”عابد ملہی کا باپ کہتا ہے کہ پولیس اہلکار چھت پر سوئے ہوئے تھے اورپولیس ۔۔“چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کمپیوٹرائزڈ روزنامچہ تیار کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا 

”عابد ملہی کا باپ کہتا ہے کہ پولیس اہلکار چھت پر سوئے ہوئے تھے اورپولیس ...
”عابد ملہی کا باپ کہتا ہے کہ پولیس اہلکار چھت پر سوئے ہوئے تھے اورپولیس ۔۔“چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کمپیوٹرائزڈ روزنامچہ تیار کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے کمپیوٹرائزڈسسٹم کے تحت روزنامچہ لکھنے سے متعلق قانونی ترمیم کالعدم قرار دیتے ہوئے ساڑھے 11 بجے کے بعد ہاتھ سےروزنامچے لکھنے کا حکم جاری کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کمپیوٹرائزڈروزنامچہ تیار کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پورے پنجاب میں پولیس گردی کی انتہا ہوچکی ہے،عابد ملہی کاباپ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے اسے خودپولیس کے حوالے کیا،عابد ملہی کے باپ کی کوئی نہیں سن رہا،عابد ملہی کاباپ کہتاہے پولیس اہلکارچھت پرسوئے ہوئے تھے اور پولیس تفتیشی ٹیم میں انعام بانٹنے کےاعلانات کیے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 20،20دن تک فیملیزکوغیرقانونی حراست میں رکھاجاتاہے، پولیس کی بدنیتی واضح نظرآرہی ہے۔چیف جسٹس قاسم علی خان کا کہناتھا کہ کیا ایس اوپیز بنانے سے پولیس رولزختم ہوگئے؟ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہارڈ کاپی کا سسٹم ختم نہیں ہوا،کمپیوٹرائزڈسسٹم اس لیے کیاگیاکہ پولیس افسران من مانیاں کرسکیں، ہاتھ سےروزنامچہ اس لیے نہیں لکھاجاتا کہ نالائقیوں کوچھپایاجائے۔ عدالت نے کمپیوٹرائزڈسسٹم کے تحت روزنامچہ لکھنے سے متعلق قانونی ترمیم اور - کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت روزنامچہ لکھنے سے متعلق ایس اوپیزکو غیرقانونی قرار دیدیا ہے ۔ 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ تحریری آرڈرکاانتظارنہ کریں، ساڑھے 11 بجے کے بعدعدالتی حکم پرعمل کیاجائے، ساڑھے 11 بجے کے بعد ہاتھ سےروزنامچے لکھے جائیں۔

مزید :

قومی -