DG آئی ایس آئی کی سلیکشن: چند سوالات!

 DG آئی ایس آئی کی سلیکشن: چند سوالات!
 DG آئی ایس آئی کی سلیکشن: چند سوالات!

  

یوں تو پاکستان ہر آن، بحرانوں کی زد میں گھرا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر بار ”نجانے کیوں“ سرخرو نکلتا ہے…… آج کل DG آئی ایس آئی کی سلیکشن اور تقرری کا بحران اور ڈینگی کا بخار پھیلا ہوا ہے۔ یار لوگوں نے ”کھمب“ کا کوا بنا دیا ہے اور اس کو اڑانے کی کوشش میں تھے کہ کوّے نے اڑنے سے انکار کر دیا۔ اسلام آباد کے طول و عرض میں بڑی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ کئی سیاستدان حسبِ معمول اپنے قد سے باہر نکل رہے تھے اور کئی نیوز چینل اپنی ریٹنگ کی فکر میں باؤلے ہوئے جا رہے تھے۔ لیکن پھر ٹائیں ٹائیں فش ہو گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ”فش“ کا سراپا اگلے چند گھنٹوں میں برہنہ ہو جائے گا۔

آپ کی طرح میں بھی اس ’کیس‘ کو بنگاہِ تجسس دیکھتا رہا ہوں اور حیران بھی ہوتا رہا ہوں کہ یہ سب کیا ہے، کیوں اور اس کا مآلِ کار کیا ہوگا…… درج ذیل سوال رہ رہ کر ذہن میں اٹھتے رہے ہیں:

1۔ کیا جنرل ندیم انجم کی سلیکشن اور تقرری بطور DG آئی ایس آئی قاعدے قانون کے مطابق نہیں ہوئی تھی؟

2۔اس سلسلے میں ماضی کی روائت کیا تھی؟

3۔ کیا اس روائت سے روگردانی کی گئی؟

4۔اگر کی گئی تو اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

5۔کیا اس مسئلے پر آرمی کی قیادت، وزیراعظم کے ساتھ ایک صفحے پر نہیں تھی؟ اگر تھی تو پھر اس تقرر اور تبادلے کا نوٹی فیکیشن بروقت کیوں ایشو نہ کیا گیا؟

6۔ وہ شخصیت کون سی تھی جس نے روائت سے انحراف کی نشاندہی کی؟ عامر ڈوگر کا نام لیا جا رہا ہے لیکن ان کا جواب ہنوز تشنہ ء گفتار ہے۔ایسا کیوں ہے، کس کے اشارے پر ہو رہا ہے اور جس طرح ہمارے وزیراطلاعات کا فرمانا ہے یہ حد کیوں کراس کی گئی ہے اور اس اناپ شناپ کے پسِ پشت کون ہے؟

7۔ آرمی نے وہ SOP اختیار کیوں نہیں کی جو قبل ازیں، اب تک کی جاتی رہی ہے؟ یعنی GHQ سے تین ناموں کی فہرست بہ توسط سیکرٹری دفاع، وزیردفاع کو بھیجنا اور پھر وزیر دفاع کا اس موضوع کو سمری کی صورت میں وزیراعظم کو ارسال کرنا…… کیا اس کا کوئی شکوہ وزیر داخلہ کو تھا کہ آرمی اور دوسری مسلح سروسز ان سے بالا بالا وزیراعظم سے مل کر فیصلے لے لیتی ہیں اور ان کی حیثیت محض کٹھ پتلی کی ہے؟……

8۔ GHQسے سفارش کے بعد وزیراعظم تک تحریری بات پہنچانے میں اب کیا Hitch تھی کہ اس کو 48گھنٹے تک Delay کیا گیا؟

9۔وزیراعظم جنرل فیض حمید کو آنے والے کچھ عرصے کے لئے بطور ڈی جی آئی ایس آئی کیوں رکھنا چاہتے تھے؟

10۔ اب اگر کہا جا رہا ہے کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو گئے ہیں اور کوئی رکاوٹ نہیں رہی تو قبل ازیں ایسا کیوں نہیں تھا؟

11۔کیا اس پوسٹ (DG ISI) کے لئے فوج کے کئی اور لیفٹیننٹ جنرل بھی امیدوار تھے؟ کیا ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی؟ جنرل فیض حمید کی ٹرانسفر تو ایک عرصے سے Due تھی اور چونکہ اس منصب کو آرمی چیف کے منصب کے بعد سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے تو وہ جرنیل جو اس امید میں تھے کہ ان کو اس قابلِ کشش منصب پر سرفراز کیا جائے گا کیا انہوں نے وزیراعظم، وزیر داخلہ یا ان کے کسی دوسرے ”راز دار“ سے بات کی اور بات کا بتنگڑ بنا دیا؟

12۔ ہمارے ٹی وی چینل دن رات یک زبان ہو کر اس مقدمے کو زیر بحث لاتے رہے ہیں اور اب بھی لا رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ان چینل کے کرتا دھرتا فوج اور وزیراعظم کے تعلقات میں دڑاڑ ڈالنا چاہتے ہیں؟

13۔ کیا اس معاملے میں کوئی خارجی قوت بھی دخیل ہے؟

14۔ اور یہ جو فوج کی طرف سے بیان آ رہا ہے کہ ان کا پہلا اور آخری چوائس جنرل ندیم انجم ہی ہیں تو اس بیان کا مدعا کیا ہے؟

15۔ ماضی قریب تک ڈی جی آئی ایس آئی کا فائنل باس اگرچہ وزیراعظم ہی ہوتا تھا لیکن کیا اپنے اس ’باس‘ کو تخت سے اتارنے میں ISIکا کوئی رول بھی تھا؟ اگر تھا تو اس کی وجہ کیا تھی کہ سابق وزیراعظموں کے دونوں چوائس (آرمی چیف اور ISIچیف) بار بار ناقص ثابت ہوتے رہے؟

16۔ کیا وجہ تھی کہ تین بار کے وزیراعظم نے پاکستان سے نکالے جانے اور لندن میں بیٹھ کر نام لے کر فوج کے ان جرنیلوں کو مطعون کیا جن کو انہوں نے خود Selectکیا تھا؟

17۔اگر بار بار کی ناکامی نے پاکستان کے سابق وزرائے اعظم (اور صدور) کو آئنہ دکھایا تو اس میں فوج کہاں تک قصور وار تھی؟

قارئین گرامی! سوال تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن ان سوالوں میں فوج کے خود ملوث ہونے کے کچھ ”آثار“ بھی منظر عام پر ہیں۔اگر جنرل ندیم انجم اور جنرل فیض حمید کی سلیکشن اور ٹرانسفر کسی روائت کی پیداوار تھے تو وزیراعظم سے پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ان کا نوٹی فیکیشن جاری کرنے میں تاخیر سے کیوں کام لیا اور عوام کے ذہنوں میں یہ شکوک کیوں ڈالے کہ فوج اور وزیراعظم ایک صفحے پر نہیں؟…… کیا یہ کہیں اس تاثر کو زائل کرنے کی کوئی ارادی کوشش تھی (اور ہے) اگر پروسیجر کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر آتی ہے؟

اگر جنرل فیض حمید کو آئندہ کا آرمی چیف بنانے کا مسئلہ تھا تو یہ کوئی انہونی بات نہ تھی۔ میڈیا پر تو یہ خبریں / افواہیں بھی چلائی گئیں کہ ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ISI ڈائریکٹوریٹ کو ہی ایک کور (Corps) تصور کر لیا جائے…… اللہ اللہ خیر سلا!! اگر یہی کرنا تھا تو پچھلی تاریخ سے جنرل فیض حمید کی تقرری کو ’کور کمانڈری‘ سمجھ لینے میں کیا امر مانع تھا؟ لیکن ہمارے میڈیا کو یہ خبر بھی نہیں کہ ایک کور اور ISI کے ڈائریکٹوریٹ میں کیا فرق اور کیا مماثلت ہے۔ میرے خیال میں جس بزرجمہر نے بھی یہ آئیڈیا فلوٹ کیا تھا اس کو فی الفور سیک کر دینا چاہیے تھا (جو نہیں کیا گیا)۔

اب یہ قضیہ سلجھ چکا ہے۔ آنے والے ایام میں جنرل فیض حمید ہی پشاور کور کے کمانڈر ہوں گے اور جنرل ندیم انجم ہی ISI کے چیف ہوں گے۔ البتہ دو باتیں میرے ذہن میں اٹھ رہی ہیں جن کو قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ……پہلی بات یہ ہے کہ اس تنازعے نے (اگر اسے تنازعہ کہا جا سکے) نومبر 2022ء میں جنرل فیض حمید کے آرمی چیف بننے کے امکانات روشن تر کر دیئے ہیں۔ اگر وہ بن گئے تو ان ’صاحبانِ خبر‘ کی خیرخیریت ضرور دریافت کرنے کی کوشش کریں گے جو اس قضیے کا باعث بنے……اور دوسری بات یہ ہے کہ نئے ISIچیف سب سے پہلا کام یہ کریں گے کہ یہ معلوم کریں وہ عناصر کون سے ہیں جو ان کی سلیکشن (بطور DG آئی ایس آئی) کے خلاف تھے۔ اگر فوج میں یہ عناصر موجود ہیں تو ان کو جاننا بھی کوئی زیادہ دشوار نہیں ہوگا اور اگر سیاستدانوں کا یہ کیا دھرا تھا تو اس کا بندوبست کرنا بھی ناگزیر ٹھہرے گا!

مزید :

رائے -کالم -