چینی کی قیمتوں کا تعین ، شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا 

چینی کی قیمتوں کا تعین ، شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا 
چینی کی قیمتوں کا تعین ، شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا 
سورس: File Photo

  

لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا ءاشرف نے کہا ہے کہ شوگر ملوں کو درپیش سنگین مسائل کے باوجود شوگر ملیں ہڑتال نہیں کریں گی ،اس وقت کسانوں کی 500ارب روپے کی گنے کی فصل کھیتوں میں کھڑی ہے ،شوگر کرشنگ سیزن کیسے شروع کریں ؟ کسانوں کو تمام تر ادائیگیوں کے باوجود پنجاب حکومت شوگرملوں کو این او سی جاری نہیں کر رہی جس کے باعث بینک شوگرملوں کو ورکنگ کیپٹل دینے پر اعتراض کر رہے ہیں ،ملک میں گنے کی فصل 30نومبر کو پک کر تیار ہوتی ہے لیکن اس سال بھی حکومت شوگرفیکٹریز کنٹرول ایکٹ کے تحت پہلے کرشنگ سیزن کاآغاز کرانا چاہتی ہے، اگر اس سال بھی کچے گنے کو کرش کرایا گیا تو چینی کی کم پیدا وار ہو گی اور حکومت کو ایک بار پھر کثیر زر مبادلہ خرچ کرکے چینی درآمد کرنی پڑے گی ، حکومت کو یہ سب منظور نہیں تو ہم سے فیکٹریوں کی چابیاں لے کر ہمارا سرمایہ واپس کرے اورصارفین کو جس ریٹ پر چینی دینا چاہتی ہے دے،گزشتہ سال حکومت نے ایک کلو چینی کی قیمت 84.75روپے مقررکی جبکہ ہماری ایک کلو چینی کی پیداواری لاگت 104روپے تھی ،اس سال بھی حکومتی افرادکہہ رہے ہیں کہ 80روپے کلو کے حساب سے چینی کی فروخت یقینی بنائیں گے میں صرف یہی کہوں گا کہ جب ملیں چلیں گی تو دیکھیں گے کہ اس کی کیا پیداواری قیمت بنتی ہے ،حکومت کو پیشکش ہے کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے چینی کی قیمت کا تعین کرے اور ہمارا 15فیصد منافع رکھ کر ایک کلو چینی کی قیمت مقرر کر دے ۔

مقامی ہوٹل میں پنجاب کے چیئرمین چو ہدری اسلم اور سینئر ممبر چوہدری محمد وحید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےچوہدری ذکاء اشرف نے کہا کہ حکومت نے ایک جانب تو ملک میں چینی کی پیداواری قیمت سے کم قیمت مقرر کر کے شوگر سیکٹر کو مسائل سے دوچار کیا اور دوسری جانب بیرون ملک سے 125سے 130روپے فی کلو کے لگ بھگ مہنگی چینی درآمد کر نے پر 20کروڑ ڈالر کا خطیر زر مبادلہ خرچ کیا گیا ،ملک کی شوگر ملوں نے پہلے 104روپے کی پیداواری قیمت پر اور بعد میں 100روپے تک فروخت کرنے کی پیشکش کی لیکن حکومت نے ملکی کسانوں کی بجائے غیر ملکی صنعت اور غیر ملکی کسانوں کو فائدہ پہنچایا ۔ ممبرز کے غیر معمولی اجلاس عام میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شوگر کین کنٹرول بورڈ کی اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے ، ہم حکومت سے کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتے، ہم حکومت سے مل کر چلنا چاہتے ہیں، ہماری شوگر انڈسٹری میں 80 کاروباری گروپس ہیں جو کہ سب انڈسڑلسٹ ہیں اور ان کا کسی قسم کی سیاست سے تعلق نہیں ہے، ہم نے لاتعداد طریقوں سے حکومت کے اعلی حکام سے بھی ملنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ہمیں وہاں سے وقت نہیں ملا مگر ہم اس پر کوشش جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسابقتی کمیشن پاکستان نے حال ہی میں شوگر انڈسٹری پر 44 ارب کا جرمانہ کیاہے جو کہ ملکی تاریخ میں کسی صنعت کو ہونے والے سے جرمانے سے زیادہ ہے،یہ رقم اس قدر زیادہ ہے کہ مل مالکان اور ان کے شیئر زہولڈر اس سے سخت پریشان ہیں، قوانین میں تبدیلی کر کے شوگر ملوں پر کرشنگ سیزن کا آغاز نہ کر نے پر یومیہ 50 لاکھ روپے جرمانے کی شق شامل کر دی گئی ہے، صنعتکار کا یہ ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے کہ اس نے اپنی صنعت کو کب چلانا اور کب بند کر نا ہے؟ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پچھلے 5 سالوں کے کیسز بغیرکسی قانونی جواز، طریقہ کار اور قرعہ اندازی کے بغیر کھولے ہیں جو کہ منطقی طور پر فیصلہ شدہ تھے، اس طرح شوگر ملوں کو 18 سے 20 ارب روپے کا جرمانہ کیا گیاجو کہ ہر مل کی اصل قیمت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

مزید :

بزنس -