خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ  کمیٹی برائے محکمہ صحت کا اجلاس 

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ  کمیٹی برائے محکمہ صحت کا اجلاس 

  

پشاور(نیوز رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ صحت کا اجلاس گزشتہ روز اسمبلی کانفرنس ہال پشاور میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کی چیئرپرسن و رکنِ صوبائی اسمبلی رابعہ بصری نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ممبرانِ قائمہ کمیٹی و اراکینِ صوبائی اسمبلی لیاقت علی خان، شاہ فیصل خان، وقار احمد خان، عباس الرحمان اور ریحانہ اسمعیل کے علاوہ ایم پی ایز شگفتہ ملک، میاں نثار گل، خوشدل خان اور صاحبزادہ ثنا اللہ کی بطور محرک شرکت کرنے سمیت ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ صحت، چیئرمین سی ایف آئی سی و میڈیکل ڈائریکٹر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور، ڈی ایم ایس تیمرگرہ دیر،  ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بنوں اور ڈائریکٹر ہیلتھ کیئر کمیشن خیبر پختونخوا کے علاوہ اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں کرونا وبا کے شکار مریضوں، ان میں اب تک صحت یاب اور وفات پانے والے افراد کی تفصیلات بمعہ جاری شدہ فنڈز، کے جبکہ مذکورہ ہسپتال میں دورانِ کرونا وبا کے تقریبا 29 ڈاکٹروں کے مستعفی ہونے یا معطلی، ضلع بنوں میں محکمے میں مختلف کوٹہ جات پر بھرتیوں لیکن دوران سروس فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو بھرتی نہ کرنے، فرید خان شہید ڈسٹرکٹ ہسپتال ہنگو اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال تیمرگرہ میں کام و فعالیت کی نوعیت، صوبہ بھر میں ڈاکٹر صاحبان کے اپنے ذاتی کلینک چلانے اور اس ضمن میں عوام کودرپیش مسائل، ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت بھرتی شدہ تقریبا 1400 کمیونٹی مڈ وائیوز کی تنخواہوں کی بندش اور ان کی مستقلی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں داخل شدہ کرونا وبا کے شکار تمام مریضوں، ان میں صحت یاب اور وفات پانے والے افراد کی تفصیلات، ہسپتال کیلئے کرونا کے مد میں جاری شدہ فنڈز اور مذکورہ ہسپتال میں دورانِ کرونا وبا ڈاکٹروں کے مستعفی ہونے یا معطلی سے متعلق اعداد و شمار میں تفاوت اور انتظامیہ کی وضاحت سے اتفاق نہ کرتے ہوئے ایم پی اے خوشدل خان نے چیئر پرسن رابعہ بصری سے مذکورہ تمام نکات پرآئندہ کمیٹی اجلاس میں مکمل تفصیلات پیش کرنے کی درخواست کی گئی، جس پر چیئر پرسن نے اگلے اجلاس میں ممبران کو مذکورہ نکات پر مطمئن کرانے کے احکامات جاری کئے۔ اجلاس نے متفقہ طور پر ضلع بنوں میں محکمہ صحت میں کی کی گئی بھرتیوں میں ڈیسیزڈ سن کوٹہ یقینی بنانے کی بھی سفارش کردی۔اس موقع پر کمیٹی نے ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت بھرتی ہونے والی کمیونٹی مڈ وائیوز کی تنخواہیں فوری جاری کرنے کی سفارش کرنے سمیت ان کو مستقل کرانے سے متعلق ممکنات و آئینی چارہ جوئی پر کمیٹی کو اگلے اجلاس میں بریف کرنے کے لئے سیکرٹری و ڈی جی محکمہ صحت کے بشمول ایم این سی ایچ پروگرام کے سینئر ذمہ دار آفیسر کو بھی بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ایم پی اے شگفتہ ملک کا اٹھایا ہوا نکتہ کہ ڈاکٹر صاحبان کس قانون کے تحت اپنے ذاتی کلینک چلاتے ہیں اور اس ضمن میں خاص طور پر عوام کو درپیش مسائل سے متعلق ہیلتھ کئیر کمیشن کی ذمہ داریوں پر مہیا کردہ تفصیلات ناکافی قرار دے کر آئندہ کمیٹی اجلاس میں چئیرمین ہیلتھ کیئر کمیشن کو بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ایم پی اے شگفتہ ملک نے نجی کلینکس چلانے سے متعلق باقاعدہ پالیسی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر ایم پی اے ریحانہ اسمعیل نے بھی نجی لیبارٹریز، فارمیسی اور دیگر امراض کی تشخیص کے لئے مہنگے داموں ٹیسٹ کرانے کو بھی عوام کے لئے باعث پریشانی قرار دیتے ہوئے نجی کلینکس اور پریکٹس سے صوبائی حکومت کا صحت کارڈ فلیگ شپ منصوبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہرکیا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئر پرسن رابعہ بصری نے کمیٹی ممبران اور اجلاس کے تمام شرکا کاکمیٹی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے پر شکریہ ادا کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -