ویمن یونیورسٹی میں این اے ای اے سی کے اشتراک سے سیمینار

   ویمن یونیورسٹی میں این اے ای اے سی کے اشتراک سے سیمینار

  

مردان (بیورورپورٹ)ویمن یونیورسٹی مردان میں نیشنل ایگریکلچرل ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل(این اے ای اے سی) کے اشتراک سے ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس ڈیپارٹمنٹ، ORIC اور QEC ویمن یونیورسٹی مردان کی جانب سے ایک روزہ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا سیمینار کا بنیادی مقصد فیکلٹی اور ایڈمن سٹاف کو ایکریڈیشن کے مراحل سے آگاہ کرنا تھاسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے  (این اے ای اے سی کے عبدلغفار نے کہا کہ ان کا ادارہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور یونیورسٹیوں کی طرف سے پیش کی جانے والی تحقیق کو جانچنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2005 میں  NAEAC تشکیل دیا جس نے 2008 میں زراعت کے ڈگری پروگراموں کی منظوری کے لیے اپنا کام شروع کیا۔ ڈاکٹر اشتیاق نے ایکریڈیشن کے عمل کی منظوری کے لیے مطلوبہ معیارات کے حصول، مقاصد اور مختلف پہلوں کو تفصیل سے بیان کیا۔ ڈاکٹر عبد لغفار نے اپنی تقریر کے دوران زرعی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا تعلق زراعت کی ترقی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو یونیورسٹیاں زراعت اور اس سے متعلقہ مضامین میں ڈگریاں آفر کر رہی ہے اُن کو چاہیے کہ  اس شعبے میں جدید آئیڈیاز لانے پر توجہ دیں۔ایڈشنل رجسٹرار ڈاکٹر رخشندہ صادق نے یونیورسٹی کی کارکردگی کے بارے میں تفسیلی بریفنگ دی اور کہا کہ ویمن یونیورسٹی مردان نے پہلے دن سے کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنے طالبات، فیکلٹی اور دوسرے سٹاف کو بھی ہمیشہ اس بات کی تلقین کی ہے طلباء، فیکلٹی ممبران، ORIC اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے سٹاف  نے سیمینار میں شرکت کی۔آخر میں ہیومن نیوٹریشن ڈپارٹمنٹ کی سربراہ نے ایچ ای سی کی کوششوں کو سراہا جو کہ تعلیم اور تحقیق کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیاور NAEAC کی ٹیم کو یقین دلایا کہ ویمن یونیورسٹی مردان ہیو من نیوٹریشن ڈپارٹمنٹ کی منظوری کے تمام تقاضے پورے کرے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -