاقات میں سیاسی معاملات اور اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیراعظم نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے غیر متزلزل بیان کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے، اپوزیشن سے مفاہمت نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ لوٹ مار کرنے والے اکٹھے ہو جائیں گے۔ یہ اب جلسے کریں یا دھرنے دیں، انھیں این آر او نہیں ملنا۔وزیر اعظم  عمران خان  نے حکومتی  ترجمانوں کو این اے 120 ضمنی انتخاب میں اڑھائی ارب روپے کے خرچ کا معاملہ بھرپور  طریقے سے منظر عام پر لانے کی ہدایت کر دی ہے۔وزیر اعظم کاکہناتھا مہنگائی جلد کم کرلیں گے،  اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پریشانی نہیں ہے، اپوزیشن کو کسی طور پر این آر او نہیں دینگے۔۔  ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے مہنگائی پر ترجمانوں کو بریفنگ   دی گئی۔ ترجمانوں نے مہنگائی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم  کا کہناتھاکہ این اے 120 لاہور ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کی کامیابی کیلئے اڑھائی ارب روپے کے فنڈز خرچ کئے گئے۔   انہوں نے ہدایت کی کہ این اے 120 ضمنی انتخاب میں اڑھائی ارب روپے کے خرچ کا معاملہ بھرپور منظر عام پر لا یا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا  مہنگائی کے خاتمے کیلئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔مہنگائی پر جلد قابو پا لیا جائیگا۔اشیائے خردونوش کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔مہنگائی جلد کم کرلیں گے،وزیر اعظم نے کہا    اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔اپوزیشن کو این آر او دیدیں تو کوئی تحریک نہیں چلے گی۔اپوزیشن کو کسی طور پر این آر او نہیں دینگے۔عمران خان نے مزید کہا دھاندلی کا شور کرنے والوان نے  انتخابی عذداریاں ہی دائرنہیں کیں۔پنجاب میں اپوزیشن نے11جبکہ تحریک نے13انتخابی عذدرایاں دائرکیں۔دھاندلی کی تحقیقات کیلئے ہم نے مخلصانہ پیشکش کی۔اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے ثبوت ہی پیش نہیں کئے گئے۔ہمارے اپنے امیدوار بہت کم مارجن سے ہارے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کیخلاف احترامِ باہمی کی حمایت میں بھی ہمارا موقف غیر متزلزل ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کیلئے پاکستان کے مزید 3 برس کیلئے انتخاب پر نہایت خوش وں۔وزیراعظم نے لکھا کہ برداشت کے فروغ اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنی ترجیحات کا حصہ بناتے ہوئے ہم سب کیلئے انسانی حقوق کے تحفظ کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ اسلاموفوبیا کیخلاف احترامِ باہمی کی حمایت میں بھی ہمارا موقف غیر متزلزل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اتفاقِ رائے کے حوالے سے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا اور یقینی بنائے گا کہ کونسل کے کام کی بنیاد عالمگیریت، غیر جانبداریت، گفت وشنید اور تعاون کے اصولوں پر استوار ہو۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بلا خوفِ احتساب خلاف ورزیاں بھی بے نقاب کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اس بڑی سفارتی کامیابی پر میں دفترِ خارجہ اور بیرونِ ملک موجود پاکستان کے سفارتی مشنز کے کردار کو سراہتا ہوں جن کی کاوشوں سے عالمی افق پر پاکستان کی حیثیت اور ساکھ میں اضافہ ہوا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا  ہے کہ  وفاقی حکومت انضمام شدہ علاقوں کی بلا تعطل تعمیر و ترقی کے لئے پرعزم ہے،   صوبوں کے محاصل اور آمدن کی ضلعی سطح پر شفاف اور منصفانہ تقسیم صوبوں میں یکساں تعمیر و ترقی کے عمل کے لئے از حد ضروری ہے، ماضی کی حکومتوں میں وسائل کا بڑا حصہ  محض چند علاقوں تک محدود کر دیا جاتا تھا، اس  سے پس ماندہ علاقوں میں تعمیرو ترقی کا عمل متاثر ہوا اور ان علاقوں کی عوام میں احساسِ محرومی نے جنم لیا، صوبائی سطح پر  اضلاع میں مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم  موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ خیبرپختونخواہ  خصوصا انضمام شدہ علاقوں  اور صوبہ پنجاب کے ترقیاتی ضرورتوں  کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس  ہو جس میں   وفاقی وزرا اسد عمر، فواد احمد چوہدری، عمر ایوب خان، مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیرِ اعلی خیبرپختونخواہ محمود خان،  وزیرِ خزانہ کے پی تیمور سلیم جھگڑا  و دیگر سینئر افسران  نے  شرکت کی ۔ وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت، چیف سیکرٹری پنجاب نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔  اجلاس میں  انضمام شدہ علاقوں  اور صوبہ پنجاب کی ترقیاتی ضرورتوں اور صوبائی مالیاتی ایوارڈ کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وزیرِ اعظم عمران خان  نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت انضمام شدہ علاقوں کی بلا تعطل تعمیر و ترقی کے لئے پرعزم ہے۔ وزیرِ اعظم نے انضمام شدہ علاقوں کے لئے تمام ضروری  مالی وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے  صوبائی مالیاتی ایوارڈ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے محاصل اور آمدن کی ضلعی سطح پر شفاف اور منصفانہ تقسیم صوبوں میں یکساں تعمیر و ترقی کے عمل کے لئے از حد ضروری ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں میں وسائل کا بڑا حصہ سیاسی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے محض چند علاقوں تک محدود کر دیا جاتا تھا جس سے پس ماندہ علاقوں میں تعمیرو ترقی کا عمل متاثر ہوا اور ان علاقوں کی عوام میں احساسِ محرومی نے جنم لیا۔ وزیرِ اعظم نے   کہا کہ صوبائی سطح پر  اضلاع میں مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم  موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔  وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ محصولات کے حوالے سے اضلاع  اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ان علاقوں سے حاصل ہونے والے وسائل کو انہیں علاقوں کی  تعمیر و ترقی اور سہولیات کی بہتری کے لئے بہتر طریقے سے برے کار لایا  جا سکے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -