مبارک ہو زمانے کو کہ ختم المرسلینؐ آئے سحابِ رحم بن کررحمت للعالمینؐ آئے

مبارک ہو زمانے کو کہ ختم المرسلینؐ آئے سحابِ رحم بن کررحمت للعالمینؐ آئے

  

رانا محمد شفیق خان پسروری 

وہ عظیم ہستی کہ نازشِ روحانیاں، غیرتِ قدسیاں، فخرِ پیغمبراں،رحمتِ جہاناں تھے اور عروج و رفعت بہ عالمِ پاک، جن کی عظمتِ عالیشان کی ایک جھلک کہلائے، اس دنیا اور دنیا والوں کو معطرومعنبر اور  پاکیزہ و مطہر کرنے کے لئے تشریف لائے۔

حضرت عبداللہ کی وفات کے چند ماہ بعد عام الفیل میں یعنی جس سال ابرہہ نے مکہ پر یورش کی  تھی وہ مبارک گھڑی آئی جس کا اس کائنات کو ازل سے انتظار تھا۔

چمنستانِ دہر میں بارہا روح پرور بہاریں آ چکی ہیں۔ چرخِ نادرہ کار نے کبھی کبھی بزمِ عالم اس سرو سامان سے سجائی کہ آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گئیں، لیکن آج کی تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیرکہن سال دہر نے کروڑوں برس صرف کر دیئے۔ سیارگانِ فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے۔ چرخِ کہن مدت ہائے دراز سے اسی صبحِ جاں نواز کے لئے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کارکنانِ قضا و قدر کی بزم آرائیاں، عناصر کی جدت طرازیاں، ماہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں، ابروباد کی تروستیاں، عالمِ قدس کے انفاسِ پاک، توحید ِابراہیم ؑ،جمالِ یوسف ؑ، معجز طرازیئ موسیٰ  ؑ، جان نوازیئ مسیح  ؑسب اسی لئے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں شہنشاہِ کونین ؐ کے دربار میں کام آئیں گے۔

آج کی صبح وہی صبحِ جاں نواز، وہی ساعتِ ہمایوں، وہی دورِ فرخ فال ہے! ارباب ِسیر اپنے محدود پیرایہئ بیاں میں لکھتے ہیں کہ آج کی رات ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے، آتش کدہئ فارس بجھ گیا، دریائے سادہ خشک ہو گیا لیکن سچ یہ ہے کہ ایوانِ کسریٰ کے نہیں بلکہ شانِ عجم، شوکتِ روم، اوجِ چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے۔ آتش ِفارس نہیں بلکہ حجیمِ شر، آتش کدہئ کفر، آذر کدہئ گمراہی سرد ہو کر رہ گئے۔ صنم خانوں میں خاک اُڑنے لگی، بت کدے خاک میں مل گئے، شیرازہئ مجوسیت بکھر گیا، نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کرکے جھڑ گئے۔

توحید کا غلغلہ اٹھا، چمنستانِ سعادت میں بہار آئی، آفتابِ ہدایت کی شعائیں ہر طرف پھیل گئیں، اخلاقِ انسانی کا آئینہئ پر تو قدس سے چمک اٹھا یعنی یتیم عبداللہ، جگر گوشہئ آمنہ، شاہِ حرم، حکمرانِ عرب، فرمانروائے عرب، فرمانروائے عالم، شاہِ کونین ِعالم کون و مکاں میں جلوہ افروز ہوئے۔

جب عبدالمطلب کو پوتے کی پیدائش کی خبر ملی تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے پیارے بیٹے عبداللہ کی وفات کا غم بھی بھول گئے۔ انہوں نے بڑی محبت سے بچے کو گود میں لیا، چوما، پیار کیا اور گود میں لئے خانہ کعبہ میں گئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعائے خیر کی۔پھر ابراہیمی طریقے کے مطابق عقیقہ کیا اور محمدﷺ  نام رکھا۔

جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ پیدائش کے کچھ عرصہ بعد حسب ِدستور آپ کو پرورش کے لئے حلیمہ سعدیہ کی رضاعت میں دے دیا گیا۔ مائی حلیمہ نے خاص توجہ، بڑے پیار اور پوری احتیاط کے ساتھ آپؐ کی پرورش کی۔ حلیمہ سعدیہ کا بیان ہے کہ حضورؐنے عام بچوں کی طرح نہ کبھی بستر پر یا کپڑوں میں بول و براز کیا، نہ کسی بات کی ضد کی اور نہ ہمیں ستایا۔ آپؐ کا قدم مبارک ہمارے لئے بڑی خیرو برکت کا باعث تھا، لہٰذا میری دلی خواہش تھی کہ حضورؐ  میرے پاس ہی رہیں۔ ایک اور جگہ وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز حضورؐ باہر بکریاں چرا رہے تھے کہ عبداللہ بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ ”دو آدمیوں نے ہمارے بھائی محمدؐ    کو زمین پر لٹا کر ان کا سینہ چاک کر دیا ہے۔ یہ سن کر ہم دونوں میاں بیوی دوڑے گئے۔ دیکھا کہ حضورؐ کھڑے ہیں اور ان کے چہرہ مبارک سے خوف کے آثار نمایاں ہیں۔ میں نے پوچھا۔ ”بیٹا کیا بات ہے؟“ انہوں نے بتایا۔ دو سفید پوش مردوں نے مجھے زمین پر لٹا کر میرا سینہ چاک کیا اور دل نکال کر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگے۔“

حلیمہ سعدیہ کہتی ہیں کہ ہم حضورؐ  کو گھر لے گئے۔ میرا شوہر کہنے لگا۔ ”اس بچے کو اس کے گھر پہنچا دینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ اسے کوئی گزند پہنچ جائے“۔ چنانچہ میں انہیں ساتھ لے کر مکہ گئی۔ ان کی والدہ محترمہ نے مجھے دیکھ کر کہا۔ ”اتنی جلدی واپس لے آئیں، تم تو انہیں اپنے پاس رکھنے کے لئے مصر تھیں؟“

میں نے عرض کیا ”میں اپنا فرض ادا کر چکی، لہٰذا خیال ہوا کہ آپ کی امانت ادا کر دوں تو بہتر ہے“۔

انہوں نے کہا ”نہیں! سچ سچ بتاؤ بات کیا ہے؟“ اس پر مجھے مجبوراً آپ کے شقِ صدر کا واقعہ بیان کرنا پڑا اور بتایا کہ اس واقعہ سے ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ انہیں کوئی گزند پہنچ جائے۔ لہٰذا میں انہیں آپ کے پاس لے کر آگئی۔

حلیمہ سعدیہ کے شوہر کا نام عبدالعزیٰ تھا۔ وہ آنحضرتؐ کی بعثت کے بعد ایک دفعہ مکہ معظمہ آئے، آنحضرتؐ سے ملے اور حلقہ ئاسلام میں داخل ہوگئے۔ حضورؐ کے چار رضاعی بہن بھائی تھے۔ عبداللہ، انیسہ، حذیفہ اور حذافہ۔حذافہ کو گھر میں پیار سے شیما کہتے تھے۔ عبداللہ اور حذافہ (شیما) غزوہئ حنین کے بعد مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے۔ باقیوں کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔

شیما آنحضرت ؐ کو بچپن میں اکثر کھلایا کرتی تھیں۔ جب ہاتھوں میں اٹھا کر اچھالتیں تو حسب ذیل لوری دیا کرتی تھیں۔

”اے ہمارے رب زندہ رکھ ہمارے لئے محمدﷺ کو یہاں تک کہ میں دیکھوں اسے نوجوان پھر میں دیکھوں اس کو سردار اور اوندھے منہ گرا اس کے دشمنوں اور حاسدوں کو اور عطا کر اس کو ایسی عزت جو ہمیشہ ہمیشہ رہے“۔

آنحضرت ؐ چھ سال کے ہوئے تو آپؐ کی والدہ محترمہ آپؐ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر یعنی آنحضرتؐ کے والد حضرت عبداللہ کی قبر کی زیارت کے لئے مدینہ گئیں۔ ایک ماہ قیام کرنے کے بعد وہاں سے واپس ہوئیں تو راستے میں ابوا کے مقام پر بقضائے الٰہی رحلت فرما گئیں۔ امِ ایمن جو بی بی آمنہ کی کنیز تھیں، آنحضرت ؐ کو مکہ لے آئیں۔

بی بی آمنہ کی وفات کے بعد آنحضرت ؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ    کواپنی کفالت میں لے لیا مگر تین سال کے بعد عبدالمطلب بعمر82سال انتقال فرما گئے۔ آنحضرت ؐ کے والد حضرت عبداللہ اور ابو طالب ایک ماں کے بطن سے تھے، لہٰذا عبدالمطلب نے اپنی وفات کے وقت آنحضرت ؐ کو ابوطالب کی کفالت میں دیا اور تاکید کی کہ ان کی اچھی طرح سے نگہداشت کرنا۔

کیا خوب کہا تھامولانا ابوالکلام  آزاد ؒنے

”اے غفلت شعارانِ ملت! اگر اس مہینہ کی آمد تمہارے لئے جشن و مسرت کا پیام ہے، کیونکہ اس مہینے میں وہ آیا، جس نے تم کو سب کچھ دیا تھا، تو میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کسی مہینے میں ماتم نہیں، کیونکہ اس مہینے میں پیدا ہونے والے نے جو کچھ ہمیں دیا تھا وہ سب کچھ ہم نے کھو دیا۔

تم اپنے گھروں کو جلسوں سے آباد کرتے ہو، مگر تمہیں اپنے دل کی اُجڑی ہوئی بستی کی بھی کچھ خبر ہے؟ تم کا فوری شمعون کی قندیلوں کو روشن کرتے ہو، مگر اپنے دل کی اندھیاری کو دُور کرنے کے لئے کوئی چراغ نہیں ڈھونڈتے؟ تم پھولوں کے گلدستے سجاتے ہو، مگر آہ! تمہارے اعمالِ حسنہ کا پھول مرجھا گیا ہے…… تم خوشبوؤں سے اپنے رومال و آستین کو معطر کرنا چاہتے ہو…… مگر آہ!تمہاری غفلت کہ تمہاری عظمت ِاسلامی کی عطربیزی سے دنیا کی مشامِ روح یکسر محروم ہے……کاش! تمہاری مجلسیں تاریک ہوتیں، تمہارے مکانوں کو زیب و زینت کا ایک ذرّہ بھی نصیب نہ ہوتا، تمہاری آنکھیں رات رات بھر مجلس آرائیوں میں نہ جاگتیں، تمہاری زبانوں سے ماہِ ربیع الاوّل کی ولادت کے لئے دنیا کچھ نہ سنتی، مگر تمہاری روح کی آبادی معمور ہوتی، تمہاری دل کی بستی نہ اُجڑتی اور تمہاری زبانوں سے نہیں …… بلکہ تمہارے اعمال کے اندر سے اسوہئ حسنہ میں مدح و ثنا کے ترانے اُٹھتے۔ قرآن نے یہ حقیقت اس طرح بیان کی ہے کہ”آنکھیں اندھی نہیں ہو جایا کرتیں، بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہو جایاکرتے ہیں“۔(القرآن)

 تم ربیع الاوّل میں آنے والے کی یاد اور محبت کا دعویٰ رکھتے ہو، لیکن تمہیں کبھی یہ یاد نہیں آتا کہ جس کی یاد کا تمہاری زبان دعویٰ کرتی ہے اس کی فراموشی کے لئے تمہارا ہر عمل گواہ ہے؟ اور جس کی مدح و ثناء میں تمہاری صدائیں زمزمہ سرا ہوتی ہیں، اس کی عزت کو تمہارا وجود بٹہ لگا رہا ہے…… وہ دنیا میں اس لئے آئے تھے کہ انسانی بندگی سے ہٹا کر صرف اللہ کی عبودیت کی صراطِ مستقیم پر چلائے۔

پس اگر ربیع الاوّل کا مہینہ دنیا کے لئے خوشی و مسرت کا مہینہ تھا تو صرف اس لئے کہ اسی مہینے میں دنیا کا وہ سب سے بڑا انسان آیا، جس نے مسلمانوں کو ان کی سب سے بڑی نعمت اللہ کی بندگی عطا فرمائی اور اس کو اللہ کی خلافت و نیابت کا لقب دے کر اللہ کی ایک پاک و محترم امانت ٹھہرایا…… پس ربیع الاوّل انسانی حریت کی پیدائش کا مہینہ ہے۔ غلامی کی موت اور ہلاکت کی یادگار ہے۔ خلافت ِالٰہی کی بخشش کا اوّلین یوم  ہے۔ اسی ماہ میں کلمہئ حق و عدل زندہ ہوا اور اسی میں کلمہئ ظلم و فساد اور کفر و ضلالت کی لعنت سے اللہ کی زمین کو نجات ملی۔

 اے غفلت کی ہستیو اور بے خبری کی سر گشتہ خواب روحو! مجھے بتاؤ تو سہی کہ تم کون ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم غلاموں کا ایک گلہ ہو، جس نے اپنے نفس کی غلامی کی زنجیروں سے اپنی گردن کو چھپا دیا ہے۔ تم پتھروں کا ایک ڈھیر ہو، جو نہ تو خود ہل سکتا ہے اور نہ اس میں جان اور روح ہے۔ تم غبارِ راہ کی ایک مشت ہو، جس کو ہوا اُڑائے پھرتی ہے۔ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ماہِ مبارک امت ِمسلمہ کی بنیاد کا پہلا دن ہے، اللہ کی بادشاہت کے قیام کا اوّلین اعلان ہے، خلافت ِارضی و وراثت ِالٰہی کی بخشش کا سب سے پہلامہینہ ہے…… لیکن یاد رکھو اس کے آنے کی خوشی  اور اس کے تذکرہ ئیاد کی لذت ہر اس شخص کی روح پر حرام ہے، جو اپنے ایمان اور عمل کے اندر اس پیغام ِالٰہی کی تعمیل و اطاعت اور اسوہئ حسنہ کی پیروی کا کوئی نمونہ نہیں رکھتا۔“

final

مائی حلیمہ نے خاص توجہ، بڑے پیار اور پوری احتیاط کے ساتھ آپؐ کی پرورش کی

مزید :

ایڈیشن 1 -