پشاور پی ڈی ایم جلسہ، اے این پی کا میزبانی کی پیشکش 

پشاور پی ڈی ایم جلسہ، اے این پی کا میزبانی کی پیشکش 

  

 چارسدہ (بیورو رپورٹ) اے این کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پشاور میں پی ڈی ایم جلسہ کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں اپنے نظریات سے جڑی ہوئی ہے۔ ماضی میں بھی مختلف نظریات کے پارٹیوں نے مل جل کر جمہوریت کی بحالی اور ڈکٹیٹروں کے خلاف کامیاب تحریکیں چلائی ہے۔ افغانستان اور بلوچستان میں بھی باچاخان سکول کھولنے کا اعلان۔ وہ با چا خان سکول چارسدہ میں انجمن کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، صوبائی ترجمان ثمر بلور اور دیگر ضلعی و صوبائی رہنماء اور باچا خان ٹرسٹ کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ باچا خان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا دائرہ کار بلوچستان اور افغانستان تک پھیلایا جائیگا۔ با چاخان سکول سسٹم غریب طلباء و طالبات کو مفت تعلیم،کتب اور یونیفارم بھی فراہم کریگی جبکہ انجمن تمام تر اخراجات بر داشت کریگی۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی پی ڈی ایم کے ساتھ حکومت کے خاتمے کے ایک نکتہ پر کھڑی ہے اور موجودہ حکومت کے خلاف جاری پی ڈی ایم تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے اپنے اپنے منشور اور نظریات ہے اور ماضی میں بھی مختلف نظریات کے حامل سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی اور ڈکٹیٹر وں کے خلاف کامیاب تحریکیں چلائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کپتان کے لانے والے لوگ کپتان کو گرانے میں ابھی سنجیدہ نہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے تحریک کے نتیجے میں کپتان کی حکومت نہیں گرے گی۔ ایمل ولی خان نے نیب کے کر دار پر شدید تنقید کی اور اسے نیب نیازی گٹھ جوڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ججز، جرنیلوں اور جرنلسٹس کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایمل ولی خان نے عاصم باجوہ کی بطور مشیر وزیر اعظم کے استعفیٰ دینے اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین شپ سے استعفیٰ نہ دینے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ   پاکستان کا آئین سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت جلسوں کی اجازت دینے والے کون ہوتے ہیں۔انہوں نے زنا بالا جبر کے مجرموں کو سنگسار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -