"عمران خان افراد سے زندگی وابستہ نہ کریں، نواز شریف بننے کی کوشش میں اقتدار ختم ہوجائے گا" سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی  نے صورتحال واضح کردی

"عمران خان افراد سے زندگی وابستہ نہ کریں، نواز شریف بننے کی کوشش میں اقتدار ...

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کسی ایک سروس کا نہیں بلکہ یہ انٹر سروسز انٹیلی جنس  ہے  ، یعنی یہ پوری افواجِ پاکستان کا ادارہ ہے جس کے سربراہ کا تقرر وزیر اعظم کا استحقاق ہے، افراد سے زندگی وابستہ نہ کریں،  انہیں چاہیے کہ وہ اپنا حق استعمال کریں تاکہ بے یقینی ختم ہو، اگر عمران خان نواز شریف بننے کی کوشش کریں گے تو ان کا اقتدار ختم ہوسکتا ہے۔

نجی ٹی وی 24 نیوز کے پروگرام دستک میں گفتگو کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ایک منٹ میں فائل پر دستخط کریں اور لوگوں کو بتاکر بات ختم کریں، آئی ایس آئی کسی ایک سروس کا نہیں بلکہ افواجِ پاکستان کا ادارہ ہے، وزیر اعظم کو اس کے سربراہ کی تقرری کرنا ہوتی ہے، وہ اپنا حق استعمال کریں۔ وزیر اعظم اس معاملے میں اپنا حق استعمال کیوں نہیں کر رہے، یہ قوم کو  بتایا جائے کہ اس میں رکاوٹ کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ جب تک آئی ایس آئی کے سربراہ کا تقرر نہیں ہو جاتا تب تک بے یقینی کی کیفیت رہے گی، قوموں کو بے یقینی امراض میں مبتلا کرتی ہے اور منزل کھوٹی ہوتی ہے، اقبال نے کہا ہے کہ بے یقینی غلامی سے بدتر ہے، معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوجانے چاہئیں تاکہ آگے بڑھا جائے۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم یکسوئی کے ساتھ معاملات حل کریں، ان کی ذمہ داری یہ نہیں کہ مسائل میں الجھ جائیں۔ جب حکومت الجھن میں ہوگی تو اپوزیشن خوش ہوگی، حکومت اب ماری ماری پھر رہی ہے اور اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا، اس کے وزرا متضاد بیانات دے رہے ہیں ، پلیٹیں کھڑک رہی ہیں لیکن کھانا نہیں آ رہا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان میں خود اعتمادی نظر آتی ہے لیکن  اگر آپ افراد کے ساتھ زندگی  کو وابستہ کرلیں  تو افراد تو آنی جانی چیز ہیں، سرکاری منصب داروں نے ریٹائر ہونا ہوتا ہے ، ان کا تبادلہ ہونا ہوتا ہے اس لیے یہ اچھے سہارے نہیں بلکہ آپ کو اپنے خدا پر اور عوام پر اعتماد کرنا چاہیے  کیونکہ یہی اچھے سہارے ہیں۔

اینکر پرسن کے سوال "کیا واقعی عمران خان نواز شریف بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟" کا جواب دیتے ہوئے مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ "یہ تو شہباز گل صاحب اور مریم نواز صاحبہ ہی بتاسکتی ہیں، اگرنواز شریف صاحب بننے کی کوشش کریں گے تو گویا آپ یہ چاہ رہے ہیں کہ ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے کیا؟ میں تو  اس کی تمنا نہیں کر رہا ابھی، اگر آپ یہ تمنا کر  رہے ہیں تو اور بات ہے۔"

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -