دین اسلام کی بنیاد علم پر !

دین اسلام کی بنیاد علم پر !

  

علامہ طاہر عباس العصری

وعلم آدم الاسماء کلھا ثم عرصھم علی الملا ئکۃ فقال انؤنی باسماء ھولا ء ان کنتم صادقین

اور (اللہ تعالیٰ) نے آدم کو تمام ناموں کا علم سکھا دیا۔

پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا

پس فرمایا۔ ان سب کے نام بتاؤ۔ اگر تم سچے ہو۔

قال یادم انبھم باسما ئھم فلما انباھم باسما ئھم قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السموت والارض واعلم ماتبدون وما کنتم تکتمون۔

جب اللہ نے کہا آدم تم ان کو ا ن چیزوں کے نام بتا دو چنانچہ جب اس نے ان کے نام ان کو بتا دئیے تو اللہ نے (فرشتوں سے) کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں؟

اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو مجھے سب کا علم ہے۔

(البقرہ۔ 2  /  آیت۔ 31:33)

اقرا باسم ربک الذی خلق

پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔

خلق الانسان من علق

اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔

اقرا وربک الاکرم

پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے۔

الذی علم بالقلم۔

انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔  

(سورۃ العلق 96  آیات  5-1)

مندرجہ بالا دونوں قرآنی واقعات سے حسب ذیل چند بنیادی نقاط مستفاد ہوئے:

1۔خداوند متعال نے جب اول بشر، سید البشر، ابو البشر، اور اپنے پہلے نبی کا تعارف کرایا تو بطور عالم کرایا۔

2۔ذات واجب الوجو د نے تخلیق انسان کے ساتھ ہی مستقبل کی نسل آدم کے لیے یہ اصول و قاعدہ وضع فرما دیا کہ خدائی عہدے کے  لیے صرف عالم ہی سزاوار ہے۔ غیر عالم ”الہی منصب “ کا مستحق و حقدار نہیں ہے۔

3۔مذکورہ واقعہ میں یہ پہلو بھی عیاں ہوا کہ انسان سے علم کا رشتہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔

4۔حضرت آدم علیہ السلام کو عہدہ نیابت و خلافت و نبوت فرشتوں کے مقابلہ پر فقط علمی برتری کی بنیاد پر عطا ہوا۔

5۔اور جب اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ پر بادرس توحید، انسان کی فطری جہالت اور اس کی طبعیت و سرشت میں علم و دیعت فرمایا

حضرت حق نے نبوت اسلام کی ابتداء و انتہا علم سے عبادت ہے۔

نتیجہ:

جب انبیاء ورسل علیہم السلام کا علم کے بغیر گزارا نہیں ہے تو گناہگار اور خاکی حضرت انسان علم کے بغیر دنیا و آخرت میں کیسے کامیاب و کامران ہو سکتا ہے؟

مزید :

ایڈیشن 1 -