ماہِ ربیع النور

 ماہِ ربیع النور

  

علامہ محمدالیاس عطار قادری 

ماہِ ربیع النور کے آتے ہی ہر طرف موسم بہار آ جاتا ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، بوڑھا ہو یا جوان ہر حقیقی مسلمان گویا دل کی زبان سے بول اٹھتا ہے

نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربیع الاوّل

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں 

جب کائنات میں کفروشرک اور وحشت و بربریت کا گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، بارہ ربیع الاوّل کو مکہ مکرمہ میں حضرت سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان رحمت شان سے ایک ایسا نور چمکا جس نے سارے عالم کو جگمگ جگمگ کر دیا، سسکتی ہوئی انسانیت کی آنکھ جن کی طرف لگی ہوئی تھی، وہ تاجدار رسالت و محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام عالمین کیلئے رحمت بن کر مادرِ گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کے ساتھ ہی کفروظلمت کے بادل چھٹ گئے، شاہِ ایران ”کسریٰ“ کے محل پر زلزلہ آیا، چودہ کنگرے گر گئے، ایران کا آتش کدہ جو ایک ہزار سال سے شعلہ زن تھا وہ بجھ گیا، دریائے ساوَہ خشک ہو گیا، کعبے کو وجد آ گیا اور بت سر کے بت گر پڑے۔

شب قدر سے بھی افضل رات

حضرت سیدنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”بیشک سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت شب قدر سے بھی افضل ہے کیونکہ شب ولادت سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دُنیا میں جلوہ گر ہونے کی رات ہے جبکہ لیلۃ القدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کردہ شب ہے اور جو رات ظہور ذاتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے مشرف ہو وہ اس رات سے زیادہ شرف و عزت والی ہے جو ملائکہ کے نزول کی بناء پر مشرف ہے۔

عیدوں کی عید

الحمدللہ 12ربیع الاول مسلمانوں کیلئے عیدوں کی بھی عید ہے یقینا حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں میں شاہِ بحر و بر بن کر جلوہ گر نہ ہوتے تو کوئی عید، عید ہوتی، نہ کوئی شب، شب برأت بلکہ کون و مکان کی تمام تر رونق شان اس جانِ جہان، رحمت عالمیان، محبوب رحمن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی دھول کا صدقہ ہے۔

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

ابولہب اور میلاد 

جب ابولہب مر گیا تو اسکے بعض گھروالوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا، پوچھا کیا ملا؟ بولا، تم سے جدا ہو کر مجھے کوئی خیر نصیب نہیں ہوئی۔ پھر اپنے انگوٹھے کے نیچے موجود سوراخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا، ”سوائے اسکے کہ اس میں سے مجھے پانی پلا دیا جاتا ہے کیونکہ میں نے ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا“۔ حضرت علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں، اس اشارے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے تھوڑا سا پانی دیا جاتا ہے۔

مسلمان اور میلاد 

اس روایت کے تحت سیدنا شیخ عبدالحق دہلوی فرماتے ہیں، اس واقعہ میں میلاد شریف والوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت میں خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں یعنی ابولہب جوکہ کافر تھا جب وہ تاجدار نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر پا کر خوش ہونے اور اپنی لونڈی (ثویبہ) کو دودھ پلانے کی خاطر آزاد کرنے پر بدلہ دیا گیا تو اس مسلمان کا کیا حال ہو گا جو محبت اور خوشی سے بھرا ہوا ہے اور مال خرچ کر رہا ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ محفل میلاد شریف گانے باجوں اور آلاتِ موسیقی سے پاک ہو۔

جشن ولادت منانے والوں کا ثواب

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی رات خوشی منانے والوں کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں فضل و کرم سے جنات النعیم میں داخل فرمائے گا“۔ مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں اور ولادت کی خوشی میں دعوتیں دیتے، کھانے پکواتے اور خوب صدقہ و خیرات دیتے آئے ہیں، خوب خوشی کا اظہار کرتے اور دل کھول کر خرچ کرتے ہیں نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے ذکر کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے مکانوں کو سجاتے ہیں اور ان تمام افعالِ حسنہ کی برکت سے ان لوگوں پر اللہ عزوجل کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔

کوئی آیا پا کے چلا گیا، کوئی عمر بھر بھی نہ پا سکا

 یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

جشن ولادت کی خوشی میں مسجدوں‘ دکانوں اور سواریوں پر نیز اپنے محلے میں بھی سبز سبز پرچم لہرائیے، خوب چراغاں کیجئے، اپنے گھر پر کم از کم بارہ بلب تو ضرور روشن کیجئے۔ ربیع النور شریف کی بارہویں رات حصولِ ثواب کی نیت سے اجتماع ذکرونعت میں شرکت کیجئے اور صبح صداق کے وقت سبز سبز پرچم اٹھائیے، درود و سلام پڑھتے ہوئے اشکبار آنکھوں کیساتھ صبح بہاراں کا استقبال کیجئے۔ 12 ربیع الاول کے دن ہو سکے تو روزہ رکھ لیجئے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیر شریف کو روزہ رکھ کر اپنا یوم ولادت مناتے تھے جیسا کہ حضرت سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ارشاد فرمایا ”اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی“۔

چند ضروری احتیاطیں 

جشن ولادت کے موقع پر کعبۃ اللہ شریف کے نقشے میں معاذ اللہ کہیں کہیں گڑیوں کا طواف دکھایا جاتا ہے، یہ گناہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں کعبہ شریف میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد کعبے کو بتوں سے پاک فرما دیا لہٰذا نقشے میں بھی بت نہیں ہونے چاہئیں۔ ایسے بلب لگانا جائز نہیں جن پر کسی جانور کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ جشن ولادت کی خوشی میں بعض جگہ گانے باجے بجائے جاتے ہیں ایسا کرنا شرعاً گناہ ہے۔ نعت پاک کی کیسٹ بیشک چلائیے مگر دھیمی آواز میں اور اس احتیاط کیساتھ کہ کسی عبادت کرنے والے، سوتے ہوئے یا مریض وغیرہ کو تکلیف نہ ہو نیز اذان و اوقاتِ نماز کی بھی رعایت کیجئے۔ گلی یا سڑک وغیرہ کی زمین پر اس طرح سجاوٹ کرنا، پرچم گاڑنا جس سے راستہ چلنے اور گاڑی چلانے والے مسلمانوں کو تکلیف ہو، یہ بھی ناجائز ہے، چراغاں دیکھنے کیلئے عورتوں کا اجنبی مردوں میں بے پردہ نکلنا حرام و شرمناک نیز باپردہ عورتوں کا بھی مروجہ انداز میں مردوں میں اختلاط انتہائی افسوسناک ہے، نیز بجلی کی چوری بھی ناجائز ہے، لہٰذا اس سلسلے میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے سے رابطہ کر کے جائز ذرائع سے چراغاں کیجئے۔ جلوس میلاد میں حتیٰ الامکان باوضو رہنے، نماز باجماعت کی پابندی کا خیال رکھئے، عاشقان رسول نماز کی جماعت ترک کرنے والے نہیں ہوا کرتے۔ جلوس میلاد میں گھوڑا گاڑی اور اونٹ گاڑی مت چلائیے کیونکہ گھوڑے اور اونٹ کے پیشاب اور لید سے لوگوں کے کپڑے وغیرہ پلید ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ جلوس میں ”لنگر رسائل“ چلائیے یعنی مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے اور پمفلٹ نیز سنتوں بھرے بیانات کی وی سی ڈیز وغیرہ خوب تقسیم کیجئے، نیز پھل اور اناج وغیرہ تقسیم کرنے میں بھی پھینکنے کی بجائے لوگوں کے ہاتھوں میں دیجئے، زمین پر گرنے، بکھرنے اور قدموں تلے کچلنے سے ان کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اشتعال انگیز نعرہ بازی پروقار جلوس میلاد کو منتشر کر سکتی ہے، پرامن رہنے میں ہی آپ کی اپنی بھلائی ہے۔ 

محسن انسانیتؐ تمام عالمین کیلئے رحمت بن کر مادرِ گیتی پر جلوہ گر ہوئے

مزید :

ایڈیشن 1 -