"عمران خان مانیں یا نہ مانیں، وہ مریم نواز کے محسن بن چکے ہیں" حامد میر نے حیران کن انکشاف کردیا

"عمران خان مانیں یا نہ مانیں، وہ مریم نواز کے محسن بن چکے ہیں" حامد میر نے ...

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ میانوالی میں تحریک انصاف کا جلسہ تھا اور میں عمران خان کیساتھ جا رہا تھا، وسیم اکرم کے سوال پر  میں نے جواب میں کہا کہ کل رات کو وزیراعلیٰ شہباز شریف سے پوچھا تھا کہ آپ میانوالی کا جلسہ روکیں گے تو نہیں، اُنہوں نے کہا میں پاگل ہوں کہ جلسہ روک کر عمران خان کو ہیرو بنائوں۔ روزنامہ جنگ میں انہوں نے مزید لکھا کہ عمران خان مانیں یا نہ مانیں لیکن وہ مریم نواز کے محسن بن چکے ہیں۔ اُنہوں نے مریم نواز کو ایک قد آور لیڈر بنا دیا ہے اور نون میں سے شین نکالنے کی سب کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ عمران خان کی حکومت نے پہلے پہل یہ کریڈٹ لینے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی تقریر ٹی وی چینلز پر دکھانے کی اجازت دے کر بہت وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا، بعد میں نواز شریف پر پابندی لگا دی گئی۔ ایسی ہی پابندی گزشتہ سال آصف علی زرداری کے انٹرویو پر لگائی گئی تھی۔ نواز شریف کی تقاریر پر پابندی اور اپوزیشن کا راستہ کنٹینروں سے روکنے کی کوشش دراصل حکومت کی کمزوری کا اعتراف ہے۔

ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن کو جلسوں کی مکمل آزادی ہے، دوسری طرف گوجرانوالہ شہر کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے اور اپوزیشن کے بینر ہٹائے جا رہے ہیں۔ چند ہفتے پہلے تک یہ تاثر تھا کہ مسلم لیگ ن میں دو گروپ ہیں۔ ایک گروپ کے قائد شہباز شریف ہیں اور دوسرے گروپ کی قائد مریم نواز ہیں لیکن عمران خان کی حکومت نے اِس تاثر کی نفی کر دی ہے۔ شہباز شریف اور اُن کے خاندان پر ایسا ایسا مقدمہ بنایا گیا کہ مریم نواز اپنے چچا کے حق میں چیخنے لگیں اور اب مریم نواز کی جاتی امرا میں رہائش گاہ کے باہر بھی کنٹینر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک اندر کی خبریں باہر لانے والے بڑے صحافی کہلاتے تھے، آج کے اکثر بڑے صحافی اندر کی خبریں چھپانے میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ جو بھی اندر کی خبر باہر لاتا ہے، وہ غدار اور لفافہ کہلاتا ہے۔ وہ عمران خان جو ہمیں کہا کرتے تھے کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو کبھی اپوزیشن کا جلسہ نہیں روکیں گے، اُن کے دورِ حکومت میں اپوزیشن کے جلسوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری ریاستی مشینری متحرک ہے،آنے والے دنوں میں حکومت کو کشمیری قیادت کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے"۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -