یو بی جی کا بغیر کسی انتباہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر افسوس کا اظہار

  یو بی جی کا بغیر کسی انتباہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر افسوس کا اظہار

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے صدر زبیرطفیل،سیکریٹری جنرل ظفربختاوری،سیکریٹری اطلاعات اختیار بیگ نے بغیر کسی انتباہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے-یونائیٹڈ بزنس گروپ کے رہنماؤں نے چیف کمشنر آف فیلڈ فارمیشنز، فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 140 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 48 کے تحت بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کو کاروبار مخالف قرار دیا اور وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین سے درخواست کی کہ فوری طور پر ایف بی آر کی جانب سے  نادہندگان کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے فیصلے کو روکیں۔یو بی جی نے کہا کہ حکومت  ٹیکس مشینری کو اکاؤنٹ ہولڈرز کو پہلے سے اطلاع دیے بغیر پیسے لینے سے روکے دوسری صورت میں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔یونائٹیڈ بزنس گروپ کے مرکزی رہنماؤں نے   دلیل دی کہ ایف بی آر کا یہ فیصلہ ان ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے جو پہلے سے ٹیکس ادا کررہے ہیں  جبکہ اس فیصلے سے ٹیکس نیٹ میں نئے ٹیکس دہندگان لانے کی حکومتی کوششوں پر شدید ضرب لگے گا۔انکا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ تجارت وصنعت کی آبیاری کے بجائے اقدامات کو فروغ دے رہی ہے جس سے نہ صرف صنعتوں کو دھچکہ لگے گا بلکہ سرمایہ ایک بار پھر ملک سے باہر منتقل ہوگا جبکہ  پاکستانی ایکسپورٹ کو دھچکہ لگے گا۔زبیرطفیل نے تجویز دی کہ  انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 140 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 48  کو اس وقت تک ستعمال نہیں کیا جانا چاہیے جب تک مقدمہ زیر سماعت ہو،پہلے اپیلیٹ مرحلے سے گزرے اور پہلے مرحلے کے بعد چیئرمین ایف بی آر کی منظوری ہونی چاہیے۔انہوں نے  وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین سے کہا کہ  وہ فوری طور پر اس  فیصلے کو واپس لینے کے احکامات جاری کریں۔

مزید :

صفحہ آخر -