رشوت لینے کا الزام‘ دو افسروں کی عبوری ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم  

      رشوت لینے کا الزام‘ دو افسروں کی عبوری ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم  

  

ملتان (خصو صی رپورٹر)ہائیکورٹ ملتان بنچ کے ججز جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور چوہدری عبدالعزیز پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے نیب افسران کے نام پر 70 لاکھ روپے کی (بقیہ نمبر56صفحہ 7پر)

رشوت لینے کے الزام میں دو افسران کی عبوری ضمانتیں پانچ پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض کنفرم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر عدالت نے نیب حکام پر اظہار برہمی بھی کیا۔ قبل ازیں فاضل عدالت میں محکمہ انہار ساہیوال کے ایس ای رانا محمد افضل نسیم اور رانا اقبال نے کونسلز شیخ جمشید حیات اور رانا آصف سعید کے ذریعے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ڈی ایس پی خوراک لودھراں تنویر نصرت وڑائچ کے خلاف جاری باردانہ کی خریداری کی مد میں مبینہ کرپشن کی انکوائری سے بچانے کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب احمد ممتاز باجوہ اور دو اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے نام پر 70 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام ہے جبکہ ان پر لگائے گئے الزامات درست نہیں اور انہیں نیب بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر گرفتار کرنا چاہتا ہے اس لئے نیب کس گرفتاری سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔تاہم عدالت نے وکلاء کے ٹھوس دلائل کے بعد ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم دیا ہے۔

حکم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -