ضم شدہ اضلاع میں پولیس ایکٹ کے تحت ویلفیئر پراجیکٹ نافذ کیا جائیگا: ثناء اللہ عباسی 

ضم شدہ اضلاع میں پولیس ایکٹ کے تحت ویلفیئر پراجیکٹ نافذ کیا جائیگا: ثناء ...

  

باجوڑ(نمائندہ خصوصی)  انسپکٹر جنرل خیبر پختونخواہ پولیس ثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلا ع میں پولیس ایکٹ کے تحت ویلفیئر پراجیکٹ کو بھی نافذکیاجائیگا، ویلفیئر پیکج ضم شدہ اضلاع کے پولیس کو بھی ملے گا، جو حقوق پشاور میں پولیس اہلکار کے ہے اور جو میرے حقوق ہیں وہ حقوق ضم شدہ اضلاع میں پولیس میں ضم ہونیوالے اہلکاروں کے بھی ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ضلع باجوڑ کے ایک روزہ دورہ کے موقع پر پولیس ٹریننگ حاصل کرنے والے جوانوں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ملاکنڈ اعجاز خان، ڈپٹی کمشنر باجوڑ فیاض شیرپاؤ، ڈی پی او باجوڑ شہزادہ کوکب فاروق،باجوڑ پریس کلب کے صدر حسبان اللہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس ثناء اللہ عباسی نے دورے کے موقع پر پاک آرمی کے تعاون سے پولیس فورس کو دی جانیوالی فزیکل اور دہشت گردی سے نمٹنے کی ٹریننگ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے پولیس فورس کے یادگار شہداء پر حاضری دی اور شہداء کے یادگار پر پولیس کا گلدستہ رکھاجبکہ کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کی۔انہوں نے پولیس فورس کے یادگار پر شہداء کے درجات بلندی کیلئے دعا بھی کی۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس لائن میں ٹریننگ مکمل کرنیوالے پولیس اہلکاروں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کی۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی ثناء اللہ عباسی نے کہا کہ فاٹا انضمام کا فائدہ یہ ہواہے کہ جو بھی حکومتی اہلکار یا محکمہ عوام کی خدمت نہیں کریگا تو عوام اُس کیخلاف عدالت جاسکتے ہیں اور حتی کہ ہائیکورٹ سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو عدالتی حقوق ملنا سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے پولیس اہلکاروں کے حوالہ سے آئی جی نے کہا کہ یہ فورس دیگر اضلاع کے فورس سے کافی اچھا ہے لیکن ہم ان کو تحقیقاتی ٹریننگ دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ پاک آرمی کی جانب سے فزیکل اور دہشت گردوں سے نمٹنے کی ٹریننگ دی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیویز کا پولیس میں انضمام ایک بڑا چیلنج تھا لیکن ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے اور یہاں کے لیویز کو پولیس میں ضم کیاگیاہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے اہلکاروں کو پولیس ایکٹ کے ویلفیئر پراجیکٹ کے تحت تمام حقوق ملے گے اور جو حقوق میرے ہیں وہ ضم شدہ اضلاع کے ایک اہلکار کے بھی ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -