بلوچستان میں مزدوروں اور قبائلی سرداروں کا قتل

بلوچستان میں مزدوروں اور قبائلی سرداروں کا قتل

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں سڑک بنانے والے مزدوروں کو قطار میں کھڑا کرکے گولی مار دی گئی، دس مزدور موقع پر ہلاک ہو گئے، جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق میرانی اورعلیزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے یہ واردات کرنے والے دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے دوسری جانب خضدار میں قبائلی رہنما میر سعید احمد قلندرانی اور ان کے پانچ ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا ،مقتول سردار جرگے میں شرکت کے بعد ساتھیوں کے ساتھ گھر جارہے تھے۔

بدامنی کی آگ میں جلنے والے بلوچستان میں یہ دونوں افسوسناک وارداتیں اس وقت ہوئیں جب پورا ملک کراچی اور لاہور میں دو فیکٹریوں کے اندر لگنے و الی آگ سے جل جانے والوں کے سوگ میں ڈوبا ہوا تھا، کراچی کے محلوں میں بیک وقت کئی کئی جنازے اٹھے اور لوگ اپنے پیاروں کے یوں اچانک بچھڑنے کی وجہ سے غم و اندوہ کی تصویر بنے ہوئے تھے کہ دس مزدوروں کو سفاکانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دینے کی افسوس سناک خبر ملی، کراچی اور لاہور کی فیکٹریوں میں بھی مرنے والے مزدور تھے اور مستونگ میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے بھی سڑک بنانے میں مصروف تھے، ان سب کا تعلق بلوچستان کے دو معروف قبائل سے تھا اور یہ لوگ اپنے بال بچوں کے لئے روزی کمانے کی خاطر مزدوری کیلئے آئے ہوئے تھے کہ اچانک ان بیچاروں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی، فیکٹری مزدوروں کے پسماندگان کیلئے تو امداد کے اعلانات ہوگئے ان کے خاندانوں کی کفالت کون کرے گا؟ یہ سوال تو بنیادی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ سفاک قاتلوں نے ان بے مایہ لوگوں کو قتل کرکے کیا حاصل کیا؟ اور یہ واردات کرنے والوں کے مقاصد کیا تھے؟ یہ لوگ نہ تو قاتلوں کے کسی منصوبے کی راہ میں حائل تھے اور نہ ہی ان کا تعلق کسی ”دوسرے“ علاقے سے تھا، یہ فرزندان سرزمین تھے اور حلال روزی کمانے میں اپنا خون پسینہ صرف کررہے تھے فوری طور پر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ واردات کرنے والوں کے مقاصد کیا ہیں، بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق ایسے گروہوں سے ہو سکتا ہے جو بلوچستان میں مسلسل بدامنی پھیلائے رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے پردے میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہئے ہیں۔

بلوچستان میں اس طرح کے سنگین واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں ،لوگوں کو بسوں سے اتار اتار کر ہلاک کیا جاتا رہا ہے، ڈاکٹروں، انجینئروں، پروفیسروں اور فنی مہارت رکھنے والے لوگوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے۔ ہزارہ قبائل کے لوگ بھی فرقہ وارانہ منافرت کی بھینٹ چڑھتے رہے ہیں، ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ جلسوں میں دھماکے بھی کئے جاتے ہیں اور ر یموٹ کنٹرول بموں کے ذریعے لوگوں کو ہلاک کیا جا تارہا ہے۔ بعض واقعات کی ذمہ داری بھی کچھ تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ ایسے ہر واقعہ کے بعد بلوچستان کی حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ دار افراد یہ بیان تو جاری کردیتے ہیں کہ ملزموں کو قرار واقعی سزا دی جائیگی اور وہ بچ کر نہیں جا سکیں گے ۔لیکن اس طرح کے عزائم پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے اور ابھی ان اعلانات کا ارتعاش فضاﺅں میں موجود ہوتا ہے کہ اس طرح کی کوئی دوسری ہولناک واردات ہو جاتی ہے، اس کا مطلب تو صاف یہ ہے کہ انتظامیہ کا حالات پر کوئی کنٹرول نہیں، وارداتیں کرنے والے دناندتے پھرتے ہیں، اور جہاں چاہے واردات کرکے اطمینان سے فرار بھی ہو جاتے ہیں، جرائم پیشہ لوگوں نے انتظامیہ کو چیلنج کر رکھا ہے، جس کے جواب میں انتظامیہ بظاہر کوئی ایسی موثر کارروائی کرنے کے قابل نہیں لگتی جس سے دہشت گردوں کی کمر توڑی جا سکے، وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات اتنے خراب نہیں جس کی تصویر کشی میڈیا کرتا ہے لیکن ان سے یہ تو پوچھا جانا چاہئے کہ یہ جو آئے روز ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہوتی ہیں کیا ان کا سدباب ممکن ہے یا نہیں؟ اور ان کی حکومت کے پاس اس صورت حال کے تدارک کا کوئی منصوبہ بھی ہے یا نہیں؟

بلوچستان کی پوری اسمبلی شامل حکومت ہے، ایک کے سوا سارے ارکان اسمبلی وزیر مشیر ہیں۔ جو جھنڈے لگا کر قیمتی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں، کروڑوں کے فنڈز ان وزیروں کے ڈسپوزل پر ہیں، جنہیں وہ اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہ ان فنڈز کا استعمال عوامی مفاد کے پیش نظر نہیں، اپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں، کئی وزراءپر الزام ہے کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں، ایک وزیر کو جعلی ڈگری پر نا اہل قرار دے دیا گیا ہے، خود وزیر اعلیٰ کا یہ حال ہے کہ وہ زیادہ وقت اسلام آباد میں ہوتے ہیں، حکومت کے ان ارکان کی سارے دن کی سرگرمیوں کا اگر دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو کہیں بھی نہیں لگتا کہ یہ وزرائے کرام صوبے کا حالات سے پریشان ہیں۔ یا ان حالات کو بدلنے کا کوئی وژن یا ارادہ رکھتے ہیں، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے صوبے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے اور خود وزارتیں انجوائے کر رہے ہیں۔ ان کا رویہ یہ ہے کہ جو ہوتا ہے ہوتا رہے۔ ہماری بلا سے، کیا حکومتیں اسی طرح کام کرتی ہیں؟ اسمبلی میں قانون سازی بھی مضحکہ خیز انداز میں ہوتی ہے۔ کورم پورا نہیںہوتا اور چند لوگ یہ طے کرکے کہ کورم کی نشاندہی نہیں کریں گے، قانون پاس کر لیتے ہیں، جب سے یہ حکومت بنی ہے اس وقت سے ان کا یہی رویہ ہے۔ وزراءکی ساری سرگرمیوں کا مرکز و محور ان کے اپنے مفادات ہیں صوبے کے حالات سے انہیں کوئی غرض نہیں۔

جہاں تک افسروں کا تعلق ہے کوئی بھی بڑا افسر خوش دلی سے صوبے میں تعیناتی پسند نہیں کرتا،صرف وہی لوگ صوبے میں ڈیوٹی پر جاتے ہیں جنہیں مجبوراً ایسا کرنا پڑتا ہے۔ جو افسر اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنا تبادلہ رکوا سکیں، وہ ایسا ہی کرتے ہیں حال ہی میں وفاقی حکومت نے نئی پالیسی بنائی ہے لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو پا رہا، سپریم کورٹ میں جو مقدمات زیر سماعت ہیں، ان پر نظر ڈالی جائے تو بھی صوبے کی کوئی خوش کن صورت حال سامنے نہیں آتی، من مانیوں کا رواج عام ہے۔ عدالتوں میں جن افسروں کو طلب کیا جاتا ہے وہ حیلوں بہانوں سے غیر حاضر رہتے ہیں، جو احکامات عدالتیں جاری کرتی ہیں ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہوتا، ایسے لگتا ہے پورا سسٹم شکست وریخت کا شکار ہے اور اسے بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی۔ ایسے میں اگر ایک ہی واردات میں دس بے گناہ مزدور قتل ہو جاتے ہیں، اور قبائلی سردار کو ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا جاتا ہے یا پھر پراسرار انداز میں سڑکوں پر ان لوگوں کی لاشیں ملتی ہیں جنہیں غائب کر دیا گیا تھا تو دکھ کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہوتی ہے کہ لوگوں کی جان و مال کے محافظ عوام سے کس طرح لاپروائی کا مظاہرہ کررہے ہیں؟اپنے شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کا قیام حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور جو حکومت اس ذمہ داری سے پہلوتہی کرتی ہے یا اس میں ناکام رہتی ہے تو وہ حکومت کہلانے کی مستحق نہیں، ماضی میں جب حکومتوں کو برطرف کرکے گورنر رائج لگائے گئے تو حالات اس سے کہیں بہتر تھے لیکن اب ناگفتہ بہ حالات میں بھی وفاقی حکومت اس طرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھاتی، بلوچستان کی حکومت تو اپنا حق حکمرانی کھو چکی کیا وفاقی حکومت اس سلسلے میں کوئی اقدام کرے گی؟

مزید : اداریہ


loading...