پاکستانی پنجابی ناول نگار نین سکھ نے عالمی پنجابی ایوارڈ ''ڈھاھاں'' کا پہلا انعام جیت لیا

پاکستانی پنجابی ناول نگار نین سکھ نے عالمی پنجابی ایوارڈ ''ڈھاھاں'' کا پہلا ...
پاکستانی پنجابی ناول نگار نین سکھ نے عالمی پنجابی ایوارڈ ''ڈھاھاں'' کا پہلا انعام جیت لیا

  

ٹورنٹو (ویب ڈیسک) مشہورپاکستانی پنجابی کہانی کار،ناول نگار اورشاعر نین سکھ نے کینیڈا سے جاری عالمی پنجابی ایوارڈ ''ڈھاھاں'' کا پہلا انعام جیت لیا، وہ پہلے پاکستانی ہیں جنھوں نے 35 لاکھ کا انعام اپنے نام کیا۔ یہ ایوارڈ گذشتہ 8 سالوں سے دیا جارہاہے اور ہر سال پنجابی فکشن پر یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل 7 بار جن کو پہلا انعام ملا ان میں کوئی پاکستانی نہیں تھا کہ اس سال خالد محمود ایڈووکیٹ المعروف نین سکھ کی وجہ سے پاکستان کو یہ اعزاز ملا ہے۔ کل رات 11 بجے کہانی کار،شاعر چئیرمین ایڈوائزری بورڈ اور کینیڈا میں پنجابی زبان کو ریاستی سطح پر منوانے والےسادھو بیننگ نے یہ اعلان کیا۔ مشہور عالمی ادارے برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے تعاون سے جاری اس ایوارڈ کودنیا ایک قدر سے دیکھتی ہے۔

تقریب سے ایوارڈ کے بانی برج ڈاھاں نے بھی خطاب کیا۔ نین سکھ کو انکی نئی کتاب '' جوگی، سپ، تراہ'' پر یہ ایوارڈ ملا ہے جسے پنجابی کتابیں چھاپنے والے ادارے ''کتاب ترنجن'' نے چھاپا ہے۔ اس سے قبل نین سکھ کو ڈھاھاں کا دوسرا ایوارڈ ملا تھا جو پانچ ہزار کینیڈین ڈالر کا تھا جبکہ یہ ایوارڈ 25 ہزار کینیڈین ڈالر کا ہے۔ 2021 کے باقی دو ایوارڈ دلی کے بلبیر مادھو پوری اورامرتسر کی سرگی جموں کو ملے ہیں۔ بلبیر مادھوپوری کو ''مٹی بول پئی'' اور سرگی جموں کو انکی کتاب ''اپنے اپنے مرثئیے'' پر ایوارڈ ملے ہیں۔

یہ دونوں ایوارڈ دس، دس ہزار کینیڈین ڈالروں کے ہیں۔ ایوارڈ کی پروقار تقریب سے برج ڈھاھاں کے علاوہ سادھو بیننگ،ہریندر کور ڈھاھاں اور شہزاد نذیر خاں نے بھی خطاب کیا۔ خالد محمود دھولکہ المعروف نین سکھ کا تعلق سرگودھا سے ہے اور وہ عرصہ دراز سے لاہورمقیم ہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -