امریکی حکومت کا مالیاتی بحران دسمبر تک ٹل گیا

امریکی حکومت کا مالیاتی بحران دسمبر تک ٹل گیا

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) ایک طویل جنگ لڑنے کے بعد امریکی قانون ساز حکومت کے قرضے کی حدیں عارضی توسیع پر رضا مند ہو گئے۔ سینیٹ کے بعد اب ایوان نمائندگان نے بھی اس بل کو منظور کر لیا جس کے بعد 3دسمبر تک یہ حد بڑھا دی گئی۔ ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے یہ فیصلہ 8اکتوبر تک ہونا تھا ورنہ امریکہ کے علاوہ عالمی مالیاتی مارکیٹ بھی شدید بحران کا شکار ہو جاتی۔امریکہ ماضی میں متعدد بار ڈیفالٹ کے قریب پہنچا لیکن کبھی اس نے ڈیفالٹ نہیں کیا۔ امریکی بجٹ طویل عرصے سے خسارے میں جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ٹیکسوں اور دیگر ذرائع سے جتنی رقم ہر سال اکٹھا کرتی ہے اس سے زیادہ خرچ کر دیتی ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے وہ مسلسل دیگر مالیاتی اداروں سے قرضے لیتی ہے۔ تاہم کانگریس قرضہ لینے کی ایک حد مقرر کر دیتی ہے جسے بار بار بڑھانا پڑتا ہے۔ اب اس مرتبہ بھی اگر حد نہ بڑھتی تو حکومت اپنا خسارہ پورا کرنے کے لئے قرضہ حاصل نہ کرپاتی اور ڈیفالٹ کر جاتی۔ حکومت محکمہ خزانہ کے ذریعے بانڈ بھی جاری کرتی ہے اور مطلوبہ قرض حاصل کر لیتی ہے۔ اس وقت حکومت نے 280کھرب ڈالر کا قرض لیا ہوا ہے اور اپنا کاروبار چلانے کے لئے اسے اس حد میں اضافہ کرانا تھا۔ مالیاتی بحران فی الحال عارضی طور پر 3دسمبر تک ٹل گیا تھا جب کانگریس کے دونوں ایوان اس کی پورے مالیاتی سال کے لئے توسیع کا فیصلہ کرینگے اس وقت کانگریس کے ایوان نمائندگان میں سرکاری ڈیموکریٹک پارٹی کو مخالف ری پبلکن پارٹی پر معمولی اکثریت حاصل ہے۔سینیٹ میں نشستیں برابر ہیں لیکن ڈیمو کریٹک نائب صدر کملاہیرس بالحاظ عہد چیئرمین سینٹ ہونے کے سبب اپنا ووٹ استعمال کر کے اپنی پارٹی کوبرتری دے سکتی ہیں۔ اس بناء پر ری پبلکن پارٹی اپنی اس حیثیت کا فائدہ اٹھا کر بائیڈن انتظامیہ کے لئے مالیاتی مسائل پیدا کر دیتی ہیں کیونکہ انتظامیہ کی بجائے کانگریس کے پاس سارے مالیاتی اختیارات ہیں۔ صدر بائیڈن نے حال ہی میں ری پبلکن پارٹی کے اس رویئے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ”منافقانہ“ خطرناک اور توہین آمیز“ قرار دیا تھا۔

مالیاتی بحران

مزید :

صفحہ اول -