توہین رسالتؐ  قتل کیس،دو سہولت کار ملزمان پر فرد جرم عائد

توہین رسالتؐ  قتل کیس،دو سہولت کار ملزمان پر فرد جرم عائد

  

پشاور(نیوزرپورٹر)انسداد دہشت گردی پشاور کی خصوصی عدالت نے  عدالت کے اندر توہین رسالت کے کیس میں نامزد ملزم کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار 17سالہ فیصل عرف خالد سمیت گرفتار سہولت کار دو ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے عدالت نے مزید سماعت 21اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے استعاثہ  کے گواہان طلب کر لیے گزشتہ روز انسداد دہشت گردی خصوصی عدالت پشاور کے جج نے ملزمان کے خلاف دائر مقدمہ کی سماعت پشاور سنٹر ل جیل  میں کی اس موقع پر تینوں ملزمان 17سالہ فیصل عرف خالد، جونیئر وکیل طفیل ضیاء  اور وسیع اللہ عدالت میں پیش ہوئے  تو عدالت نے مرکزی  ملزم فیصل عرف خالد  کے خلاف جمع شدہ جوینائل چالان  اور دیگر ملزمان کے خلاف الگ چالان کے تحت فرد جرم عائد کی، عدالت نے ملزمان کے خلاف  عدالت کے اندر قتل، اسلحہ لانے اور دہشت گردی  کے الزامات  کے تحت فرد جرم عائد کی۔ واضح رہے کہ فیصل عرف خالد نے 29جولائی کو ایڈیشنل اینڈ سیشن جج پشاور کی عدالت میں توہین رسالت کیس میں نامزد ملزم طاہر احمد نسیم کو قتل کیا تھا جس کی منصوبہ بندی دیگر دو ملزمان طفیل ضیاء اور وسیع اللہ کے ساتھ کی گئی تھی عدالت نے کیس کی سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کردی  اور استعاثہ کے گواہان بھی طلب کر لیے ہیں دوسری جانب طفیل ضیاء کی جانب سے دائر ضمانت درخواست پر بھی سماعت 21اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -