قبائلی اضلاع وکلاء پاکستان بار اور خیبر پختونخوا بار کونسل سے جواب طلب

قبائلی اضلاع وکلاء پاکستان بار اور خیبر پختونخوا بار کونسل سے جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختون خوا بار کونسل میں قبائلی اضلاع کے وکلا کو نمائندگی دینے کے لئے دائررٹ پروزارت قانون وانصاف ٗ کیبنٹ ڈویزن، خیبر پختون خوا بار کونسل اور پاکستان بار کونسل سے جواب طلب کرلیا دو رکنی بینچ نے فواد افضل صافی ایڈوکیٹ کی جانب سے نورعالم ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر رٹ کی سماعت کی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 25ویں ائینی ترمیم کے بعد خیبر پختون خوا میں قبائلی اضلاع کو ضم کردیا گیا ہے جس کو اب نئے ضم شدہ اضلاع کہا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے بہت سے چیزوں میں ان اضلاع کو نمائندگی نہیں دی گئی ایف سی ار کے خاتمے کے بعد وہاں پر دیگر قوانین تو نافذ کئے گئے تاہم بدقسمتی سے خیبر پختون خوا بار کونسل میں ان کے وکلا کیلئے سیٹ مختص نہیں کی گئی حالانکہ تمام دیگر ریجنز کی سیٹیں پہلے سے مختص ہیں ان سیٹوں کی  نمائندگی کیلئے متعدد بار متعلقہ حکام کو اگاہ کیا گیا اور خیبر پختون خوا بارکونسل کو بھی لکھا گیا مگر ابھی تک کچھ نہیں ہوا اور اگر اسی طرح ان وکلا کو عدالت سے کوئی ریلیف نہیں ملتا تو ان کے احساس محرومی میں اضافہ ہوگا لہذا عدالت اس حوالے سے احکامات دے کہ خیبر پختون خوا  بار کونسل میں فاٹا کے لئے سیٹیں مختص کی جائیں تاکہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے وکلا بھی دوسرے ضلعوں کی طرح خیبرپختون خوا بارکونسل میں نمائندگی کر سکیں اور اپنا کردار ادا کر سکیں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر وفاقی حکومت، خیبر پختون خوا بارکونسل اور پاکستان بار کونسل سے جواب طلب کرلیا 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -