افغانستان کی دھمکیاں، پی آئی اے کا کابل کیلئے فلائٹ آپریشن معطل، مہاجرین مغرب کا رخ کر سکتے ہیں: طالبان

  افغانستان کی دھمکیاں، پی آئی اے کا کابل کیلئے فلائٹ آپریشن معطل، مہاجرین ...

  

         اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر) افغانستان کی دھمکیوں پر پی آئی اے نے کابل کے لیے فلائٹ آپریشن معطل کردیا۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق کابل آپریشن اگلے احکامات تک معطل رہے گا، پی آئی اے نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی خصوصی آپریشن کرکے افغانستان کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر 3 ہزار کے قریب افراد کا انخلا کیا، پی آئی اے نے اقوام متحدہ، عالمی بینک، آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں اور عالمی میڈیا کے اداروں کے صحافیوں کا انخلا کیا۔ ترجمان نے بیان میں کہا کہ پی آئی اے مشکل حالات کے باوجود واحد بین الاقوامی ائرلائن تھی جس کے کے کپتان اور عملے نے جان خطرے میں ڈال کر کابل کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھا اور افغانستان سے لوگوں کا انخلا کیا۔دوسری جانب افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے اور افغان ایئر لائن کام ایئر کو خبردار کیا ہے کہ کابل سے اسلام آباد کے لیے پروازوں کے کرائے کم کیے جائیں ورنہ ان کی اس روٹ پر پروازیں روک دی جائیں گی۔ افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان شہری اگر ان دونوں فضائی کمپنیوں کی جانب سے کوئی خلاف ورزی دیکھیں تو اتھارٹی کے پاس باضابطہ شکایت درج کرائیں۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت میں فضائی سفر کا کرایہ 2 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ اشرف غنی حکومت میں ٹکٹ کی قیمت 200 سے 300 ڈالر تھی۔افغانستان کی نئی طالبان حکومت نے امریکا اور یورپ کے ایلچیوں کوخبردارکیا ہے کہ پابندیوں کے ذریعے ان پر دبا ؤڈالنے کی مسلسل کوششوں سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچے گا اوراس سے بہتر معاش کی تلاش میں مغربی ممالک کا رخ کرنے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان کے قائم مقام وزیرخارجہ امیرخان متقی نے دوحہ میں مغربی سفارت کاروں کو بتایا کہ افغان حکومت کو کمزور کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگاکیونکہ اس کے براہ راست منفی اثرات ملک کی سلامتی پر مرتب ہوں گے اورروزگار کے لیے نقل مکانی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔افغان ترجمان کے بیان کے مطابق، امیرخان متقی نے دوحہ میں اجلاس میں کہاکہ ہم عالمی ممالک پرزوردیتے ہیں کہ وہ موجودہ پابندیوں کو ختم کریں اور بنکوں کو معمول کے مطابق کام کرنے دیں تاکہ حکومت،خیراتی گروپ اور تنظیمیں بیرون سے ملنے والی مالی امداد سے اپنے عملہ اورملازمین کو تنخواہیں ادا کر سکیں۔

پی آئی اے

مزید :

صفحہ اول -