فلور ملز مالکان اور ڈیلرز نے مہنگائی کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

  فلور ملز مالکان اور ڈیلرز نے مہنگائی کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

  

پشاور (سٹی رپورٹر) بیوپاریوں، آڑہتیوں، فلورملزمالکان، چاول ڈیلرز نے انتظامیہ سے بچنے اور مہنگائی کرنے کے لئے نیا طریقہ ڈھونڈ لیا۔بیوپاری، آڑہتی اور فلورملز مالکان کاشتکاروں سے پکا من50کلوگرام خرید کر خود سرکاری من40کلو گرام کے حساب سے تھیلے، بوریاں اور پیکنگ کرتے ہیں جبکہ قیمت پکامن50کلوگرام کے حساب سے شہریوں سے وصول کرتے ہیں تاہم شوگر ملز مالکان پکا من 50کلوگرام چینی پیکنگ کرتے ہیں۔ پشاور میں چاول کی کہی بھی آپ کو 25کلوگرام اور50کلوگرام کی پیکنگ نہیں مل جائے گی اور اب چاول ڈیلر 24کلوگرام کے پیکنگ کرکے انتظامیہ اور عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں، اسی طرح فلورمالکان نے آٹے مہنگا کرنے کے لئے نیا طریقہ کار ڈھونڈ لیا85کلوگرام فائن آٹے بوری کی وزن 80کلوگرام کرکے 6000روپے ریٹ مقرر کردیاہے جبکہ اس سے قبل85کلوگرام فائن آٹے کی بوری 5600روپے میں فروخت ہوتی تھی۔ پشاور کے رامپورہ گیٹ آٹا مارکیٹ میں 20 کلوگرام آٹے کا تھیلا آٹا1400روپے اور20کلوگرام فائن آٹے کاتھیلا1500روپے میں دستیاب ہے تاہم سرکاری 20کلوگرام آٹے کا تھیلا1100روپے اور خیبرپختونخوا فلور ملز کے 20کلوگرام آٹے کا تھیلا 1200روپے میں ملتاہے لیکن کوالٹی ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ پنجاب فلورملز کا تھیلا خریدتاہے۔ ا س سلسلے میں فوڈ گرین ڈیلرزایسوسی ایشن کے صدر حاجی رامبیل گل کاکہناہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے پنجاب حکومت کے ساتھ آٹے کی سپلائی بند کرنے کا معاملہ اٹھانے کے بعد آٹے کا مسئلہ حل ہوگیاہے اوروافر مقدار میں صوبے کو پنجاب سے آٹے سپلائی شروع ہوگئی ہے لیکن فلورملز مالکان نے 85کلوگرام کی بجائے 80کلوگرام وزن دینا شروع کردیاہے جس کی وجہ سے نانبائیوں نے روٹی کے ریٹ بڑھانے کے لنگوٹ کس لی ہے، حاجی رامیبل گل نے کہاکہ چاول، چینی ڈیلرز آٹے کی قلت کا پروپیگنڈا کررہاہے لیکن آٹامارکیٹ میں وافر مقدار میں دستیاب ہے اور میڈیا چاول چینی ڈیلرز کے افواہوں میں نہ آئے۔ دوسری جانب گڑمنڈی پشاور کے آڑہتی بھی زمیندار سے 75کلوگرام لے کر بھی سمال پیکنگ کررہی ہیں جس سے مہنگائی کی نئی لہر آگئی ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں ایک سرکاری من 40کلوگرام جبکہ دوسرا کاشتکار یازمیندار کا پکا من 50کلوگرام نافذالعمل ہے جس کی بیوپاری، آڑہٹی، فلورملز مالکان اور چاول ڈیلرز نے غلط فائدہ اٹھانا شروع کردیاہے جبکہ عوام پرپیکنگ کی صورت میں مہنگائی مسلط کردی گئی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -