گوادر میں پاگلوں کا ہوٹل

گوادر میں پاگلوں کا ہوٹل
گوادر میں پاگلوں کا ہوٹل

  

گوادر کو اب بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوگئی ہے اب اس پر دوستوں اور دشمنوں کی یکساں نظر ہے ویسے تو صوبا ئی دارالحکومت 6 ما ہ کیلئے گوادر میں ہو گا اس پر آئندہ کسی کا لم میں تفصیل سے تجزیہ کر نا چا ہتا ہوں  ، اس شہر کو جہاں سے دیکھو اس کی دلکشی بر قرار ر ہتی ہے۔ زندگی میں پہلی با ر میں نے سا حل پر مغرب کی جا نب چہل قدمی کا لطف اٹھا یا ہے صبح سویرے چھوٹے ما ہی گیر سمندر کنا رے آجاتے ہیں جس قسم کا لباس یہ ما ہی گیر  پہنتے ہیں لگتا ہے زندگی کی شام بھی اس میں ہو جاتی ہو گی پتلون نما شلوار اور مختلف رنگ کی بنیا نیں ان کا لباس ہو تا ہے تیل کا ڈبہ لئے اپنی اپنی کشتیوں کی طرف دوڈتے ہیں اور پھر سمندر کی گہرائی کی طرف چلے جا تے ہیں 9 مارچ کو جما عت اسلامی ضلع گوادر کا جلسہ تھا اس لئے ان ماہی گیر وں کی کشتیوں پر جماعت کے جھنڈے لہرا رہے تھے مولانا ہدایت الرحمن نے مجھ سے کہا کہ سمندر پران کشتیوں پر کلمہ کا جھنڈا خوبصورت لگ رہا تھا میری رائے ہے کہ جما عت اسلامی کا جھنڈا اللہ کی کبریا ئی اور محمد رسول اللہ ؐ کی رسالت کا اعلان ہے اور کلمہ کی اپنی بر کت اور اس میں سکون ہے اس کلمہ ہی نے تو جنگ بدر میں زبا ن، خون اور نسل رنگ کے رشتوں کے درمیا ن ایک لکیر کھینچ دی تھی اس کلمہ نے ہر رشتے کو کاٹ کر پھینک دیا تھا!قریش کے بڑے بڑے طاقتوار سرداروں کی گر دنیں غلاموں اور مستعفیفین کی تلوار نے کاٹ کر پھینک دی تھیں!بڑے بڑے سردار بھاگ رہے تھے۔

قارئین محترم کلمہ کے حوالے سے یہ خیال بھی آگیا ہم ذکر کر رہے ہیں گوادر کا اس کے کئی رنگ ہیں جہا ں سے دیکھو اس کی دلفریبی میں انسان کھو جا تا ہے  مجھے تو بہت زیادہ اچھا لگا اگر نہ دیکھتا تو اس کے حسن دلفریب سے محروم رہتا اب اگر یہ کہا جا ئے تو بے جانہ ہوگا۔جس نے گوادر نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا “اب یہ اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہا ہے اس نے اپنا سفر شروع کر دیا ہے گوادر کے حسن میں اضافہ اس کے شمال کی جا نب پہاڑ نے کیا ہے وہ نہ ہوتا تو یہ اتنا خوبصورت نہ لگتا گوادر کا یہ پہاڑ اس کے چہرے پر ایک خوبصورت تل کی مانند ہے۔ اور شاعر نے تو سمر قندا ور بخارا کو ایک تل پر نثار کر نے کیلئے شعر کہہ دیا تھا جس کو تیمور کی تلوار نے فتح کیا تھا۔بات سے بات نکلتی چلی جا رہی  ہے۔ گوادر کے بعض حصوں کو نوجوان عبدالماجد کے زریعہ دیکھ رہا تھا یہ نو جوان بعض سیاسی معاملات پر دلچسپی رکھتا ہے اور گفتگو کر تا رہتا ہے گوادر کے ”ممتاز سیاسی رہنما ء سعید بلوچ کو پچھلی دفعہ سنا  بلوچی میں شعلہ بیا ن مقرر ہے خوب بولتا ہے اور اس کا نداز بہت ہی اچھا ہے خفیہ ایجنسیو ں کامہمان بھی رہا  ہے۔ اکھڑتی ہو ئی سانسوں نے نہ جانے کتنی نے بے بسی سے دم توڈا ہوگا۔ قارئین محترم بلوچستان جو کبھی امن و محبت کا گہوارہ تھا اب یہاں آگ اور خون کی بوبس گئی ہے ایک طرف ہزارہ برا دری کے لوگ مارے جا رہے ہیں تو دوسری طرف بعض علماء قتل ہو رہے ہیں اب کوئٹہ میں علماء کے قتل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور سب کے سب علماء اہلِ سنت ہیں ایک عجیب سا نقشہ بن گیا ہے۔

