چیف جسٹس، سمندر اور ساگر ماتا

     چیف جسٹس، سمندر اور ساگر ماتا
     چیف جسٹس، سمندر اور ساگر ماتا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ڈاکٹر الانا، ڈاکٹر انوار صدیقی، ڈاکٹر انیس وائس چانسلرز اور جسٹس ڈاکٹر محمود غازی، ممبر نیشنل سیکیورٹی کونسل، وفاقی وزیر، جج سپریم کورٹ، وی سی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی وہ منارہ نور ہیں جن کے ساتھ میں نے 34 سال گزارے, سفر میں حضر میں اذان سحر میں، جی ہاں! ہر کسی کا اپنا رنگ ہے۔ رب کائنات کے اس مجموعہ اضداد کی ست رنگی نہیں، لگ بھگ صد رنگی دھنک سے میں کچھ زیادہ نہیں ہتھیا سکا۔ ڈاکٹر انیس اور ڈاکٹر غازی رحمہ اللہ تو علم و عرفان کے بحر نا پیدا کنار رہے۔ خوش قسمت ہوں کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتے کرتے کبرنی موت الکبریٰ کا عربی روز مرہ میری حد تک عملی مثال موجود ہے، ورنہ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی۔ فوتیدگان کو اللہ کریم کا قرب نصیب ہو اور ڈاکٹر انیس کو صحت سلامتی کے ساتھ ایمان کی حرارت حاصل رہے۔

نابغہ روزگار اور عصر رواں کے عبقری یعنی پروفیسر خورشید احمد کو میں البتہ پروفیسروں میں شامل نہ کر سکا۔ ان تک پہنچا تو فرہنگ ہفت رنگ کو بے بس پایا: آب رواں، رود، بحر، دریا ( فارسی بمعنی سمندر), رود بار, منارہ نور اور بحر نا پیدا کنار جیسی اصطلاحات ان کے آگے دست بستہ اور ہیچ ہی پائیں۔ پھر یاد آیا، نیپالیوں کے ہاں کوہ ہمالیہ ساگر ماتا کہلاتا ہے: "سمندروں کی ماں" مذکورہ افراد کے علاوہ اس ساگر ماتا سے بھی طویل تعلق رہا، اب بھی ہے، پر ان کے ساتھ جم کر کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کی زیر صدارت متعدد اجلاسوں میں شرکت ضرور کی۔ ان سب سے بہت سیکھا لیکن موقع کی مناسب سے آج کی بات بڑی مختصر اور حالیہ فل کورٹ بینچ کارروائی کے حوالے سے ہے۔ میں نے چار عشروں سے زیادہ پر محیط دورانیے میں مذکورہ لوگوں کی صدارت میں سینکڑوں اجلاسوں میں شرکت کی۔ سپریم کورٹ کے 17 جج عدالتی اختیارات کے اعتبار سے یکسر برابر ہوتے ہیں. اسی حالیہ فیصلے میں چیف جسٹس اور جونیئر ترین جج فیصلے پر دستخط کرتے وقت برابر پائے گئے. لیکن کیا اجلاسوں میں بھی یہ لوگ برابر دیکھے گئے؟ یہ آج کا موضوع ہے۔ اپنے تجربات بیان کیے دیتا ہوں۔ موازنہ خود کر لیں۔

مجھے اپنے ا ن حضرات کے ساتھ لیکچرر تا پروفیسر، برابری نہیں ماتحتی میں رہ کر ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہنا پڑا کہ سوال کرنا میرا حق ہے. لیکن سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کو نئے چیف جسٹس کے برابر ہو کر بھی پہلے ہی ماہ کہنا پڑا کہ سوال کرنا میرا حق ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ پچھلے ہفتے لکھ چکا ہوں کہ ٹی وی پر عدالتی کارروائی براہ راست دکھا کر چیف نے نامی گرامی وکلا کا پول کھول دیا ہے۔ اللہ کرے یہ سلسلہ جاری رہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ عدالتی مباحث بتدریج سیاست سے خالی ہو کر آئین و قانون کا رخ کر رہے ہیں۔ تاہم عدالتی اسلوب کار کے متعدد پہلو لائق توجہ ہیں۔ اجلاس کی کارروائی چلانے کا ایک دیگر اسلوب بھی ہے جو میں نے مذکورہ اکابر سے سیکھا۔ بیان کیے دیتا ہوں۔ حکمت کے موتی جہاں سے ملیں، لینا چاہئیں۔ چیف جسٹس فائز عیسی سے ہم اپنے پرائے سب نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ یہ سطور لکھتے وقت بھی میں ان کی صحت و سلامتی اور کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔

سینکڑوں اجلاسوں میں شرکت سے یہی سیکھا کہ صدر مجلس کو اپنے مزاج پر ہر دم، جی ہاں ایک ایک لمحہ، قابو رکھنا ہوتا ہے۔ موضوع بحث بیان کر کے وہ خاموشی سے شرکاءکے اہم نکات لکھتا رہتا ہے۔ بولتے شرکاء ہیں، صدر مجلس خاموش رہتا ہے۔ دیکھتا رہتا ہے کہ شرکا کتنے نکتہ ہائے نظر میں بٹے ہوئے ہیں۔ کس کا پلڑا بھاری اور کیوں بھاری ہے۔ دلائل کے ساتھ بھاری ہے یا کمزور دلائل والے تعداد میں زیادہ ہیں۔ وہ خالی الذہن تو نہیں آتا لیکن شرکاءاس کی مخالفت کریں تو نظر انداز بھی نہیں کرتا۔ کوئی دلیل دل کو بھا جائے تو رائے بدلنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا۔ ڈاکٹر انوار صدیقی مرحوم نے ایوان صدر سے موصولہ ہدایت پر شریعہ اکیڈمی بند کرنے کے لیے اجلاس بلایا۔ میں نے فوراً پیغام بھجوایا: "حضور، بندش سے قبل فیصلہ کن اجلاس نہیں چاہیے، بھرپور بریفنگ لیں. تیاری کے لیے میں نے تین دن مانگے، مان گئے۔ پھر میں نے ڈاکٹر انوار جیسے خود سر صدر جامعہ کے سامنے روسٹرم پر کھڑے ہو کر گھنٹہ بھر کی طویل بریفنگ دی دیگر نے بھی مختصراً بتایا۔ عصر تا عشاءسے ذرا قبل تک کا اجلاس ختم ہوا تو ڈاکٹر انوار کی رائے بدل چکی تھی۔ وہ جنرل مشرف سے کیسے نمٹے، یہ آج تک صیغہ راز میں ہے، میرے پوچھنے پر بھی گول کر گئے۔ لیکن اکیڈمی قائم ہے۔

ساگرماتا اور ڈاکٹر انیس اپنے زیر صدارت اجلاسوں میں بہت کم بولتے ہیں، لگتا ہے حالت اعتکاف میں ہیں۔ اجلاسوں کی غالب تعداد کے بعد یہی دیکھا کہ صدر مجلس ہی کی رائے اختیار کر لی گئی۔تو کیا اس کے با اختیار عہدے کے سبب؟ ہرگز نہیں! یہ ذہین افراد خاموش رہ کر اپنی رائے کے حق میں یا اس کے قریب تر بولنے والوں کا سہارا لیتے ہیں. انہیں اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں, انہی کے دلائل خوبصورتی سے دہراتے ہیں لیکن یہ کچھ اجلاس سمیٹتے وقت ہوتا ہے، ادھر اپنے فل کورٹ بینچ کے پہلے ہی اجلاس میں لوگ مسکرا مسکرا کر پوچھ رہے تھے: "چیف جسٹس بول رہے ہیں یا پارلیمان کا وکیل"؟ ان تمام تلخ و شیریں باتوں کے باوجود جسٹس فائز عیسی کا حالیہ بصیرت افروز فیصلہ بلا شبہ ایوان اقتدار کے اصل فیصلہ سازوں کے سامنے ایک جھلملاتی سرخ بتی ہے جس کے اندر گہرا سرخ تیر انہیں دائیں جانب پارلیمان کی طرف مڑنے کا حکم دے رہا ہے۔ لیکن حقیقتاً یہ حکم اباو_¿ٹ ٹرن کا ہے: واپس بیرک کی طرف!

جسٹس فائز عیسی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے منقسم عدالت عظمیٰ کا تصور دھندلا دیا ہے لیکن یہ تصور ختم نہیں ہوا۔ فیصلے کے اندر سکڑی، سمٹی اور لجائی سی بندیالی فکر موجود ہے۔ کسی جسٹس کا چیف سے یہ شکوہ ہو کہ سوال کرنا میرا حق ہے تو مضبوط عدالتی چٹان پر پڑی یہ ہلکی سی خراش آگے چل کر، اللہ نہ کرے، دراڑ بھی بن سکتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ چیف اور تمام جج صرف سنا کریں ،سوال کرنا ہو تو آخر میں، بولنا ہو تو بذریعہ فیصلہ۔ یوں ان کا یہ تحریری کلام ہمیں شیریں اور مثل انگبین لگے گا۔ بولتے وکیل کو البتہ صراط مستقیم پر رکھنے کو چیف کا بولنا ضروری ہوتا ہے۔ سوال تو بہرحال اس سے آخر میں اور باری باری ہی کیے جاتے ہیں۔ میں نے 35 سال قبل بھلے وقتوں کی عدلیہ میں یہی کچھ دیکھا۔ لیکن لگتا ہے، ثاقب نثار، کھوسہ، گلزار ، بندیال و غیرہم کی فکر سے سپریم کورٹ کو پاک ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ امید ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ، دیگر معززین اور وکلا عدالتی کارروائی میں حسن و خوبی پیدا کر کے بندیالی فکر سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -