پاکستان اورایران کے پارلیمانی وفودکے تبادلے بڑھنے چاہیے، ریحانہ لغاری

  پاکستان اورایران کے پارلیمانی وفودکے تبادلے بڑھنے چاہیے، ریحانہ لغاری

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈپٹی اسپیکرسندھ اسمبلی ریحانہ لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اورایران کے پارلیمانی وفودکے تبادلے بڑھنے چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزیدبہتری وہم آہنگی پیداہوسکے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کو اپنے دفترمیں ایران-پاکستان فرینڈشپ گروپ کے وفد کے اراکین سے ملاقات کے دوران کیا۔ایران-پاکستان فرینڈشپ گروپ اراکین اسمبلی ایران اورسرمایہ کاروں پرمشتمل تھا جس کی قیادت احمد عامر عابدی فرحانی، چیئرمین آف دی ایران پاکستان فرینڈ شپ گروپ کررہے تھے۔ وفدمیں حسن نورین قونصل جنرل ایران، محسن پیر ہادی، مالک فضلی، اسماعیل حسین زئی، الہام آزاد، علی مظفر اور ہادی گلریز اکنامک اتاشی شامل تھے۔ وفدکوڈپٹی اسپیکرسندھ اسمبلی کی جانب سے سندھ اسمبلی کی تاریخی حیثیت اور کاروائی پربریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سندھ اسمبلی کی عمارت تاریخی ہے اورقیام پاکستان میں اس کا نمایاں کرداررہاہے،  انہوں نے مزیدکہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت پرانے ہیں،پاکستانی بڑی تعدادمیں ایران کاسفرکرتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے عوام میں مذہبی وثقافتی ہم آہنگی ہے البتہ دونوں ملکوں کے تعلقات کومزیدبہترکرنے کی ضرورت ہے۔ احمد عامر عابدی فرحانی نے کہا کہ پاکستان ہمارابرادرملک ہے،دونوں ملک مذہبی و ثقافتی روایات کی بدولت بہت قریب ہیں،اسی طرح ایرانی حکومت پاکستانی حکومت سے اقتصادی روابط قائم کرنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان 3ملین ڈالرکی تجارت ہے،جس کومزیدبڑھانے کی ضرورت ہے، ایران پاکستان کی حکومت ساتھ مل کر کچھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے جارہا ہے جس میں پارلیمانی وفودکے تبادلہ بھی شامل ہے۔ وفدمیں شامل اراکین کوسندھ کی ثقافت اجرک اورٹوپی کا تحفہ بھی دیا گیا۔

مزید :

صفحہ آخر -