دست قاتل ہر طرف گھوم رہا ہے لگتا ہے کہ کوئی ہے جو اس کھیل کو ہوا دے رہا ہے جب بھی پاکستان ایران کے قریب جانے لگتا ہے تو پا کستان اور ایران کے بعض حصوں میں ایسا ہو نا شروع ہو جا تا ہے۔ اللہ کو ایک بے گنا ہ انسان کا قتل سخت نا پسند ہے اور ایک قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور ایک انسا ن کو بچانا پو ری انسانیت کے بچا نے کے مترادف ہے یہ قرآن کی آیات کی تر جما نی ہے جس کو بیا ن کررہا ہوں گوادر پہنچا توکچھ لمحات سکون کے تھے، مگر جب سمندر کی طرف جاتا یا اسے دیکھتا تو بہت کچھ بھول جا تا چند لمحات تو ایسے تھے کہ اس سے لطف اندوز ہو تا جب نو جوان دوست وعبدالماجد کے ساتھ پرانے گوادر میں گھوم رہاتھا تو اس نے کہا کہ یہاں ایک پاگلوں کا ہوٹل ہے مجھے بڑی حیرت ہو ئی کہ گوادر میں کہ پا گلوں نے ہوٹل کھولا ہے تو اس نے بتلا یا کہ نہیں بلکہ یہاں گوادر کے جتنے بھی پا گل ہیں وہ چا ئے پینے ضرور آتے ہیں میرے سا تھ لاہور کے اخبار نئی بات کے رپورٹر بھی تھے وہ تحقیقاتی رپورٹنگ کیلئے گوادر آئے تھے انتہائی ذہین اور اپنے کا م سے کا م رکھنے والے صحافی ہیں ہم تینوں اس ہوٹل میں چائے پینے گئے گوادر کے لوگ کتنے نرم اور انسان دوست ہیں کہ پا گلوں کے ہوٹل میں آتے ہیں اور چائے پی کر چلے جا تے ہیں بیٹھتے بھی ہیں اور با ت چیت بھی کر تے ہیں

ہم تینوں نے وہا ں چائے پی یہ ہوٹل کر مو کے نا م سے بھی جا نا جا تا ہے یہ کو ئی قدیم ہوٹل ہے شاید 100 سال قدیم ہو یہ ہو ٹل پرانی طرز کا بنا ہو ا ہے اندر ایک بہت ہی پرانا سماوار موجود تھا وہاں ہم ہوٹل کے گا ہکوں کو بھی دیکھتے ر ہے یہ ایک لحاظ سے عوامی ہو ٹل ہے صبح شام لوگ اس ہوٹل میں چا ئے پینے ضرور آتے ہیں ہم نے یہاں بھی چند لمحے خوشگوار موڈ میں گزارے جا نے کے بعد ہم ہوٹل سے نکلے تو با ہر ہی ایک پا گل بیٹھا ہو اتھا اس سے ہا تھ ملایا خوش ہوا جب ہم چلے تو راستے میں ایک پا گل اور ملا اس سے بلوچی میں پو چھا کہ کہا ں جا رہے ہو تو اس نے ہنس کر کہا چا ئے پینے جا رہا ہوں خوش مزاج پاگل تھا اس سے مل کر خوشی بھی ہو ئی اور دل مغموم بھی ہو ا کہ یہ لوگ پا گل کیوں ہو ئے یہ ایسے کیوں ہوئے یہ ایسے کیوں بن گئے کچھ بھی ہوا بہرحال ہم نے پرانے گوادر کی سیر دوبارہ شروع کر دی اور میرے دونوں سا تھی فوٹو گرافی بھی کر تے ر ہے اس کے بعد ہم اپنی ر ہا ئش گا ہ پہنچ گئے۔ دوبارہ گوادر کو دیکھنے کیلئے دل آمادہ ہے دیکھیں کب پروگرام بنتا ہے پھر کو ئی کہا نی بیا ن کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -