خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس

  

پشاور (نیوز رپورٹر)محکمہ صحت کے آڈٹ پیراز کے حوالے سے صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس زیر سربراہی چئیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی ایم پی اے ادریس خان, اسمبلی سیکریٹیریٹ کانفرنس ہال میں منعقد ہوا. اجلاس کے آغاز میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی گئی. ممبران پی اے سی و صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان, بابر سلیم سواتی, ڈاکٹر آسیہ اسد, صلاح الدین خان, جمشید مہمند نے بحث میں حصہ لیا جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے سپیشل سیکرٹری صحت فاروق جمیل نے آڈٹ پیروں کا دفاع کیا.اس موقع پر محکمہ خزانہ, قانون, آڈٹ کے افسران, پی اے سی سیکشن صوبائی اسمبلی زیر سرپرستی سیکرٹری پی اے سی امجد علی خان اور متعلقہ ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان موجود تھے. ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ میں ڈیلایسیز مشینوں کی سال 15-2014 میں خریداری, اسی سال مولوی امیر شاہ ہسپتال پشاور میں لانڈری یونٹ کی خریداری جبکہ سال 14-2013 میں ڈی ایچ او آفس لویر دیر تیمرگرہ کی جانب سے مختلف ہسپتالوں کے لیے طبی آلات کی خریداریوں میں بے ضابطگی اور پہلے سے رایج پالیسیوں کے ساتھ تصادم کی وجہ سے محکمہ صحت کو ہدایات دی گئی کہ وہ اس ضمن میں واضح پالیسی بنائے اور رپورٹ پی اے سی میں پیش کی جائے. چئیرمین پی اے سی نے تینوں پیروں پر محکمانہ انکوائری کرانے کی بھی ہدایت کی جس میں ذمہ داروں کا تعین کرکے ریکوری کی جاے گی.  اس موقع پر سیکریٹری پی اے سی امجد علی خان نے تجویز پیش کی کہ ورکنگ پیپیز میں موجودہ حالت پر مبنی فریش کالم ڈالا جاے تاکہ پی اے سی میں ڈیپارٹمنٹل اکاونٹس کمیٹی کی باتیں نہ دھرائی جاسکے اور کمیٹی کا وقت ضایع نہ ہو. میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ بنوں کے تین پیروں کا تصفیہ کردیا گیا جبکہ اسی ہسپتال میں سال 15-2014 میں آئی ڈی پیز کو ادویات و دیگر علاج معالجہ کی سہولیات دینے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک کروڑ اسی لاکھ کا فنڈز کا اجرا کیا گیا جو کہ ادویات, طبی آلات کی خریداری, ایمبولینس کی مرمت کے لیے دیے گیے تھے جبکہ رقم میں سے 63 لاکھ 59 ہزار ادویات و طبی آلات کی مد میں خرچ کیے گیے جبکہ بقایا رقم کو ہسپتال کی رنگ و روغن و آرائش کے لیے استعمال میں لایا گیا. ممبران پی اے سی نے کہا کہ بجاے اس رقم کو آئی ڈی پیز کے علاج پر لگایا جاتا, اسکو رنگ و روغن پر لگا دیا گیا. پیرے کے دفاع میں پیش کی گئی دستاویزات ناکافی اور کچھ حد تک گمراہ کن ہونے کی بنا پر پی اے سی نے ایک انٹر ڈیپارٹمنٹل کمیٹی کو مشترکہ انکوائری کی ہدایات جاری کی. کمیٹی محکمہ خزانہ, آڈٹ, صحت, قانون اور اسمبلی پی اے سی سیکشن کے افسران پر مشتمل ہوگی جبکہ کنوینر محکمہ صحت اور پی اے سی کا ایک ممبر کمیٹی کا چئیرمین ہوگا. کمیٹی ایک ماہ کے اندر انکوائری رپورٹ پی اے سی کو جمع کراے گی جس میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا.  خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں ہی کے ایک پیرے میں گیس سلینڈر کے سپلائر کو کی گئی ادائیگیوں میں بے قاعدگیوں پر ایم ایس خلیفہ گل نواز کو انکوائری کے احکامات جاری کیے گیے.  اسی ہسپتال کے لیے سال 15-2014 میں لیے گیے فرنیچر کی خریداری کے حواے سے بیضابتگیوں کے حوالے سے ایم ایس خلیفہ گل نواز کو انکوائری کا حکم دیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -