"واقف نہ تھی ذرا بھی اتنے بڑے جہاں سے"

"واقف نہ تھی ذرا بھی اتنے بڑے جہاں سے"

  

بچپن کے امتحانوں میں ایک سوال کثرت سے آتا تھا کہ ، " اپنے پسندیدہ استاد " پر مضمون قلم بند کریں مگر اس وقت استاد کی قدرو قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا بلکہ یقین مانیں اس وقت تو استاد کوئی اچھی مخلوق کا باشندہ بھی معلوم نہیں پڑتا ۔ جب استاد کےصحیح معنی سمجھ آنے لگتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ کسی استاد کی شان ، عظمت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا ذخیرہ بھی بے معنی ہے۔ استاد کی ہستی کو الفاظ کے موتیوں میں پڑو کے لکھنا انتہائی دشوار ہےمگر میں آج یہ جسارت کر رہی ہوں اور اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو لے کر اپنے استاد کو بیان کرنے کی ایک ناکام کوشش کرنے والی ہوں۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ !

اے دوستو ملیں جب تو بس اک پیام کہنا 

استاد محترم کو میرا عقیدت بھرا  سلام کہنا 

کتنی محبتوں سے تھا  پہلا سبق پڑھایا 

میں کچھ نہ جانتا تھا لیکن سب کچھ سکھایا

اَن پڑھ تھا اور جاہل ، قابل مجھے بنایا

دنیائے علم و دانش کا رستہ مجھے دکھایا 

اگر کسی نے مجھ سے کبھی پوچھا تو مجھے نہیں لگتا کہ میں کسی ایک ایسی چیز کی نشاندہی کرواہ سکتی ہوں جو میرے بچپن کی نمائندگی کر سکے۔ کھیل کھیلنا ، اسرار کو پڑھنا ، میرے پسندیدہ سپر ہیروز کا ہونا اور بہت سارے کارٹونز  دیکھنا میری زندگی کے سب سے بڑے حصے تھے تاہم  ایک ایسی چیز تھی جس نے میرے بچپن کی سب سے زیادہ وضاحت کی ہے۔ وہ ہے "سیکھنا" سیکھنے کے بارے میں کچھ ایسی بات تھی جس نے مجھے زندہ محسوس کیا۔ بعض اوقات ، میں لفظی طور پر ایک سپنج تھی ، سیکھنے کو ملنے والی ہر چیز لینا میرا شوق تھا۔ جو بے حد بے چین تھا  اور میں اپنی خوش قسمتی سے اپنی زندگی میں ایک عظیم تعلیم حاصل کرسکی ۔ میری رائے میں بھی ہر طالب علم اعلی تعلیم حاصل کرنے کا مستحق ہے  لیکن ہمیں ایک ایسا ماحول ملا جس میں سیکھنے کا عمل کہیں دور رہ گیا اور یاد کرنے ، پڑھنے کو فوقیت مل گئی۔ مقصد صرف اور صرف اچھے نمبر لینا تھا ۔ ایک لمبا عرصہ اسی مقصد کہ ساتھ گزر گیا ۔ سکول ، کالج کی بھاری بھرکم فیسوں کی ادائیگی ، ٹیوشنز کی پابندی مسلسل گریڈز بڑھتے جانے کا پریشر گویا اس سب نے ذہنی کیفیت کو کبھی کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ کبھی استاد کی اہمیت ، سکول کی اہمیت ، کو سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیا، یہ سب باتیں بے معنی سی لگتی تھیں۔

پرنسپل کی تقریر اور کتابوں میں لکھے ہوئے مضامین جیسی لیکن پھر۔۔۔۔۔۔ عمر کا ایک حصہ آتا ہے۔ جوانی کے سالوں میں سے وہ سال آتا ہے جب ہم اپنی انتہائی کمزور حالت میں ہوتے ہیں ، جب ہم خود کو بالغ سمجھ کر دنیا سے آگے نکلنے کی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں ۔اس وقت کچھ ایسے لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ہماریے غیر یقینی صورتحال کے لمحوں میں ہماری مدد کرتے ہیں، یہ لوگ کوئی بھی ہوسکتے ہیں، دوست ، والدین ، ​​بہن ، بھائی اور ایک استاد۔ یہاں بات اگر ایک استاد کی کریں تو استاد صرف ایک معلم نہیں ہوتا وہ تمام کردار ادا کرتا ہے۔ ایک دوست کا ،ایک مشیر کا، ایک معلم کا ، ایک رہنماء کا اور ایک سرپرست کا ، ہمارا سب سے اچھا دوست ایک استاد ہی ہو سکتاہے،استاد ہمارے لئے سب کچھ ہیں،ہمارے لیے مثال ہیں زندگی کی،وہ ہمیں زندگی کی سڑکوں پرچلناسیکھاتے ہیں۔آج ایک سطر سامنے سے گزری اور اس نے میری توجہ اس طرف راغب کی کہ "اچھے استاد کا اثر کبھی بھی مٹ نہیں سکتا"۔

یہ الفاظ مجھےاپنی یونیورسٹی میں لے گئے،جہاں میرے ایک استاد پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسنین تھے جو کہ میرےاساتذہ کی فہرست میں بےنظیر ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پہلے کبھی کوئی اچھا ٹیجر نہیں ملا۔ قسمت سے کوئی گلہ نہیں ہر بار زندگی نے ایسے استاد دیے جنہوں نے ڈگری کے نمبروں میں اضافہ کروایا، بورڈ کے امتحانوں میں اول فہرست تک لانے کی ہر ممکنہ کوشش کی، جس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ انہیں کی بدولت یہاں تک کا سفر مکمل کیا، ان کی محنتوں اور کاوشوں سے کوئی گلہ نہیں ، ان کے بہت احسانات ہیں۔انہوں نے کتاب پڑھنا اور صفحے پر لکھنا سیکھایا ۔ انہوں نے اپنے قدموں پر کھڑے ہوکر چلنا سیکھایا، بےشک میرے تمام اساتذہ کا کوئی نعم البدل نہیں مگر یہاں مخصوص یونیورسٹی کی بات اس لیے کی کہ اس مکتب نے مجھے اڑنا سیکھایا ۔ یہاں میرے استاد پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسنین  جو کہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کا انداز  تدریس انتہائی دلچسپ اور مختلف ہے،وہ کبھی پڑھاتے نہیں تھے بلکہ وہ اس چیز کے مطلق اپنے طلباء کا نظریہ جانتے تھے اور پھر اسی گفتگو میں وہ سارے نظریات کا خلاصہ پیش کرتے اور ہر پہلو روشن ہوتا چلا جاتا۔ ان کا یہ انداز انتہائی منفرد تھا ۔ پیچیدہ تصورات کو آسان الفاظ میں سمجھانا ان کا معمول تھااور ان کا یہ طریقہ کبھی کبھی حیرت میں ڈال دیتا ۔ انہوں نے کبھی نہیں کہا  کہ آج ہم یہ پڑھیں گے ! کبھی انہوں نے نہیں کہا  کہ آپ کو یہ یاد کرنا ہےاور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی موجودگی میں تعلیم کبھی بوجہ نہیں لگی۔

ان کے مضمون کے لیے کبھی راتیں نہیں کاٹنی پڑی ، کبھی صفحے نہیں کالے کیے۔ انہوں نے پڑھایا نہیں صرف سیکھایا تھا۔ انہوں نے صرف ہمارے مشاہدات کی درستگی کی۔ بہر حال صرف اس تدریسی انداز کی وجہ سے وہ میرے پسندیدہ اساتذہ میں قد آور نہیں ہوتے کیوں کہ میں نے اپنی طالب علمی کی زندگی میں بہت سے حیرت انگیز اساتذہ سے ملاقات کی جن کی تدریس کا انداز قابل ذکر ہے۔ میرے خیال کے مطابق تعلیمی سلسلہ میں ، سب سے زیادہ طاقتور طالب علم اور اساتذہ کے مابین ایک رشتہ ہوتا ہے اور اس تعلق کی وجہ سے تعلیمی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور طلبہ بااختیار بنتے ہیں جو چیز میرے پسندیدہ استاد کی فہرست میں ان کو شامل کرتی ہے وہ ہے ان کا انداز ۔۔۔۔۔ اندازِ گفتگو ، اندازِ بیاں بانی ، ان کے نظریات ، ان کا مثبت رویہ ، ان کی منفرد سوچ گویا میرے مطابق وہ اس دنیا کے اہم ترین لوگوں میں شامل ہوتے ہیں  جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کے سایہ شاگردی میں اندھیرے کا کوئی تصور ہی نہیں ،مایوسیاں گمنام ہیں ، زوال کا سوال ہی نہیں اٹھتا ، تکلیف کا کوئی وجود نہیں ، درد کی کوئی تصویر نہیں ، عروج کسی مشکل کا نام نہیں ، منزل کبھی دور نہیں ملتی ۔ ان کے لیے پرجوش رہنا ،خوش رہنا اور ہمیشہ پر امید رہنا زندگی کا اولین مقصد ہے۔

ایک بات جو انتہائی دلچسپ ہے وہ یہ کہ ان کے سامنے جدوجہد کی تعریف اپنی حیثیت کھو بیٹھتی ہے ۔ اپنی مرضی سے انتخاب کی ہوئی منزل تک پہنچنے والی محنت جدوجہد تو نہ ہوئی۔ آخر جس کام کو کر ہی اپنی خوشی کے لیے رہے ہیں تو اس کام میں تھکنا کیسا  اور اس محنت کو کوئی کٹھن کام سمجھنا بھی بےوقوفی ہے۔ اس محنت کو نہ ہی اس قابل سمجھا جائے جس کو لوگوں کو بیان کیا جائےاور تعریفیں سمیٹی جائے۔ ان کے مطابق ہر کام اپنی خوشی کے لیے کریں بغیر کسی غرض کے ، بغیر کسی لالچ کے ،مقصد صرف اور صرف اپنی خوشی ہو اور یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی بھی نہیں تھکے ہمیشہ اپنے طالب علموں کو خوش مزاج موڈ میں ملتے ۔

آپ وہ استاد ہیں جو ہمیشہ اپنے طلباء کے ذہن کو مثبت انداز میں پروان چڑھاتے ہیں۔ اساتذہ جو لوگوں کو زندگی کی سب سے اہم تعلیمات دیتے ہوئے طلبا کو ترقی کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ والدین کے بعد اساتذہ ہی تربیت کا وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ وہ روحانی ہستی ہیں جو دھات کو کندن، پتھر کو ہیرا، بنجر زمین کوزرخیز اور صحرا کوگلستاں بناتے ہیں،اگرچہ میرے نزدیک ان کی تعریف کرنے کے لئے الفاظ کافی نہیں ہیں مگر میں ان کے لیے دل سے ہمیشہ دعا گو ہوں۔ جب میں دعا کے لئے خلوص دل سے ہاتھ اٹھاتی ہوں تو میں ان کو ہمیشہ یاد کرتی ہوں اور میں اللہ تعالی کی بہت شکر گزار ہوں اور خود کو شکرگزار محسوس کرتی ہوں کہ آپ کو اپنی زندگی میں استاد کی حیثیت سے پایا ۔ اللہ رب العزت ان کا شفیق سایہ ہم سب پر رکھے اور ان کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ آمین

(رابعہ سلطان مائیکرو بیالوجسٹ ہونے کے ساتھ  نوجوان لکھاری ہیں جو مختلف سوشل ایشوز پر بڑے دبنگ انداز میں وقتا فوقتا لکھتی رہتی ہیں ،فیڈ بیک کے لئے اُن سے rabiamalik78112@gmail.com   پر  براہ راست رابطہ کیا جا سکتا ہے)

   

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -