شیشہءجاں آئینے سے نازک ہے (2)

     شیشہءجاں آئینے سے نازک ہے (2)
     شیشہءجاں آئینے سے نازک ہے (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اُس واقعے کا اشارہ تو دیا جا چکا ہے جب پروفیسر توصیف تبسم کے دروازے پر دستک ہوئی اور والدہ نے ، جو اُنہیں محمد احمد کہہ کو بلاتی تھیں، سادگی سے مہمان کو یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ توصیف نام کا کوئی آدمی یہاں نہیں رہتا۔ توصیف صاحب سے یہ قصہ سُنا تو مجھے اپنے پھوپھی زاد بھائی بہت یاد آئے جن کے دادا نے بچے کا نام محمد احسان الحق رکھا تھا۔ یہی نام اسکول میں درج ہوا اور گھر سے باہر آج بھی مقبول ہے۔ البتہ میرا بھائی اور مَیں، جو احسان سے دو، تین سال بڑے ہوں گے، ابتدائی بچپن میں اُنہیں صرف حق کہا کرتے۔ یہ بات تو سمجھ میں آ گئی۔ تاہم ابا یعنی احسان کے ماموں نے اُن کے والد یعقوب محمود کی رعایت سے احسان کو انصر محمود کہنے پر اصرار کیا۔ کالج جانے تک، القاعدہ کے قیام سے بہت پہلے ، موصوف کے نام کے آخر میں اُسامہ کے لاحقے کا اضا فہ بھی ہو چکا تھا۔

 اب توصیف تبسم کی ’بند گلی میں شام‘ کا ایک مشابہہ اقتباس سُنیے: ” میری پیدائش تین بہنوں کے بعد ہوئی تھی اور چونکہ مجھ سے بڑے بھائی نو عمری میں فوت ہو گئے تھے ، لہذا جس عزیز کو جو نام اچھا لگتا وہ نومولود کو اُسی نام سے پکارتا۔ اِن ناموں میں محمد احمد کا نام والد نے اِس لیے رکھا کہ پہلے بیٹوں کے نام اپنے نام عبدالطیف کی رعایت سے تھے۔ کسی نے دل میں یہ وہم ڈال دیا کہ اگر اِس کا نام مرنے والے بیٹوں سے مختلف ہوگا تو شاید خدا اِس کو لمبی زندگی بخش دے۔ بچپن کے ناموں میں ایک نام عبید اللہ احرار تھا جو چچا شمس الاسلام نے میرے دادا عبداللہ کی مناسبت سے رکھا تھا۔ چچا سہیل احمد جب گھر آتے، مجھے محمد فارقلیط کہہ کر آواز دیتے۔ ماموں مظہر الحسن والد کے نام لطیف کی مناسبت سے توصیف کہتے تھے۔ اِن ناموں میں محمد احمد کا نام زیادہ مروج رہا اور بیشتر افراد اِسی نام سے جانتے تھے۔“

 بدایوں کے قصبے سہسوان میں ، جہاں توصیف تبسم کا کہنا ہے کہ اُن کے اجداد نے ملتان سے ہجرت کی ”طرحی مشاعروں کی روایت خاصی مستحکم تھی۔ اسکول میں بھی ہر سال مشاعرہ اور کوی سمیلن ہوتا۔ اِن مشاعروں میں شرکت کے لیے تُک بندی ضروری تھی۔ شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو تخلص کی تلاش ہوئی۔ چنانچہ قمر تخلص اختیار کیا۔ اِس تخلص کا خیال مجھے اپنے ٹیوٹر انیس الحسن امروہوی کی وجہ سے آیا جو شمس تخلص کرتے تھے ۔“ یوں توصیف صاحب نے مشاعروں میں شعرخوانی کی ابتدا قمر سہسوانی کے نام سے کی۔ پھر ایک دن سوچا کہ چھوٹے سے قصبے سہسوان میں پہلے ہی دو شاعر قمر تخلص کے موجود ہیں۔ یہ سوچ کر آپ قمر سہسوانی سے محمد احمد تبسم ہو گئے ۔ بعد ازاں جب بہ سلسلہ ملازمت پشاور میں تھے تو احمد فراز کے مشورے سے محمد احمد تبسم کے بجائے توصیف تبسم قلمی نام اختیار کر لیا۔

 توصیف صاحب سے احمد فراز کی بے تکلف دوستی کا آغاز پچھلی وسط صدی میں ہوا جب پشاور کے ایڈورڈز کالج میں زیرِ تعلیم فراز اُس تخلیقی جنون میں مبتلا ہوئے جس میں شاعر کی جولانی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ توصیف تبسم کے الفاظ میں ”فراز اُن دنوں اِسی مرحلے سے گزر رہا تھا۔ وہ آتا اور اُس کی جیبیں غزلوں اور نظموں سے ٹھسی ہوئی ہوتیں۔ یہ تازہ نظمیں، غزلیں جب وہ سُنا چکتا تو اُس کی بے تابی سکون پاتی۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ وہ غزلیں سُنا کر گھر گیا اور راستے سے واپس آ گیا کہ جاتے ہوئے ایک غزل اور ہو گئی ہے۔ “ اِس پر توصیف تبسم نے اپنے اور فراز کے مشترکہ دوست شاہد نصیر سے کہا کہ ”یار، یہ مسلسل مشقت برداشت نہیں ہوتی کہ شعر بھی سُنو اور رائے بھی دو۔“ چنانچہ نیا کلام سُنانے پر چائے پلانے کی پابندی لگا دی گئی جو طالب علم احمد فراز کو بسا اوقات بہت کڑی شرط محسوس ہوتی ۔

 خیر، یہ تو کتابی باتیں ہوئیں جنہیں جوڑ جاڑ کر لوگ ایم فِل کے تھیِسس لِکھ لیا کرتے ہیں۔ وہ وارداتیں جو گورڈن کالج کے ہمکاروں کے سامنے ہوئیں یا بیان کی گئیں اُن کی شانِ نزول ذرا منفرد نوعیت کی ہے۔ جیسے نام ہی کے حوالے سے توصیف صاحب کا یہ قصہ کہ تدریس سے وابستگی کے کئی سال گزر جانے پر اُنہیں ایک مرتبہ زبان و ادب کے معروف اسکالر ڈاکٹر طاہر فاروقی سے مِلنے کے لیے پھر پشاور کا چکر لگانا پڑا۔ طاہر فاروقی سے پیشگی ملاقات نہیں تھی۔ سیدھے احمد فراز کے ہاں پہنچے جہاں اتفاق سے مزاحیہ شاعر اور اردو کے استاد طہٰ خان بھی موجود تھے۔ فراز نے دونوں کا تعارف کرایا اور نام کی صوتی مناسبت سے توصیف صاحب یہ سمجھ بیٹھے کہ طاہر صاحب یہی ہیں۔ ادب سے کہنے لگے کہ سر، یہ تو بہت اچھا ہوا کیونکہ مَیں آپ ہی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے راولپنڈی سے آیا تھا۔

 یہ دیکھ کر احمد فراز نے ، جن کی حسِ مزاح، حاضر جوابی اور فقرے بازی ضرب المثل تھی، طہٰ خان کو آنکھ مار دی کہ اب اِس تاثر کی نفی نہ کرنا۔ طہٰ خان شریف النفس آدمی تھے۔ کچھ دیر سُنتے رہے۔ آخر اُن سے نہ رہا گیا اور شائستہ لہجے میں بولے:”میرے دل پر کچھ بوجھ ہے۔“ احمد فراز نے جواب دیا:”آپ نے پان میں تمباکو زیادہ لے لیا ہو گا۔“ ”نہیں، مَیں کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ ۔۔ یہی کہ مَیں ڈاکٹر طاہر فاروقی نہیں ہوں ۔ وہ تو میرے بھی استاد ہیں۔ مَیں کل آپ کو اُن کے پاس لے چلوں گا۔“ اِس پر احمد فراز اور توصیف تبسم دونوں بے اختیار ہنسنے لگے۔ پھر بھی طہٰ خان کی زبان سے کمال کا جملہ تو آخر میں نکلا جب انہوں نے گڑگڑا کر کہا :”زیادہ شرمندگی اِس بات کی ہے کہ مَیں نے یہ حرکت آپ جیسے بزرگ کے ساتھ کی۔“ بقول توصیف تبسم ”وہ مجھے صوفی تبسم سمجھ رہے تھے۔“

 گو رنمنٹ کالج لاہور میں تدریس اور یونیورسٹی آف ویلز میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کا وقفہ گزار کر مَیں 1980 ءکی دہائی کے اوائل میں ایک بار پھر اِس لیے راولپنڈی آ گیا تھا کہ گورڈن کالج میں اپنے ہی اساتذہ کی ہم نشینی ایک نیا لطف دے گی۔ پروفیسر آفتاب اقبال شمیم کے ہمراہ ، جنہوں نے چین سے دوسری مرتبہ واپس آ کر میرے ساتھ ہی جوائننگ دی ، شعبہءانگریزی میں دو دو کلاسیں پڑھا کر ہم بیک وقت مَیس میں داخل ہوتے تو عین سامنے توصیف تبسم کا اسم ِ بامسمی چہرہ ہمارا استقبال کرتا۔ آفتاب صاحب اُنہی کے پہلو میں بیٹھتے جبکہ میری نشست اکثر آصف ہمایوں قریشی اور مقصود چوہدری کے متوازی ہوتی۔ مستطیل میز کے مغربی سِرے پر دو صدارتی کرسیاں اردو کے پروفیسر وزیر الحسن نقوی اور ’جماندرُو‘ وائس پرنسپل مطیع اللہ خان کی تھیں جو ہماری طالب علمی کے دنوں سے اِس منصب پر فائز تھے۔ 

 عمر، مزاج اور تدریسی مضامین میں تنوع کے باوجود ہمارے مَیس میں خوش دلی کی فضا رہتی۔ یوں جیسے منجھے ہوئے کھلاڑی مِل کر شرفا والی کرکٹ کھیل رہے ہوں۔ کبھی ڈرائیو، کبھی سوِیپ، گاہے گاہے ہُک شاٹ ۔ مگر ریسٹ ڈے کو شامل کر کے تھا یہ پورے ہفتے والا ٹیسٹ میچ۔ بس ایک دن بیٹنگ وکٹ کو دیکھ کر مَیں یونہی اچانک ٹونٹی ٹونٹی کھیل گیا۔ اُس صبح کالج میں نئے ساتھی بابر ہاشمی کی آمد کے موقع پر چائے پیتے ہوئے توصیف تبسم اپنی تازہ غزل سُنا رہے تھے۔ کلام اثر آفریں تھا، خاص طور پر یہ شعر:

 نظر کے سامنے اِک خواب کا سا منظر ہے

 ہوا پکارتی ہے، دشت بولتا ہی نہیں

”ہائے، ہائے، ہائے، پھر پڑھیے۔“ شاعر نے پڑھ دیا۔ مَیں نے دوبارہ کہا ”پھر پڑھیے۔“ پھر دُہرا دیا گیا۔ ”پڑھتے رہیے ، پڑھتے رہیے۔“ یہ داد کا نقطہءعروج تھا۔ اب کے توصیف صاحب کے منہ سے ایک تاریخی جملہ نکلا:”پڑھتا رہوں، پڑھتا رہوں، جیسے آپ کا ملازم ہوں۔“ (جاری ہے) 

مزید :

رائے -کالم -