پروفیسر فقیر محمد کیفی کے اعزاز میں خوبصورت تقریب

 پروفیسر فقیر محمد کیفی کے اعزاز میں خوبصورت تقریب
 پروفیسر فقیر محمد کیفی کے اعزاز میں خوبصورت تقریب

  

دنیا میں عجیب رسم چل نکلی ہے مرنے والوں کی یاد میں آنسو بہائے جاتے ہیں ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کو یاد کر کے خیر و برکت کی محفلیں سجائی جاتی ہیں اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی آڑ میں کئی کئی روز انواع و اقسام کے کھانے کھائے جاتے ہیں۔ دوست احباب ہمسائے عزیز اقارب کس حال میں ہیں ان کی مشکلا ت جاننے ان کے دکھ شیئر کرنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہے کورونا کے دو سال میں کتنے پیاروں کی جدائی کا غم سہانا پڑا ستمبر کے آخری ہفتے اور اکتوبر کے پہلے 12 دن بھی ہماری تین منفرد شخصیات اس دنیا سے رخصت ہو گئیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات یقیناً بہت بڑا سانحہ ہے لیکن میری تمہیدی گفتگو کا محور ڈاکٹر عبدالقدیر کی زندگی کے تلخ حقائق ہیں جو میرے سمیت ہر فرد کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دے رہے ہیں 

 دوسری موت میرے پیارے بھائی میاں جاوید علی کی ہے جو ٹاؤن ناظم رہے محبت کرنے ایثار کرنے والے عوام کا درد رکھنے والے بہترین سپورٹس مین تھے لارڈ میئر بننے کا خواب دل میں سجائے ہمیں جدائی کا غم دے گئی تیسری شخصیت جو متاثر کن تھی لاہور میں سیاسی افکار بردباری کی مثال تھی پرویز ملک تھے جو جم میں دل کا دورہ پڑنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کالم کا عنوان پروفیسر فقیر محمد کیفی کی فیرویل رکھا گیا ہے اور آغاز فوت ہونے والوں سے کر دیا ہے میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں بھی اس دنیا داری کا حصہ ہوں اور میں بھی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر  کے ساتھ ہونے والی محسن کشی کو عنوان بنانا چاہتا تھا پھر سوشل میڈیا جس سے ہر آنے والے دن میں عوام کی نفرت اس کی بھیڑ چال چسکے کے بغیر تصدیق شدہ خبروں کی وجہ سے بڑھ رہی ہے اسی سوشل میڈیا سے ایک فقرہ مجھے پڑھنے کو ملا مرنے والوں کی خبریں لینے والے کیفی زندہ کی بھی خبر لے لیا کر! ہلا دینے والے اس فقرے کو تقویت اس طرح ملی کہ مجھے ممتاز ماہر تعلیم قاضی گروپ آف سکول کے روح رواں قاضی ایپکس سکول نٹ ورک کے چیئرمین جناب قاضی نعیم انجم کی طرف سے ایک دعوت نامہ ملا جس کے مطابق قاضی گروپ نے اپنے پاک عرب ہاؤسنگ سکیم میں واقع سکول کیمپس میں پنجاب ٹیکنیکل بورڈ سے سیکریٹری کی حیثیت سے ریٹائر ہونے والے پروفیسر فقیر محمد کیفی کے اعزاز میں فیئرویل پارٹی کا اہتمام کیا ہے جس میں ہائر ایجوکیشن سے منسلک ماہرین تعلیم ان کے ساتھ 40 سالہ تعلق کی یادیں تازہ کریں گے۔

مرنے والوں کی خبر لینے کا فقرہ دماغ میں گونج رہا تھا میرے پیارے بھائی پنجاب ٹیکنیکل بورڈ کی ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر طاہر اقبال چودھری اور خواجہ صاحب نے ایک ساتھ پروگرام میں جانے کا پروگرام تشکیل دے کر دیگر مصروفیت کو پس پشت ڈال دیا محترم پروفیسر فقیر محمد کیفی کی جان عمان والے لوگ جانتے ہیں کیفی صاحب ممتاز ماہر تعلیم ہیں نیب کے چیئرمین کے سمدھی ہیں ان کا ایک صاحبزادہ ڈپٹی کمشنر پاکپتن ہے دوسرا بیٹا ایس ایچ او ہے تیسرا بیٹا اے سی تھا جس کی پرورش ہو گئی ہے وہ بھی ڈی سی لگ گیا ہے بہو ایڈیشنل سکریٹری گورنر ہاؤس ہے بیٹی پروفیسر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے پروفیسر فقیر محمد کیفی کے اعزاز میں ہونے والی فیئر ویل پارٹی میں شرکت کے لئے جاتے ہوئے مجھے محترم کیفی صاحب سے 5 سالوں میں دو دفعہ میاں ذکاء الرحمن کے الائچی فارم (برج اٹاری) میں گزارے ہوئے چند گھنٹے اور میاں ذکاء ا ور ان کی فیملی کی طرف سے فراہم کئے گئے خوبصورت لمحات یاد آ گئے۔ مزے کی بات ہے میاں ذکاء نے میرا جب پہلی دفعہ تعارف کرایا تو اس وقت لاہور بورڈ کے سکریٹری تھے جب دوسری دفعہ الائچی پارٹی میں ملاقات ہوئی تو پنجاب ٹیکنیکل بورڈ میں سکریٹری تھے۔

طاہر اقبال چودھری محترم خواجہ عاصم کے ساتھ حال میں داخل ہوئے تو خوش قسمتی سے مجھے نشست سابق سیکریٹری بورڈ محترم طارق ملک اور رجسٹرار جھنگ یونیورسٹی پروفیسر عاشق ڈوگر صاحب کے ساتھ ملی حال میں موجود ہائر ایجوکیشن کے پروفیسرز کالجز کے پرنسپل نیب کے ڈائریکٹر، سیشن جج ڈپٹی کمشنر ایس ایچ او اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ملک امان اللہ سابق چیئرمین سکریٹری بورڈ حاجی ڈوگر سمیت علم و ادب کے شاہکار سے ملنے کا اعزاز مل گیا مہمان خصوصی پروفیسر محمد کیفی کی فیملی کی موجودگی نے تقریب کو مزید خوبصورت بنا دیا میزبان قاضی نعیم انجم کی استقبالیہ تقریر کے بعد پروفیسر رانا نسیم چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ ناظر خان نیازی، پرنسپل نعیم نیازی، حاجی محمد ڈوگر پرنسپل فرح مل میڈیم، عابدہ تنویر گوجرانوالہ سے آئے ہوئے پروفیسر خضر حیات سرگودھا سے آئے ہوئے اکرم تارڑ کنٹرولر منور حسین ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر ضیاء، عمران انور، نابینا پروفیسر عمر دراز میڈم روبینہ کمال لاہور بورڈ کے صدر اسلم گجر پرنسپل رفع صاحب ظفر انجم صاحب احمد ضیاء صاحب، میاں شہباز صاحب، احمد سہیل کمال، پروفیسر ڈاکٹر علیم حمد صاحب نے پروفیسر فقیر محمد کیفی کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات اور بنتے ہوئے واقعات سنائے تو بے ساختہ شجر سایہ دار پروفیسر فقیر محمد کیفی کے لئے دل سے دعا نکلی اللہ اس کی حفاظت کرنا قیمتی سرمایہ ہے نظر بد سے بچانا،ان کے بڑے صاحبزادے ڈپٹی کمشنر احمد کیفی نے اپنے والد محترم کی والد بحثیت دوست،

بھائیوں اور بہن کی پرورش کے لئے کردار پر روشنی ڈالی تو حال میں موجود ہر فرد عش عش کر اٹھا مقررین کی طرف سے سنائے گئے واقعات لکھے جائیں تو آسانی سے کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ طاہر اقبال چودھری بھی کیفی صاحب کے گرویدہ افراد میں شامل ہیں اس لئے میرے ساتھ وہ بھی بڑے متاثر ہو رہے تھے۔ آخر میں تقریب کے دُلہا پروفیسر فقیر محمد کیفی  فرمانے لگے میں تو کچھ بھی نہیں تھا اللہ کا کرم احباب کی دعائیں ملتی رہیں تو میں عام سے خاص اور فقیر سے کیفی بن گیا فقیر کی کہانی زندہ تابندہ شخص کی کہانی ہے فقیر محمد کیفی عام فرد نہیں ہے ایک شاعر ہے محب وطن سپاہی ہے دوستوں کا خیال کرنے والا یاروں کا یار ہے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اللہ اس کی بقیہ زندگی صحت والی اور برکتوں والی کرے یقیناً قاضی نعیم انجم کی طرف سے شروع کی گئی پارٹی پہلی نہیں ہے کریڈٹ البتہ قاضی صاحب کو ہی جاتا ہے چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ نے بھی دوسری پارٹی شیخوپورہ، گوجرانوالہ کے پروفیسرز نے تیسری اور چوتھی پارٹی کا اعلان کر دیا ہے آئیں مل کر اسی طرح اردگرد بننے والوں کی کہانیاں سنیں اور ان کے دکھ بانٹیں اور ان کے لئے جو کر سکتے ہیں کر گزریں۔

مزید :

رائے -کالم -