وفاقی حکومت کاحصہ ہوں لیکن وزارت مذہبی امور نے ایک روپے کا کام نہیں کیا،پی ٹی آئی رکن اسمبلی رمیش کمار اقلیتی کمیشن کی تشکیل پر کیس کی سماعت کے دوران اپنی ہی حکومت پر پھٹ پڑے

وفاقی حکومت کاحصہ ہوں لیکن وزارت مذہبی امور نے ایک روپے کا کام نہیں کیا،پی ٹی ...
وفاقی حکومت کاحصہ ہوں لیکن وزارت مذہبی امور نے ایک روپے کا کام نہیں کیا،پی ٹی آئی رکن اسمبلی رمیش کمار اقلیتی کمیشن کی تشکیل پر کیس کی سماعت کے دوران اپنی ہی حکومت پر پھٹ پڑے

  

اسلا م باد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل پر کیس کی وقفے کے بعد سماعت پی ٹی آئی رکن اسمبلی رمیش کمار اپنی ہی حکومت کیخلاف پھٹ پڑے، رمیش کمار نے کہاکہ وفاقی حکومت عدالت کی جانب سے قائم کمیشن سے تعاون نہیں کررہی ،وفاقی حکومت کاحصہ ہوں لیکن وزارت مذہبی امور نے ایک روپے کا کام نہیں کیا،اقلیتی کونسل کیلئے بل وزیر مذہبی امور کو دیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا، وفاق نے کمیشن بنایاجس کے بعد صوبوں نے بھی الگ کمیشن بنا دیئے ۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق سپریم کورٹ میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل پر کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی،جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ سیکرٹری مذہبی امور کہاں ہیں،جوائنٹ سیکرٹری ارشد فرید نے کہاکہ سیکرٹری صاحب اسلام آباد میں نہیں اس لیے پیش نہیں ہوئے۔

پی ٹی آئی رکن اسمبلی رمیش کمار اپنی ہی حکومت کیخلاف پھٹ پڑے، رمیش کمار نے کہاکہ وفاقی حکومت عدالت کی جانب سے قائم کمیشن سے تعاون نہیں کررہی ،وفاقی حکومت کاحصہ ہوں لیکن وزارت مذہبی امور نے ایک روپے کا کام نہیں کیا،اقلیتی کونسل کیلئے بل وزیر مذہبی امور کو دیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا، وفاق نے کمیشن بنایاجس کے بعد صوبوں نے بھی الگ کمیشن بنا دیئے ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ عدالتی فیصلے کے مطابق نصاب اورملازمین سے متعلق کیا اقدامات ہوئے؟ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں اقلیتوں کی 108 عبادتگاہوں کو سکیورٹی دی گئی ، چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ کاغذی کاررروائی سے کچھ نہیں ہوگا۔

عدالت نے وزارت مذہبی امور کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہمیں مفصل رپورٹ دیں جس میں تمام چیزوں کی معلومات ہوں ،آپ نے کمیشن تو بنادیا مگرکمیشن نے کیا کام کیاوہ بھی تو بتائیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ کو بتانا ہوگا کس علاقے میں کون کون سی کمیونٹی رہتی ہے،یہ بھی بتائیں کس کمیونٹی کو کیا فائدہ ہو رہا ہے، جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کمیشن مینڈیٹ کے مطابق کام کرے۔

ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امورارشدفریدخان نے کہاکہ ہم نے نئی تعیناتیاں کی ہیں،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ یہ توبتائیں کس گوردوارےکس مندرمیں کون لوگ تعینات کیے ہیں،آپ کوزمین تک جاناپڑےگا،ایسے نہیں ہوگاکہ صرف کہہ دیا،کردیاکام،اس کمیشن کے کیا ثمرات ہیں بتانا ہو گا،صرف کمرے میں بیٹھ کر لکھ دیا کہ کام ہوگیا ایسے نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ اگر آپ کہیں چینی سستی کردی،مارکیٹ میں105روپے ملے تو کیا فائدہ،ہم نے اپنے فیصلے میں جن چیزوں کی نشاندہی کی ان پر کام ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے تعلیم اور مذہبی امور کے سیکرٹری کو 23 اکتوبر کو طلب کرلیا،عدالت نے کہاکہ دونوں سیکرٹریز تمام عملی اقدامات کی تفصیلات ریکارڈ سمیت پیش کریں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عدالتی فیصلے فائلوں میں رکھنے کیلئے نہیں ہوتے، فوائد عوام تک پہنچائیں گے ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -