آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے باعث روپے کی قدر میں گراوٹ کی، وزیر خزانہ نے بالآخر اعتراف کرلیا

آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے باعث روپے کی قدر میں گراوٹ کی، وزیر خزانہ نے ...
آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے باعث روپے کی قدر میں گراوٹ کی، وزیر خزانہ نے بالآخر اعتراف کرلیا

  

واشنگٹن (ویب ڈیسک) پاکستان کے   وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعتراف کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف )سے رجوع کرنے کی وجہ سے روپے کی قدر میں گراوٹ کی،  آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کی چھٹی قسط میرے دورے کا سب سے اہم جزوہے، آئی ایم ایف سے ٹیکنیکل لیول مذاکرات مکمل کرلئے ہیں۔

 امریکی ادارہ برائے امن میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی معیشت ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت تھی، وقت کے ساتھ ہم نے معیشت کی سمت کھو دی۔ہم نے ملکی معیشت کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو ابتر حالت میں معیشت ورثے میں ملی، ہمارے قرضے غیر مستحکم سطح پر پہنچ گئے تھے، ہمیں معیشت کی سمت کو درست کرنے کیلئے مشکل  اور غیر مقبول فیصلے کرنا پڑے، آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ کرنا پڑی۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ  کورونا کی وبا نے عالمی معیشت کو متاثر کیا لیکن ہماری حکومت نے موثر انداز میں کورونا وباء کا مقابلہ کیا، معاشی شرح نمو کو منفی صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے چار اعشاریہ پانچ فیصد پر لے کرگئے، ہم نے زراعت، صنعت، درآمدات اور ہاوسنگ میں اصلاحات کی ہیں، ہم اس سال پانچ فیصد کی شرح سے ترقی کریں گے اور مستحق طبقے کو ترقی کے ثمرات پہنچائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان  گوادر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتا ہے، ہم پائیدار بنیادوں پر ترقی کے حصول کیلئے کوشاں ہیں، ہم زراعت، گھرانوں کی تعمیر کیلئے سستے قرضے دے رہے ہیں، کمزور طبقے کو صحت کارڈ جاری کررہے ہیں، کامیاب پاکستان پروگرام کے ذریعے چالیس لاکھ گھرانوں کو سستے قرضے دیے جائیں گے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -بزنس -