یہ ڈبہ پیراور پیر سپاہی والے!

یہ ڈبہ پیراور پیر سپاہی والے!
یہ ڈبہ پیراور پیر سپاہی والے!

  


مستند علماءکرام خواہ ان کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہے، اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کو بھی سجدہ روا نہیں جو اس کے خلاف کرتے ہیں۔وہ سڑک اور گناہ کاارتکاب کرتے ہیں اور اگر کوئی عوام الناس کوسجدہ کرنے پر مائل کرے تو وہ اس سے بھی بڑا گناہ گار ہے۔روزنامہ ”پاکستان“ کی رپورٹنگ ٹیم نے جس جعلی پیر فخر عباس کا سراغ لگایا وہ ہر دو طریقوں سے بے راہ روی اور دین سے انحراف کا مرتکب ہورہا ہے۔وہ نہ صرف لوگوں سے خود کو سجدہ کراتا، بلکہ خواتین سے پاﺅں دھلواتا اور مہندی بھی لگواتا ہے۔تحصیل فیروز والا کی بستی حکیم آباد میں یہ سلسلہ کافی دیر سے جاری تھا اور اس پیرفرتوت فخر عباس کے کرتوت چھپے چلے آ رہے تھے کہ رپورٹنگ ٹیم نے بھانڈہ پھوڑ دیا۔

پیری مریدی کے حوالے سے یہ کوئی پہلا کیس سامنے نہیں آیا، ایسے ایسے کئی پیر پسماندہ علاقوں میں اپنے اڈے جما کر عوام کو کفر کی طرف دھکیل رہے ہیں اور خود عیش کرتے ہیں، درحقیقت ایسے لوگوں کا فریب اس لئے بھی چل جاتا ہے کہ لوگوں کی تعلیم واجبی ہے، بلکہ جہالت موجود ہے، اس کے علاوہ ایسے ان پڑھ لوگ توہم پرست بھی ہوتے ہیں اور نفسیاتی طور پر مسائل کا حل تعویذ گنڈے میں تلاش کرتے ہیں، نفسیات کے ماہرین کے مطابق اقتصادی دباﺅ کے شکار ان پڑھ معاشرے میں یہ دھندا خوب چلتا ہے کہ محروم لوگ محنت سے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ ایسے حضرات کے فریب میں یوں بھی آتے ہیں کہ ان کے حالات شاید تعویذ اور دعا ہی سے بدل جائیں اور یہ جعلی پیر لوگوں کی ایسی ہی کیفیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ہمارے بزرگ اور مستند جید عالم علامہ ابوالحسنات فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے ولی کبھی چھپے نہیں ہوتے۔اول تو ان کا حسب نسب سب کے سامنے اور علم میں ہوتا ہے۔دوسرے ان کے اعمال بھی ظاہر رہتے ہیں، اس سلسلے میں وہ بہت سے مزارات کے بارے میں بھی شک کا اظہارکردیتے تھے اور دلیل یہی تھی اللہ کے دوست کا حسب نسب چھپا نہیں ہوتا،بہرحال علمائے کرام کی نصیحت اور ہدایت کے باوجود یہ سلسلہ چل رہا ہے تو نام نہاد پیر تصوف اور دین کی غلط تشریح بھی کرتے ہیں، اس حوالے سے عام لوگوں خصوصاً پسماندہ علاقوں میں تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے اور یہ فرض بھی علماءکرام پر ہی عائد ہوتا ہے کہ وہ فروعی اختلاف چھوڑ کر لوگوں کے عقائد درست کرنے کی کوشش کریں۔ یہ نہیں کہ اگر میڈیا کسی جعلی پیرکا سراغ لگا کر اس کے ”کارنامے“ سامنے لے آئے تو فتوے جاری کردیئے جائیں۔

ہم نے ذکر کیا تھا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں دور ایوبی میں یہ شرف ہم کو حاصل ہوا کہ شامکے بھٹیاں(ملتان روڈ) میں ڈبہ پیر کو تلاش کرکے لوگوں کو اس سے نجات دلائی۔ یہ صاحب نیچی ذات(استغفراللہ.... اللہ معاف فرمائے) سے تعلق رکھتے تھے۔انہوں نے شامکے بھٹیاں میں چلہ کشی کا اعلان کیا اور پھر ڈبہ چالو کرنے کی رسم شروع کی۔ یہ صاحب لوگوں سے بناسپتی گھی کا پانچ کلو والا ڈبہ منگواتے اور بہت سے ڈبے اکٹھے کرکے تہہ خانے میں فروکش ہو جاتے کہ ڈبے چالو کرنے کے لئے چلہ کشی کررہے ہیں، مقررہ روز باہر آتے اور لوگوں کے یہ پانچ کلو والے خالی کنستر ان کے حوالے کردیتے اور نصیحت کرتے کہ روزانہ صبح ہاتھ ڈال کر ٹٹولے بغیر اس میں سے ایک نوٹ نکال لیا کریں۔

لوگ یہ خالی کنستر(جن کو ہم نے ڈبہ کہا) لے جاتے اور اگلے روز صبح ہاتھ ڈالتے تو وہ نوٹوں سے مس ہوتے، چنانچہ دس کا ایک نوٹ نکال لیا جاتا۔کچھ عرصہ تک یہ سلسلہ جاری رہتا پھر نوٹ ختم ہو جاتے۔عقیدت والا واپس شامکے بھٹیاں پہنچتا تو پیر کے بندے اسے اس کی غلطیاں گنانے لگ جاتے اور اسے انتظار میں ڈال دیتے۔ہمیں ہمارے ایک ہمسائے نے یہ بتایا تو تجسس ہوا، دفتر آکر سید اکمل علیمی سے بات کی اس کے بعد ہم بھی ایک ٹیم کی شکل میں یعقوب بھٹی(مرحوم) فوٹو گرافر کو ساتھ لے کر شامکے بھٹیاں پہنچ گئے۔ان دنوں پیر صاحب چلہ میں تھے۔اردگرد کے رہنے والوں اور پیر سے عقیدت والوں کے خیالات سنے اور تحقیق کی تو اندازہ ہوگیا کہ موصوف پہلے سرمایہ کاری کرتے اور پھر کمائی کرتے ہیں۔

 جس روز پیر چلہ کے بعد باہر تشریف لائے اس روز ہم وہاں موجود تھے۔پیر سے سوالات کی کوشش ان کے خادمین نے ناکام بنائی۔بہرحال ہم نے اسے ڈبہ پیر کا نام دے کر اس کے خفیہ کرتوت شائع کرنا شروع کئے تو شور مچ گیا ، پھر ہمارے دوسرے معاصر بھی میدان میں آ گئے۔ان دنوں مغربی پاکستان کے گورنر جنرل (ر)موسیٰ اور لاہور کے ایس ایس پی الحاج حبیب الرحمن(مرحوم) تھے جو زیادہ ہی روشن خیال تھے۔انہوں نے نوٹس لیااور ایک روز ہماری موجودگی میں ڈبہ پیر کو اپنے دفتر میں بلا لیا اور سوالات کئے، وہ جواب نہ دے سکا تو محترم حبیب الرحمن نے اس کو تنبیہہ کی اور کہا دینی عقائد اور لوگوں کے جذبات مجروح کرنے کے جرم میں اس کو جیل میں بند کرا دیا جائے گا تو وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا۔تسلیم کیا کہ وہ غلط ہے اور لوگوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا رہا ہے اس نے معافی طلب کی اور پھر یہ یقین دلایا کہ وہ کسی اور جگہ چلا جائے گا اور بھینسوں کا دودھ بیچ کر گزارہ کرلیا کرے گا، چنانچہ یہ ڈبہ پیر غائب ہوا۔

اسی دور میں ایک اور پیر برآمد ہوا، وہ پولیس کانسٹیبل تھا، اس کے بارے میں مشہور ہوگیا کہ وہ پھونک مار کر مریضوں کو شفا دے سکتا ہے۔ یہ شہرت اتنی بڑھی کہ اس شخص کی طرف سے کسی جگہ بیٹھنے کا اعلان ہوتا تو سینکڑوں لوگ انتظار کرتے، یہ صاحب وہاں پہنچ کر لاﺅڈ سپیکر کے ذریعے پھونکیں مارتے تھے۔میڈیا نے ان کو ”پیرسپاہی“ کا نام دیا اور پھر اس کے پیچھے پڑ گئے۔کچھ عرصہ ”پیرسپاہی“ کا جادو بھی سرچڑھ کر بولا اور بالآخر اسے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا کہ کاٹھ کی ہنڈیا بار بار نہیں چڑھتی۔آج کوئی ڈبہ پیر اور پیر سپاہی کا نام بھی نہیں جانتا۔

اب روزنامہ ”پاکستان“ کی ٹیم نے جس جعلی پیرفخر عباس کو دریافت کیا ہے وہ تو حد سے بڑھ چکا اور شرک کی حدوں کو چھو رہاہے۔انتظامیہ کی طرف سے کارروائی کا اعلان تو کیا گیا لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔حالانکہ عوام کے دینی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں اور شرک کے جرم میں اسے اب تک اندر ہونا چاہیے تھا۔ یہ فرض جتنی جلد ادا ہو اتنا ہی بہتر ہوگا کہ لوگوں کے عقائد خراب ہونے اور خواتین کی بے حرمتی بچ جائے گی۔ ٭

مزید : کالم


loading...