پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ

پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ

  

مردان (بیورورپورٹ)صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے پھیلاو میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور ہر سال 40،000 خواتین چھاتی کی کینسر کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔یہ بات مقررین نے چھاتی کے سرطان کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہی۔ تقریب کا اہتمام باچا خان میڈیکل کالج/ مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) شعبہ امراض زنانہ اور زچگی نے عالمی چھاتی کے سرطان کے مہینے کی مناسبت سے کیا تھا۔ اکتوبر کے مہینے کو دنیا میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے آگاہی اجاگر کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایسوسیٹ ڈین باچا خان میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر معتصم اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر نضحت آمین، انچارج گائنی اے وارڈ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نائلہ نور اور دوسرے شرکاء نے چھاتی کے سرطان شے بچاؤ، علامات، تشخیص اور علاج پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک لاکھ خواتین ہر سال اس مرض کا شکار ہو رہی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 15،000 خواتین اس موضی مرض میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔مقررین نے کیا کہ مرض کی جلد از جلد تشحیص سے اس سے صحتیابی کے امکانات 90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ چھاتی کا پھولنا، سوجن،  دانے نکل آنا، اس کے رنگ یا سائز میں تبدیلی بیماری کی ممکنہ علامات میں شامل ہیں۔انھوں نے کیا کہ عورتوں کا ان علامات کے بارے میں گھر والوں اور ڈاکٹرز سے بروقت رجوع نا کرنا، تعلیم کی کمی، کلچر اور معاشرے میں اس جیسے حساس معاملات پر بات کرنے میں عار محسوس کرنا اس بیماری میں زیادہ شرع اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ صحت طرز زندگی اپنانے، وزن گھٹانے، باقائدگی سے ورزش، اچھی غذا اور باقئدگی سے خود ہر ماہ اپنی جسم کا معائنہ کرنے سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں واک کا اہتمام بھی کیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -