سیاحت کے فروغ کیلئے چار مختلف انٹگریٹڈ ٹورازم زونز کا ماسٹر پلان تیار 

سیاحت کے فروغ کیلئے چار مختلف انٹگریٹڈ ٹورازم زونز کا ماسٹر پلان تیار 

  

پشاور (سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاحت کے شعبے کو منظم انداز میں فروغ دینے کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت کے طور چار مختلف انٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کا ماسٹر پلان تیار کرلیا ہے جن میں گھنول مانسہرہ، مانکیال سوات، مداقلشت چترال اور ٹھنڈیانی ایبٹ آباد شامل ہیں۔ ان انٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کے قیام کے لئے ماسٹر پلان اور فیزیبیلیٹی اسٹڈی جمعرات کے روز ایک اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو پیش کئے گئے۔ گھنول انٹگریٹڈ ٹوارزم زون 480 کنال، مانکیال 754 کنال، مداقلشٹ540 کنال جبکہ ٹھنڈیانی 640 کنال اراضی پر محیط ہوں گے۔ ان ٹوارزم زونز کے قیام سے مجموعی پر بلواسطہ اور بلا واسطہ روزگار کے سولہ ہزار نئے مواقع پیدا ہونگے جبکہ ان منصوبوں میں 2.8 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔  وزیراعلیٰ نے مذکورہ ماسٹر پلان سے اتفاق کیا جسے جلد عملدرآمد کے لئے ورلڈ بینک کو پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں ان انٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کے منصوبوں کو بیرونی سرمایہ کاری کے لئے دبئی ایکسپو میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مذکورہ ماسٹر پلان میں ان ٹوارزم زونز میں سڑکوں کی تعمیر،سالڈ ویسٹ منیجمنٹ، بجلی اور پانی کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور دیگر جملہ سہولیات کے بارے میں تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری ٹوارزم عابد مجید، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔  اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں سیاحت کو بطور صنعت فروغ دینے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت نتیجہ خیز اقدامات اٹھار ہی ہے۔ اینٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کے قیام کے لئے ماسٹر پلاننگ کی تیار ی کو ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان اینٹگریٹڈ ٹوارزم زونز کے قیام سے صوبے میں سیاحت کے شعبے کو ایک منظم انداز میں بین الاقوامی طرز پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور صوبے کی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھارہی ہے  اور صوبائی حکومت کے ان اقدامات کے نتیجے میں اس موسم گرما میں 27لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے صوبے کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا جس کے نتیجے میں صوبے میں 66ارب روپے کا کاروبار ہوا۔ 

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سابقہ پاٹا کا علاقہ سال 2023تک ہر قسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے اس لئے ٹیکس وصولی کا کوئی بھی ادارہ اس علاقے سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتا، جو بھی ادارے 2023سے قبل ملاکنڈ ڈویژن سمیت سابقہ پاٹا میں ٹیکس وصولی کے لئے اپنے دفاتر کھول رہے ہیں و ہ بلا وجہ عوام میں بے چینی پھیلارہے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔  ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے جمعرات کے روز سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور سوات میں کاروباری اور صنعتی شعبے سے وابستہ لوگوں کو درپیش مسائل اور علاقے میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ سیکرٹری صنعت ہمایون خان، وزیراعلیٰ کے اسپیشل سیکرٹری محمد خالق اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ ٹیکس وصولی کا ایک وفاقی ادارہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے لئے دفاتر کھول رہا ہے اورادارے کی طرف سے علاقے میں بعض لوگوں کو ٹیکس ادائیگی سے متعلق پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں جس سے علاقے کے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے سال 2023تک سابقہ پاٹا کے علاقوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہے تب تک کوئی بھی ادارہ ٹیکس وصول نہیں کر سکتا اس کے باوجود کوئی بھی ادارہ وہاں سے ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کرے گا وہ حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے ادارے کی جانب سے قبل از وقت دفتر کے قیام کا معاملہ وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ ان علاقوں کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع دی جائے جس کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔ وفد کے ضلع سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی سے سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جبکہ منصوبے کا پی سی ون بھی تیارکر لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے رہائشی علاقوں میں قائم ماربل فیکٹریوں کو دیگرموزوں مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔ پشاور میں ورسک روڈ پر قائم ماربل فیکٹریوں کو مہمند ماربل سٹی منتقل کیا جارہا ہے۔ اسی طرح سوات میں بھی شہر کے اندر قائم ماربل فیکٹریوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے تجارتی اور کاروباری حلقوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کریں کیونکہ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت اس سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھار ہی ہے جن کا حتمی مقصد اس شعبے کو ترقی دیکر لوگوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔صنعتوں کی ترقی و فروغ کے لئے انڈسٹریل پالیسی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں اکنامک زونز کا قیام، بند صنعتوں کی بحالی کے علاوہ دیگر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔  

مزید :

صفحہ اول -