سندھ میں ہڑتال اور اس کے اثرات

سندھ میں ہڑتال اور اس کے اثرات

سندھ بچاﺅ کمیٹی کی طرف سے ہڑتال کی اپیل پر اندرون سندھ کافی اثر ہوا حتیٰ کہ لاڑکانہ میں بھی کاروبار مکمل طور پر بند تھا۔ قومی شاہراہ کی ٹریفک معطل رہی تاہم اس ہڑتال کے حوالے سے کسی گڑبڑ کے جو خدشات تھے وہ بے محل ثابت ہوئے اور یہ دن پر امن طور پر گزر گیا۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری حساس اضلاع اور مقامات پر خصوصی طور پر تعینات کی گئی ہڑتال کرنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا اس لئے کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی نہیں ہوا، اطلاع یہ ہے کہ کراچی اور سندھ کے بعض دوسرے شہروں میں یہ ہڑتال جزوی تھی قوم پرست جماعتوں کی طرف سے نیا بلدیاتی آرڈی ننس اس لئے مسترد کیا گیا کہ اس کے عملی نفاد سے سندھ دو حصوں میں منقسم ہوگیا۔ یہ دلیل اپنی جگہ درست ہے، لیکن اندرون سندھ سے ملنے والی اطلاعات سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خود قوم پرست جماعتوں کی طرف سے اس ہڑتال کے نتیجے میں جو اثرات مرتب ہوئے وہ وہی ہیں جو کہے جارہے ہیں کہ شہری اور دیہی تقسیم ہو گئی ہے۔

ہمارے نقطہ نظر سے جمہوری انداز یہ نہیں کہ بات کو دشمنی کی حدتک لے جایا جائے جمہوریت میں مذاکرات ایک اہم جزو ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے متحدہ کی بات مان کر بھی کہا جارہا ہے کہ یہ حرف آخر نہیں بہتر انداز یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ والے مل کر فیصلہ کریں اور پیپلزپارٹی کے زعماءخود پہل کر کے اپنے کہے پر عمل کریں اور قوم پرستوں سمیت سب سے دوبارہ بات چیت کریں تاکہ بلدیات والے مسئلے کا حل نکلے اور شہری دیہی والی بات بھی پس منظر میں چلی جائے قوم پرستوں کو بھی لچک کا مظاہرہ کرکے مذاکرات پر آمادہ ہونا چاہیے۔ جہاں تک موجودہ پیر پگاڑہ کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنے والد کی حکمت عملی کے خلاف حروں کو بھی عملی سیاست میں ملوث کرلیا ہے۔ پیرپگاڑہ(ہفتم) نے ان کو دوررکھا تھا۔ یہ سب حالیہ گروہ بندی کی وجہ سے ہے جو صدر آصف علی زرداری نے کی ہے اور مہر گروپ کے علاوہ شیرازی گروپ سے بھی بات کر لی ہے۔ پیر پگاڑہ نے اپنا گروپ تشکیل دے لیا ہے اس کے باوجود سندھ کے امن اور مستقبل کے لئے مذاکرات کے دوازے بند نہ کریںتو بہتر ہے اس سلسلے میں اگر صدر آصف علی زرداری کو پھر سے کراچی جاکر بیٹھنا اور ان حضرات سے رابطے کرنا پڑیں تو حرج نہیں۔

مزید : اداریہ


loading...