شخصیات اور ان کی یادیں!

 شخصیات اور ان کی یادیں!
 شخصیات اور ان کی یادیں!

  

بعض امور ایسے ہیں کہ میں ذاتی طور پرسستی کا مظاہرہ کر گزرتا ہوں کہ مجھے تعزیتی کالم لکھنا ہی نہیں آتا، حتیٰ کہ میں عام حضرات کی طرح تعزیت کا اظہار بھی نہیں کر پاتا کہ مجھے بعض باتیں بالکل رسمی لگتی ہیں، بہرحال یہ رسم دنیا اور دستور بھی ہے کہ جانے والے چلے جاتے اور یادیں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، دانشور، بیورو کریٹ ڈاکٹر صفدر کا انتقال ہوا تو حقیقتاً ایک صدمے والی کیفیت تھی، اگرچہ میری ان سے ملاقات تو ایک دوبار ہی ہوئی وہ پنجاب میں سیکرٹری تھے تو پیشہ ورانہ حوالے سے ایک دوبار ان کی گفتگو سنی، بعد میں بھی کسی تقریب کی کوریج کے دوران ان کی تقریر رپورٹ کی، تاہم وہ ملاقات یاد ہے، جب اپنے استاد محترم سید اکمل علیمی (مرحوم) کے ساتھ ان سے ملا، ان دونوں کے درمیان گہرے تعلقات تھے۔ جب اکمل صاحب امریکہ منتقل ہو کر ورجینیا میں رہتے تھے تو ڈاکٹر صاحب جب کبھی امریکہ گئے تو شاہ جی کے ہاں ضرور ٹھہرے، چنانچہ ان کے درمیان عام رسمی گفتگو کے علاوہ ادبی اور حالات حاضرہ پر بھی بات چیت سنی۔ یہ دلچسپ اتفاق ہی تھا کہ دونوں حضرات تحمل سے بولنے کے عادی تھے، چنانچہ جب بھی ڈاکٹر صفدر کو سننے کا موقع ملا، انہوں نے متاثر کیا۔

براہ راست ملنے سے زیادہ میں ان کو ان کی تحریروں سے جانتا ہوں کہ جب سے انہوں نے کالم نویسی شروع کی میں ان کو دلچسپی سے پڑھنے والے قاریوں میں شمار کیا جا سکتا ہوں۔

ان کی تحریریں حقائق پر مبنی ہونے کی وجہ سے قاری کو یقین پر مجبور کرتی تھیں، ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک، قیامِ پاکستان اور بانی پاکستان پر اتھارٹی تھے۔ ایک تو وہ تحریک پاکستان کے خود شاہد ہیں، دوسرے وہ پڑھتے اور تحقیق بہت کرتے تھے اس لئے ان کی شہرت بھی تحقیقی مقالہ / کالم نگارکی ہو گئی تھی۔ وہ بڑے حساس تھے اور جب بھی کسی کی طرف سے بانی پاکستان یا تحریک پاکستان کے حوالے سے کوئی غیر حقیقی بات سامنے آتی تو وہ باقاعدہ حوالوں سے جواب دیتے تھے۔ میں نے ان کی قرارداد مقاصد، قائداعظم کی 11ستمبر والی تقریر اور بانی پاکستان کی بطور سٹیٹ چیف ایگزیکٹو تحریریں دیکھیں وہ بہت ہی متاثر کن ہیں۔ دکھ یہ رہا کہ ڈاکٹر صفدر کی کتابیں نہ پڑھ سکا، تاہم اب ان کی تازہ ترین تصنیف ”سچ تو یہ ہے“ زیر مطالعہ ہے دو کتابیں اور بھی ہیں، یہ تینوں کتابیں علامہ عبدالستار عاصم نے تحفہ کے طور پر بھیج دی ہیں، ان شاء اللہ میں ضرور مستفید ہوں گا۔

ڈاکٹر صفدر محمود کے بارے میں یہ طے شدہ امر ہے کہ وہ بہت پڑھتے اور تحقیق کرتے تھے، ان کی اسی صفت کی وجہ سے مجھے اپنے سینئر صفدر میر (مرحوم) بھی یاد آتے ہیں۔ اگرچہ ہر دو کا دائرہ تحریر و تحقیق تھوڑا سا مختلف رہا، تاہم صفدر میر بھی اپنی تحریریں تحقیقی بنیاد پر مثالیں دے کر ہی لکھتے تھے، میں نے صفدر میر کے گھر ان کی لائبریری دیکھی اور وہاں کچھ وقت گزارنے کا بھی موقع ملا تو اس کمرے میں کتابوں کی تعداد ان گنت تھی۔ ان کا شمار مشکل تھا، پھر میں نے جو بھی کتاب اٹھائی اس کے حاشیوں پر صفدر میر (مرحوم) کے ہاتھوں سے کچھ نہ کچھ لکھا پایا، وہ پاکستان ٹائمز میں ”زینو“ کے قلمی نام سے لکھتے تھے اور ان کی تحریر / کالم تہلکہ خیز ہوتے تھے۔ اتفاق اور اختلاف اپنی جگہ تاہم صفدر میر بھی بات کسی حوالے کے بغیر نہیں کرتے تھے۔

یہ تو خیر ہمارے سینئر حضرات کی یاد ہے، جس کا ذکر ہوا، اب ایک اور سینئر جو بزرگوں کی صف میں شامل ہو گئے ان کا ذکر بھی مقصود ہے۔ رحیم اللہ یوسف زئی بھی ایک تحقیقی صحافی اور افغان / قبائلی امور پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان سے میرا واسطہ ٹریڈیونین کے حوالے سے رہا، وہ بھی کیا وقت تھا، جب کوئی اختلاف نہیں تھا اور رحیم اللہ یوسف زئی موجودہ صوبہ کے پی کے میں نمایاں ترین ساتھی تھے اور جدوجہد سے کبھی گریز نہ کرنے والے تھے، وہ ایک اہل اور قابل صحافی تھے، اس حیثیت سے وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے کبھی غفلت نہیں برتتے تھے لیکن پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جدوجہد میں بھی نمایاں مقام رکھتے، جب بھی پینل بنتا اور الیکشن ہوتا، رحیم اللہ یوسف زئی از خود پسند کے دائرے میں آتے تھے۔ اس حوالے سے ایک الیکشن کا ذکر غیر متعلق نہ ہوگا، یہ تب کی بات ہے جب ٹریڈ یونین پر زوال تو شروع ہو چکا تھا، تاہم ابھی ہمارے رہنما حیات تھے، پشاور میں پی ڈی ایم کا انعقاد اور الیکشن تھے۔ رحیم اللہ یوسف زئی الیکشن کمیٹی کے چیئرمین تھے، کاغذات نامزدگی داخل ہوئے تو میں نے نائب صدر، جائنٹ سیکرٹری اور رکن مجلس عاملہ کے لئے کاغذات داخل کرائے کیونکہ طریق کار کے مطابق جو ہماری طرف سے صدر کا امیدوار ہوتا،

اسے یہ اختیار تھا کہ وہ میٹنگ بلا کر فیصلہ کر دے کہ کون، کس نشست پر امیدوار ہوگا، سب امیدوار دستبرداری کی تحریریں لکھ کر جمع کرا دیتے تھے۔ معمول کے مطابق خیال تھا اور تاثر بھی دیا گیا کہ مجلس عاملہ کے انتخاب میں حصہ لوں گا، تاہم جب ابتدائی فہرستیں لگیں تو احمد حسن علوی (مرحوم) نے مجھے بلا کر کہا تمہارا نام کہاں ہے؟ میں نے فہرست دیکھی تو نام نہیں تھا، اپنے صدارتی امیدوار آئی ایچ راشد سے پوچھا تو انہوں نے کہا ”میں نے سمجھا کہ تم نے الیکشن نہیں لڑنا، میں نے سب کاغذات (واپسی) جمع کرا دیئے۔ مجھے صدمہ ہوا اور میں نے ایک درخواست لکھ کر رحیم اللہ یوسف زئی کو دی کہ غلطی سے سب ہوا، انہوں نے تمام تر تعلق کے باوجود میری درخواست مسترد کر دی کہ آپ کے دستخط اور تحریر پہچانتا ہوں، اللہ ان کی بھی مغفرت فرمائے۔

پرویز ملک تو ایک ایسے شخص تھے جو جب بھی ملتے، مسکراہٹ سے دل موہ لیتے مجھے نہیں یاد کہ کبھی میں نے فون کیا ہو تو انہوں نے نہ سنا یا پہچانا نہ ہو، ان کے ساتھ تعلق کی تو کئی پرتیں ہیں، تاہم ملاقات اور دستی اپنی جگہ تھی، ان کی نماز جنازہ اور پھر قران خوانی میں لوگوں کی شرکت ان کی مقبولیت کی گواہ ہے۔ یہاں بڑے بڑے سانحہ ہوئے، اچھے لوگ رخصت ہوئے اور ان کی عدم آباد رخصتی کے مواقع پر جانے کا اتفاق ہوا، پرویز ملک کی رخصتی کا انداز اپنا تھا، کارکنوں کی اتنی بھاری تعداد ہی اس امر کی شہادت ہے کہ وہ مقبول تھے، اللہ سے ان کے لئے بھی مغفرت کی دعا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -