نصیر آباد ،جعفر آباد اورڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی ریلے میں بہہ جانیوالے 42افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

نصیر آباد ،جعفر آباد اورڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی ریلے میں بہہ جانیوالے ...

خیرپور/سکھر/جعفر آباد / ڈیرہ غازی خان (آئی این پی) جنوبی پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میںسیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں،ہزاروں دیہات زیر آب اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں،کچے وپکے مکانات، جھونپڑیاں اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔نصیرآباد، جعفرآباد اور ڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے42 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ۔ہزاروں افراد اونچے مقامات پر پناہ لئے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں، ہزاروں مرغیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں ۔جمعہ کو اطلاعات کے مطابق ضلع خیر پور کے علاقوں نارا ، کوٹ ڈیجی ، شادی شہید اور پیر کوکو میں پہاڑی ندی نالوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے مزید 30دیہات ڈبودیئے۔ ضلع میں زیر آب آنے والے دیہات کی تعداد 100 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ پیر کو کو سے کوٹ ڈیجی تک تقریباً 50کلومیٹر کا علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ٹھیڑی میں پانی کی نکاسی نہ ہونے اور امداد نہ ملنے کے خلاف لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔سکھر کی تحصیل صالح پٹ اور نارا کے پہاڑی علاقوں سے بہہ کرآنے والے سیلابی ریلے نے ہزاروں ایکڑ پر کاشت کی گئی سبزیوں ، کپاس اور چاول کی فصلیں تباہ کر دی ہیں۔ پانی نے پولٹری فارمز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہزاروں مرغیاں بہہ گئیں۔ جیکب کی شاہی کینال میں پڑنے والے شگاف سے 150سے زائد دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ ادھر ڈیرہ غازی خان، راجن پور، جام پور اور تونسہ کے مختلف متاثرہ علاقوں میں فوج کی جانب سے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اب تک 1500 خاندانوں میں راشن کے تھیلے تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ ادھربلوچستان کے ضلع نصیرآباد اور جعفرآباد میں سیلابی ریلے اور بارشوں نے تباہی مچادی ہے اوراب بھی سیلابی صورتحال پر قابو نہیں پایا جاسکا ۔ ڈھائی ہزار سے زائد دیہات زیرآب آئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ۔دوسری جانب نصیرآباد، جعفرآباد اور ڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے42 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ۔ اب بھی ہزاروں افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ الہ یار ، ڈیرہ مرادجمالی ، صحبت پور ، نصیر آباد اور جعفر آباد میں 4 سے 5 فٹ پانی جمع ہے۔ نصیر آباد جعفر آباد کے علاقوں ربی اور منجو شوری میں 10 سے 12 فٹ پانی کھڑا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...