بعثت نبوی کا حقیقی مقصد

 بعثت نبوی کا حقیقی مقصد

  

مولانا محمد الیاس گھمن

اللہ تعالیٰ کا لاکھ احسان و ہزار ہا شکر ہے کہ اس نے اس امت میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور اپنی عظیم کتاب ”قرآن مجید“ آپ پر نازل فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت کا نور پوری دنیا میں پھیلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دین متین کی زبانی تعلیم دی وہاں اس کی عملی شکل بھی اپنے اعمال مبارکہ سے بیان فرما دی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو قرآنی نمونہ قرار دیا گیا۔ دین اسلام کی تعلیمات پر ایمان اور اس کے تقاضوں پر عمل چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لیے کلمہ شہادت میں جہاں اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اقرار ضروری ہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ماننا بھی لازم ہے۔ 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے کچھ تقاضے ہیں۔ ان تقاضوں پر پورا ااترنا اور اس کے لیے پوری کوشش کرنا ہی عشق ومحبت کی حقیقی علامت ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا حقیقی اور اہم تقاضا؛ اطاعتِ رسول ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں کے کرنے کا حکم فرمایا ہے ان پر عمل کیا جائے اور جن کاموں سے روکا ہے ان سے یکسر اجتناب کیا جائے۔

یعنی اطاعتِ رسول  کے بغیر محبتِ الہیہ کا دعویٰ بھی بے حقیقت ہے۔

مفہوم آیت:  اے نبی تمہارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور ان اہل ایمان کے لیے بھی جو آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہیں۔(سورۃ الانفال، آیت نمبر 64)اس آیت مبارکہ میں یہ انعام مذکور ہے   اللہ رب العزت اطاعت گزاروں کو تسلی دے رہے ہیں میں اللہ تمہارے لیے کافی ہوں کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ 

مفہوم آیت: اے میرے پیغمبر! (صلی اللہ علیہ وسلم)آپ ان سے کہہ دیجییکہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم نے اس سے منہ موڑا تو اس کا وبال تمہارے اوپر ہی ہوگا اور اگر تم نے اطاعت کر لی تو ہدایت پا لو گے اور رسول کے ذمے تو بات واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔(سورۃ النور، آیت نمبر 54)

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے جس انعام کا تذکرہ فرمایا ہے وہ ہے ہدایت۔ اللہ کے خزانوں میں ہدایت سب سے قیمتی خزانہ ہے اطاعت کی وجہ سے اللہ کامل ہدایت عطا فرماتے ہیں ہدایت کی وجہ سے انسان کے عقائد، اعمال، اخلاق اور طرز معاشرت سب درست ہوتے ہیں۔  

اطاعت سے منہ موڑنے والوں کی سزا: 

مفہوم آیت: اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ کی قائم کردہ حدود سے آگے بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آگ میں ڈال دیں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہو گا۔(سورۃ النساء، آیت نمبر 14)

ان آیات مبارکہ میں اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کے لییاللہ کی لعنت، ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم اور آخرت میں اپنی بدبختی پر حسرت کا تذکرہ ہے۔

اطاعت اس وقت ہوتی ہے جب دل میں اس کے بارے احترام اور محبت کے جذبات ہوں۔ بحیثیت مسلمان ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں،بلکہ اپنے والدین، اولاد اور ساری مخلوق سے زیادہ محبت کرتے ہیں، یہی محبت ہمارا ایمان ہے، اسی محبت پر شفاعت کی امیدیں وابستہ ہیں، یہی محبت ہی ہمارے کل دین کی اساس و بنیاد ہے۔  ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور آپ کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق ساری زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں گے تو ہمارا دعویٰ محبت سچا ثابت ہو گا اس کے لیے ہمیں اسلامی  تعلیمات کا علم حاصل کرنا ہوگا کیونکہ بغیر علم کے یہ ممکن نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ  ہماری زندگیوں میں اسلامی تعلیمات کس قدر ضروری ہیں۔ علم کے بعد عملاً ایسے طرز پر زندگی گزارنی چاہیے جو  سنت رسول کی عکاس ہو، خیر کی باتیں بھی معلوم ہوں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے اور شر کی باتیں بھی معلوم ہوں تاکہ ان سے بچا جا سکے۔ آپ کی محبت جب تک تمام محبتوں پر غالب رہے گی، آپ کی سنت جب تک تمام معاشرتی طور طریقوں پر غالب رہے گی، آپ کی تعلیمات جب تک تمام تعلیمات پر غالب رہیں گی اور سب سے بڑھ کر آپ کی ناموس کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ جب تک دلوں میں باقی رہے گا ہم اور ہماری نسلوں کا ایمان باقی رہے گا۔ ورنہ خاکم بدہن اس میں کمی آ گئی تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

آپ ؐ نے جہاں دین متین کی زبانی تعلیم دی وہاں اس کی عملی شکل بھی بیان فرما دی

مزید :

ایڈیشن 1 -