پی ڈی ایم کی نئی مہم جوئی 

پی ڈی ایم کی نئی مہم جوئی 
پی ڈی ایم کی نئی مہم جوئی 

  

پی ڈی ایم نے 16 اکتوبر کو فیصل آباد میں جلسے سے بہت سی امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے اس میں فیصلہ کن مرحلے کے آغاز کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ سو لگتا یہی ہے اب سڑکوں پر میدان لگنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہنگامہ آرائی ہو گی، کہیں لاٹھی چارج اور کہیں آنسو گیس کے مناظر بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا اس نئے مرحلے کے آغاز کا اصل ایجنڈا کیا ہے۔ مختلف باتیں سننے میں آ رہی ہیں، کوئی اسے مہنگائی کے خلاف تحریک قرار دے رہا ہے اور کسی کے نزدیک ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے حکومت ہٹانے کی تحریک ضروری ہے، گویا جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق یہ معاملہ جاری ہے۔ مگر ایک سوال جو مجھ جیسے عام آدمی کے ذہن میں ابھرتا ہے وہ پی ڈی ایم کی تحریک کے مستقبل کی بابت ہے۔

یہ سیاسی اتحاد اب خاصا پرانا ہو گیا ہے، اس نے بہت سے مدوجزر بھی دیکھے ہیں لیکن یہ تحریک ابھی تک اس طرح کلک نہیں کر سکی، جس طرح کامیاب تحریکیں کرتی ہیں۔ اگرچہ مہنگائی اور بجلی، پٹرول، گیس اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو تحریک میں ایندھن کا کام دیتے ہیں تاہم جو بات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی وہ یہ ہے کہ عوام بھی کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ان سب باتوں سے چھٹکارے کے لئے حکومت کا جانا ضروری ہے حقیقت یہ ہے ابھی تک عوام اس حوالے سے سخت تذبذب کا شکار ہیں وہ یہ سوچ کر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں کہ موجودہ حکومت گئی تو مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی ک حکومت آ جائے گی، کیا ان آزمائے ہوؤں کو دوبارہ اقتدار دینے سے کوئی بہتری آئے گی؟ اصل میں عوام کا یہی کنفیوژن ہے جو حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی تحریک کا وہ ٹیمپو نہیں بننے دے رہا جو کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے، بس ایک تحریک برائے تحریک ہے اور کچھ نہیں۔

اگلا سوال یہ بھی ہے پی ڈی ایم کے جلسوں یا لانگ مارچ سے حکومت کیسے جائے گی کیا عمران خان اس کیو جہ سے استعفے دیدیں گے یا اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کرانے پر مجبور ہو جائیں گے؟ بالفرض اگر وہ یہ دونوں قدم نہیں اٹھاتے اور پی ڈی ایم کی تحریک  زوروں پر رہتی ہے تو نتیجہ کیا نکلے گا، آخر حکومت کو گھر بھیجنے کا اصل راستہ ہے کیا۔ کیا اپوزیشن جماعتیں اس توقع پر تحریک چلا رہی ہیں کہ مقتدر قوتیں یعنی فوج اور اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیں گی، کیا اس توقع کو دیوانے کی بڑ نہیں کہا جا سکتا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ پچھلے دو جمہوری ادوار کا تجربہ سب کے سامنے ہے، جس میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے باوجود سیاسی بے چینی کے اپنی اپنی آئینی مدت پوری کی کیا اسٹیبلشمنٹ پھر سوئی کو الٹا گھمانا چاہے گی۔

کیا فوج ماضی کی طرح یہ چاہے گی سیاسی تحریک کی بنیاد پر عمران خان کو زبردستی گھر بھیجا جائے اور پھر ان کی طرف سے ردعمل آئے۔ جبکہ نوازشریف ابھی تک مجھے کیوں نکالا کے بیانیئے کو استعمال کر رہے ہیں حالانکہ نوازشریف سیاسی تحریک کے نتیجے میں نہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے نکلے ہیں مگر ان کا استدلال یہی ہے کہ انہیں سیاسی بنیادوں پر نکالا گیا ہے پھر یہ امر بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے سوا حکومت اور فوج میں مثالی ہم آہنگی رہی ہے اور اب بھی موجود ہے وہ صورتِ حال ہرگز نہیں جو آصف زرداری کے دور صدارت اور نوازشریف کے  دور وزارتِ عظمیٰ کے درمیان درپیش تھی جس میں بڑے سخت مقامات بھی آئے اور میمو گیٹ، نیز ڈان لیکس جیسے واقعات نے ماحول کو حد درجہ کشیدہ بنا دیا۔

مگر وہ جو کہتے ہیں سیاست میں ایک ہلچل رہنی چاہئے کچھ نہ بھی ہو تو اس ہلچل کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کا وجود عوام کی نظر میں ضرور برقرار رہتا ہے۔ پی ڈی ایم اصل میں پوری قوت کے ساتھ اپنے وجود کو منوا بھی نہیں سکی۔ اس کی وجہ اس میں شامل جماعتوں کا اپنا اپنا انفرادی ایجنڈا تھا۔ جس قوت کے ساتھ آغاز میں پی ڈی ایم نے تحریک شروع کی تھی اور معاملہ استعفوں کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا اگر وہ رفتار جاری رہتی تو حکومت کے لئے مشکلات ہو سکتی تھیں۔ لیکن پھر سب نے دیکھا کہ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر گیا۔ پیپلزپارٹی اور اے این پی عین موقع پر علیحدہ ہو گئیں۔ ایک طرح سے انہوں نے پیٹھ میں اس وقت چھرا گھونپا جب تحریک اپنے زوروں پر تھی اور حکومت۔ واضح دباؤ میں آ چکی تھی۔

اب اس نئی تحریک کا سارا دارو مدار مسلم لیگ (ن) پر ہے اگرچہ جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی اس میں ایک بڑی جماعت کے طور پر موجود ہے تاہم وہ اکیلے تحریک چلائے تو اس پر مذہبی رنگ غالب آ جاتا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) ایک خالصتاً سیاسی جماعت ہے جو پنجاب میں واضح مقبولیت رکھتی ہے اور باقی صوبوں میں بھی اس کی جڑیں محفوظ ہیں۔ تاہم خود مسلم لیگ (ن) کا مسئلہ یہ ہے اس کے اندر بھی تحریک کے حوالے سے یکسوئی موجود نہیں بلکہ ایک ابہام پایا جاتا ہے۔ حمزہ شہباز شریف جب گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کے دورے پر  آئے تھے تو انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا تھا حکومت مستعفی ہو جائے اور فوری انتخابات کرائے جائیں بلکہ وہ یہی کہتے رہے عوام 2023ء میں عمران خان کو بری طرح مسترد کر دیں گے۔ وہ یہی کہتے رہے عوام 2023ء میں عمران خان کو بری طرح مسترد کر دیں گے۔ ادھر شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی تو یہ بیان جاری کیا گیا کہ فوری انتخابات کرائے جائیں۔ یہ مطالبہ آخر کیا کس سے جا رہا ہے؟ حکومت تو اس حوالے سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور ملک میں حالات بھی ایسے نہیں کہ فوری انتخابات ناگزیر نظر آتے ہوں۔

یہ درست ہے حکومت کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگ چکے ہیں، عوام میں مایوسی جنم لے رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کی تسلیاں بھی بے اثر ثابت ہونے لگی ہیں مگر اس کے باوجود باقیماندہ دو برسوں میں اس تحریک کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن نظر نہیں آتے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے پی ڈی ایم کی تحریک کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں، صرف ایک مطالبہ ضرور ہے کہ حکومت گھر چلی جائے، یہ مطالبہ تو پچھلے تین برسوں سے کیا جا رہا ہے اور اتنے عرصے تک جب ایک ہی مطالبہ کیا جائے تو وہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ مہنگائی کے ایشو پر مظاہرے تو ہو سکتے ہیں حکومت ہٹاؤ تحریک نہیں چل سکتی حکومت نے بڑی کامیابی سے یہ مہم چلائی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی بے چینی عوام دوستی میں نہیں بلکہ احتساب سے بچنے کے لئے ہے۔ اس تاثر کو مسلم لیگ (ن) ابھی تک زائل نہیں کر سکی۔ اسی بات کا وزراء فائدہ اٹھاتے ہیں اور پی ڈی ایم کی تحریک کو احتساب سے بچو کی تحریک قرار دیتے ہیں دیکھتے ہیں اس نئے مرحلے میں پی ڈی ایم کوئی بڑا معرکہ کیسے سر کرتی ہے؟

مزید :

رائے -کالم -