ماہی گیروں کا گاؤں۔۔۔ آج جدت کاری کا نمونہ

ماہی گیروں کا گاؤں۔۔۔ آج جدت کاری کا نمونہ
ماہی گیروں کا گاؤں۔۔۔ آج جدت کاری کا نمونہ

  

یہ ستر کی دہائی کے اختتام کا وقت تھا جب دنیا سرد جنگ کی وجہ سے ٹھٹری اور سکڑی ہوئی تھی۔ ہر ملک دوسرے سے خائف دکھائی دیتا تھا۔ دنیا میں اپنے اپنے بلاک بنے ہوئے تھے۔ اس وقت ایک ایسا ملک بھی تھا جو اشتراکیت پر مبنی ترقی کے سفر کے لئے کوشاں تھا۔ اس دور میں چین نے اپنی ملکی خصوصیات کی روشنی میں ایک سوشلسٹ نظام متعارف کروایا جس کا مقصد صرف اور صرف عام انسانوں کی ترقی اور فلاح بہبود تھی۔ اس دور میں اصلاحات و کھلے پن کی ایسی پالیسی کا آغاز ہوا جس نے آج چین کو دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت بنادیا ہے۔ 

چین میں اصلاحات و کھلے پن کے ابتدائی تجربات میں ایک ساحلی گاؤں شین جن کو تجرباتی طور پر آزاد تجارتی زون بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت یہاں آبادی تقریباً بیس ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ آج یہ دس ملین آبادی کا حامل شہر ہے۔ شین جن نے یہ ترقی کس طرح حاصل کی، یہ پوری دنیا کے لئے ایک قابل تقلید مثال ہے۔شین جن خصوصی اقتصادی زون کے قیام کی چالیسویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک یادگاری تقریب چودہ تاریخ کو شین جین میں منعقد ہوئی ۔چینی صدر شی جن پھنگ نے تقریب میں شرکت کی اوراس موقع پر اہم خطاب کیا۔ 

ماہی گیری کے ایک چھوٹے گاؤں سے شین جن کیسے بین الاقوامی شہر بن گیا ہے؟شی جن پھنگ نےاپنے خطاب میں "شین جن کوڈ" کا انکشاف کیا۔انہوں نے "شین جن ماڈل" کے دس تجربات کا خلاصہ پیش کیا ، یعنی ، خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مکمل قیادت،چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظام کی پاسداری اور اس میں بہتری؛ ترقی کے مطلق اصول پر کاربند رہنا ، تجربے کرنے کی ہمت پر کاربند رہنا ، مکمل کھلے پن پر عمل درآمد،پہلی محرک قوت کی حیثیت سے جدت پر اصرار کرنا، عوام کی مرکزی اور ترجیحی حیثیت کو برقرار رکھنا ، اور اصلاحات اور ترقی کے نتائج اور ثمرات کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچانا۔ 

شی جن پھنگ نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر کے 40 سالہ تجربات کو دنیا کے تمام ممالک کی مشترکہ شرکت سے الگ نہیں کیا جاسکتا ، اور اس نے تمام ممالک کے لئے وسیع ترقی کی گنجائش اور مشترکہ ترقیاتی فوائد بھی پیدا کیے ہیں۔ چین نے دنیا کے تمام ممالک کا خیرمقدم کیا ہے کہ وہ چین کے خصوصی اقتصادی زونز کی اصلاح اور تعمیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں ۔ 

" برطانوی رسالے "دی اکانومسٹ " نے ایک بار تبصرہ شائع کیا تھا کہ دنیا میں 4000 سے زیادہ خصوصی اقتصادی زونز ہیں اور کامیابی کا سب سے بڑا نمونہ شین جن ہے۔ ایسی کیا وجہ ہے کہ شین جن کی تعمیر کامیاب ہوئی؟ نئے دور میں چین کے خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر کس طرح آگے بڑھے گی؟ یہ دنیا کے لئے کیا ثمرات لائیں گے؟ چودہ تاریخ کو شین جن خصوصی اقتصادی زون کے قیام کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی رہنما شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں گزشتہ 40 سالوں میں شین جن اسپیشل اکنامک زون کے ذریعہ حاصل کردہ پانچ "تاریخی کامیابیوں" کا جامع جائزہ لیا اور خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر میں حاصل کردہ تجربات کا دس نکاتی خلاصہ بیان کیا، اور نئے دور میں شین جن خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر کے لئے نئی ہدایات جاری کیں۔ صدر شی کی تقریر سے نہ صرف خصوصی معاشی زونوں کی جدید ترقی کے "راز" کا انکشاف ہوا ، اور شین جن کے لئے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کے پائلٹ مثالی زون کی تعمیر کی سمت کی نشاندہی کی گئی ، بلکہ اس نے عالمی سطح پر اصلاحات کو مزید فروغ دینے اور کھولنے اور دنیا کے ساتھ زیادہ ترقیاتی فوائد بانٹنے کے چین کے عزم کا بھی اعلان کیا گیا ۔ 

اس وقت دنیا میں بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ شین جن چین کی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کے فروغ میں مسلسل رہنما کردار ادا رکرتا رہے گا۔صدر شی جن پھنگ نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ ترقی پہلی ترجیح ہے ، ہنر مند اور باصلاحیت افراد اولین وسائل ہیں ، اورجدت ترقی کی سب سے بڑی قوت محرکہ ہے۔امید ہے کہ شین جن گہری اصلاحات اور پائلٹ ٹرائلز کے ذریعے پورے ملک کو مزید تجربات فراہم کرے گا تاکہ پورے ملک میں ان تجربات کی تقلید کی جا سکے ۔ 

اگرچہ چین کی موجودہ اصلاحات کی پیچیدگی ، حساسیت اور مشکلات 40 سال پہلے سے کم نہیں ہیں ، لیکن چین کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹےگا، اور وہ نئے اور بڑے معجزے رقم کرنے کی کوشش کرے گا ۔اس عمل میں ، چین نہ صرف دنیا سے ترقی کی قوت حاصل کرے گا، بلکہ دنیا کو بھی فائدہ پہنچاتا رہے گا۔ 

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -