مولانا کا سیاسی بیانیہ اور مذہب کارڈ.....

مولانا کا سیاسی بیانیہ اور مذہب کارڈ.....
مولانا کا سیاسی بیانیہ اور مذہب کارڈ.....

  

سائنس کے"قانون دان" وزیر فواد چودھری نے" شوشہ "چھوڑا ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں میں مذہب کارڈ اصل چیلنج ہے...صاف ظاہر ہے اُن کا اشارہ مولانا کی طرف ہے.....جاننے والے جانتے ہیں کہ مبینہ "مذہبی کارڈ "سے مولانا کا سیاسی بیانیہ زیادہ جاندار ہے .. .. حزب اختلاف جماعتوں کے گرینڈ الائنس پی ڈی ایم کے پہلے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ ماہ پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اے پی سی سےخطاب کرتےہوئےبہت سی باتوں کے علاوہ ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ ہم شریعت چاہتے ہیں مگربندوق کےزورپر نہیں .....یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مولانا اپنے والد گرامی مفتی محمودؒ  کی طرح اسلام پسند سیاسی رہنما ہیں....آئین کے دائرے میں سیاسی جدوجہد کے ذریعے نفاذ اسلام کے حامی ....عسکریت پسندی اور کلاشنکوف کلچر کے مخالف ہیں......یہی مولانا کا سیاسی بیانیہ ہے....

اے پی سی میں نفاذ شریعت کے طریقہ کار کے اعادے نے مولانا سے کوئی بارہ سال پہلے ہوئی ایک "جارحانہ ملاقات" یاد کرادی . ...2008میں ایڈیٹر انچیف جناب نجم سیٹھی کی زیرادارت لاہور ..اسلام آباد اور کراچی سے منفرد قومی اردو اخبار " روزنامہ آج کل "کی اشاعت کے کچھ دن بعد میرے عزیز از جان دوست ایڈیٹر جناب تنویر عباس نقوی کہنے لگے دہشتگردی کی اس بدبودار فضا میں مولانا فضل الرحمان کا انٹرویو ہوجائے تو یہ خوشبو کا جھونکا ثابت ہوگا......پرانے دوست نعیم احمد ضیا کی وساطت سے لاہور میں ہی مولانا کی" زیارت" کا بندوبست ہوگیا.....یہ انٹرویو کم مکالمہ زیادہ تھا...... وحدت روڈ پر جناب ریاض درانی کے گھر سردیوں کی ایک شام چٹائی پر بیٹھے مولانا نے سخت سوالوں کا کمال خندہ پیشانی سے جواب دیا..... میرے ساتھ ایک دینی اخبار کے مدیر بھی تھے.....میں نے تعارف کرایا تو مولانا کا پارہ چڑھ گیا اور کہا کہ پہلے ان سے کہیں کہ اپنے" اسلام "کا "قبلہ "درست کریں کہ یہ "کسی" کے کہنے پر ہمارا ہی "میڈیا ٹرائل "کر رہے ہیں....

میں نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کی حضرت یہ صاحب نئے نئے لاہور آئے ہیں اور آپ کی محبت میں ادھر آگئے ہیں ...... خیر تھوڑی دیر میں صورتحال نارمل ہوگئی... میں نے شکریے کے ساتھ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ کے مسلک کے لوگ کہتے ہیں کہ عین اس وقت جب لال مسجد آپریشن ہورہاتھا آپ اپنے لوگوں کو "آگ وخون" میں چھوڑ کر لندن اے پی سی میں جا بیٹھے... ..آپ کے اس عمل سے دینی حلقے جناب سے شدید ناراض ہیں.....وہ مسکرائے اور کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ کل مولانا عبدالعزیز کو اڈیالہ جیل سے ریسٹ ہاؤس کون چھوڑ کر آیا؟....اور پھر اپنی طرف اشارہ کر کے کہا یہ ہے وہ خاکسار....بولے بات نکلی ہے تو ایک بات اور سن لیں کہ میں چل کر مولانا عبدالعزیز کے پاس گیا اور سمجھایا کہ خفیہ والوں کا "باریش بریگیڈ" چھ مہینے سے لال مسجد میں ڈیرے ڈال چکا ہے..... مسجد اور جامعہ حفصہ کاکنٹرول وفاق المدارس کے حوالے کردیں...گارنٹی دیتا ہوں سب کچھ آپ کو واپس مل جائے گا.....

انہوں نے میرے ساتھ اتفاق کیا....پھر ناجانے کیا ہوا کہ وہ اپنی بات سے مکر گئے...مجھے بتاؤ کہ اس میں میرا کیا قصور ہے....؟؟؟ پھر گویا ہوئے آپ میرے مسلک کے وکیل بنتے پھرتے ہو تو جاؤ ان علماء سے پوچھ لو کہ سیاست کرنی ہے یا جہاد؟؟؟میں بھی ان کے ساتھ چل دیتا ہوں.....لیکن پھر مسائل حل نہیں ہونگے.... گلیاں سڑکیں نہیں بنیں گی....نوکریاں نہیں ملیں گی......کاروبار زندگی نہیں چلے گا...یاد رکھیں کہ نفاذ شریعت کے لئے پارلیمنٹ بہترین راستہ ہے......بندوق اور کلاشنکوف کے ذریعے اسلام کبھی نافذ نہیں ہوسکتا......دین کے نام پر اپنے ہی ملک میں عسکریت پسندی..اور...مسلح جدوجہد کو جائز نہیں سمجھتا....جمہوری جدوجہد پر یقین ہے..... سیاست میں مکالمہ ہوتا ہے تصادم نہیں اور مکالمہ ہی ہر مسئلے کا آخری حل ہے.......

مولانا نے اپنے بیانیے کے حق میں دلائل کے انبار لگادیے ....وحشت کے اس زمانے میں دہشت گردی کیخلاف اتنے "واضح سٹینڈ "کو دیکھ کر نقوی صاحب بولے یہ ہوئی نا بات..... ایسی گفتگو صرف اور صرف مولانا فضل الرحمان ہی کر سکتے ہیں......اے پی سی میں مذکورہ موقف کے بعد مجھے یہ گواہی دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ پچھلے بارہ سال میں مولانا نے اپنے بیانیے سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا.....تب سے اب تک وہ اپنے ایک ایک لفظ پر قائم ہیں.....دراصل یہ بیانیہ انہیں گھٹی میں ملا....جب کچھ لوگوں کی "سیاسی آنکھیں" بھی نہیں کھلی تھیں تب ان کے والد گرامی خیبر پختونخوا کے دبنگ وزیر اعلی تھے....یہی وجہ ہے جس نظریاتی محاذ پر مفتی محمودؒ انہیں چھوڑ کر گئے تھے وہ پورے قد کے ساتھ ادھر ہی پہرہ دے رہے ہیں.....ویسے بھی جس بندے کی سیاسی دستار بندی بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان ایسی عظیم سیاسی شخصیت نے کی ہو اس کو ایسا ہی جمہوریت پسند ہونا چاہئیے......یہ اسی سیاسی تربیت کا ثمر ہے کہ وہ آج مفتی محمود اور نوابزادہ نصراللہ کے مقام پر کھڑے نظر آرہے ہیں........

انہوں نے کسی اجتماع میں اپنے اس بیانیے کا اظہار کچھ یوں کیا تھا .....

میں انقلاب پسندوں کی اک قبیل سے ہوں

جو حق پہ ڈٹ گیا اس لشکر قلیل سے ہوں

میں یوں ہی دست و گریبان نہیں زمانے سے

میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں

"ریاست دوست" اس بیانیے کی ملک کو پہلے سے زیادہ ضرورت ہے...ہمارے مقتدر حلقوں کو ایسے "سٹیٹ فرینڈلی نیریٹو" والے لوگوں کی قدر کرنی چاہئیے کہ یہ شدت پسند فکر کے سامنے بڑی رکاوٹ ہے...اب بات کرتے مذہبی کارڈ کی تو عرض ہے کچھ لوگ جس مذہبی کارڈ کا رونا روتے ہیں وہ تو اصل میں اسلامی شناختی کارڈ ہے....ایک مسلمان کی پہچان کے لئے جتنے لازمی ارکان ہیں انہیں اس اسلامی کارڈ کے فیچرز کہا جا سکتا ہے...کسی ایک فیچر کے بغیر کارڈ نہیں چلے گا...اللہ کی وحدانیت...رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان . ...نماز.....حج ....روزہ ،زکوۃ وغیرہ کا برملا اقرار اور اظہار مسلمان کے لئے شرمندگی نہیں عزت کاباعث ہے.

سادہ سا اصول ہے جس طرح سائنس ....ادب اور تاریخ کا سکالر اپنے شعبے کی بات کرنے کا مجاز ہے.....اسی طرح ایک عالم دین کو قرآن و حدیث کی بات کرنے کا پورا حق ہے.....صاف ظاہر ہے وہ منبر یا سٹیج پر اپنے خطاب..تقریر یا لیکچر کا آغاز اللہ اور رسولﷺ کے نام سے کرے گا....توحید و سیرت بیان کرے گا اور کتاب وسنت سے حوالے بھی دے گا.....اس میں مذہبی کارڈ کہاں سے آگیا؟؟؟؟ویسے پھر بھی یہ کارڈ دریافت کر لینا واقعی وزیر سائنس کا کمال ہے.....یہی وہ بات ہے جو مولانا فضل الرحمان پر فٹ کرکے مذہبی کارڈ کا واویلا کیا جاتا ہے..۔حالانکہ سیدھی سی بات ہے جس بندے نے دینی درسگاہوں سے تعلیم حاصل کی ہو... علما اور مشائخ کے قدموں میں زندگی بتادی ہو.....وہ دین کی بات نہیں کرے گا تو کیا شیخ رشید کریگا؟

مولانا عالم ابن عالم اور بڑے بڑے علمائے کرام مولانا کو اپنا سیاسی امام مانتے ہیں...بڑے بڑے مشائخ ان کے لئے دعا گو رہتے ہیں .....وہ عرب وعجم کے روحانی بزرگوں سے وابستہ ایک با ادب بوریا نشین آدمی ہیں....میں نے انہیں کندیاں شریف کی خانقاہ میں خواجہ خان محمدؒ.....مکہ مکرمہ میں مرشد خانے پر مولانا عبدالحفیظ مکیؒ اور ترنول کی مسجد میں مولانا عزیز الرحمان ہزارویؒ کے قدموں میں بیٹھ کر فخر محسوس کرتے دیکھا ہے...مولانا کی عزت اسی دینی بیانیے سے ہے ...وہ اپنی اس اساس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟؟؟؟ عالمی شہرت یافتہ نعت گو شاعر جناب سید سلمان گیلانی ایک معتبر اور مستند آدمی ہیں.... وہ مولانا کے معتمد خاص بھی ہیں اور عقیدت مند بھی...

اپنے ایک بلاگ میں انہوں نےمولانا سے ختم نبوتﷺ بارے ایک واقعہ منسوب کرتے ہوئے اسے مولانا کی کرامت قرار دیا.

..کرامت تو اللہ ہی جانے لیکن یہ بات سچ ہے کہ مولانا اللہ والوں سے فیض یاب ضرور ہیں.....

سید سلمان گیلانی کی زبانی وہ ایمان افروز واقعہ سنئیے........شاہ صاحب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ پرویز الہی کی وزارت اعلی کے دور میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اوپن ہارٹ سرجری کرنے والےپاکستانی نژاد امریکی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر مبشر اپنی اہلیہ سمیت قادیانیت سے تائب ہو کر آقا کریمﷺ کے دامن رحمت میں پناہ لے چکے ہیں......میرے خیال میں مولانا سے منسوب یہ واقعہ جہاں ان کے دینی بیانیے کا عکاس ہے وہاں اس زمانے میں اٹھے بہت سے تلخ سوالوں کا ٹھوس سا جواب بھی ہے....... بہر حال مولانا نے دین اور سیاست میں کبھی اعتدال کا دامن نہیں چھوڑا...وہ ائین کے اندر مسائل کا حل چاہتے ہیں.....وہ ٹکرائو نہیں سلجھائو والے آدمی ہیں...اب بھی وہ پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں نہ کہ کسی مسجد کےموذن اور امام وخطیب.....وزیر سائنس جمع خاطر رکھیں کہ وہ اس پلیٹ فارم سے اذانیں یا خطبے نہیں دینگے بلکہ مفتی محمود اور نوابزادہ نصراللہ کی طرح شہر شہر خوب گرجیں برسیں گے اور سیاسی دائو پیچ سے حکومت کیلئے چیلنج بنیں گے....!!!!

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -