امریکہ نازیبا مواد کو مسترد اور مذہبی آزادی کی حمایت کرتاہے،ہیلری کلنٹن

امریکہ نازیبا مواد کو مسترد اور مذہبی آزادی کی حمایت کرتاہے،ہیلری کلنٹن

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی گزشتہ شام یہاں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں مسلم امریکینز کے ساتھ عید الفطر کی خوشیاں شیئر کرنے کے لئے استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے خصوصاً نوجوان امرکینز کی بھاری تعداد نے شرکت کی ۔ لیبیا میں تشدد کے نتیجے میں امریکی سفیر سمیت چار سفارتکاروں کے جاں بحق ہونے کے باعث عید کی خوشیوں کے اظہار کے لئے برپا ہونے والی تقریب کا ماحول بہت سوگوار تھا۔ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے مہمانوں کو خیرمقدم کرتے ہوئے بڑے بوجھل دل کے ساتھ اپنے بچھڑنے والے ساتھیوں کو یاد کیا اور چند لمحوں بعد اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے حاضرین کو عید مبارک بھی کہا۔ اس تقریب سے دیگر خطاب کرنے والوں میں مسلم کمیونٹی کے لئے امریکہ کی خصوصی نمائندہ فرح پنڈت بھی شامل تھیں یہ خاتون سری نگر سے تعلق رکھنے والی کشمیری مسلم ہے۔ امریکہ میں لیبیا کے سفیر اوجالی کے علاوہ تین مسلم نوجوانوں نے بھی مختصر تقاریر کیں جن میں پاکستانی امریکن مجاہد علی کے علاوہ خحیرہ خان اور محمد علی شامل تھے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ ہیلری کلنٹن نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ہم مذہبی آزادی اور برداشت پر یقین رکھتے ہیں جو کسی بھی قوم کے استحکام کے لئے بہت ضروری ہے۔ تمام عقیدے کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بن غازی میں ایک چھوٹے گروپ نے جو پر تشدد کارروائی کی ہے وہ خدا اور مذہب کا احترام کرنے کا طریقہ نہیں ہے اور نہ وہ دنیا بھر میں بسنے والے ایک بلین مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت نے اس فعل کی مذمت کی ہے۔ ہیلری کلنٹن نے صاف لفظوں میں کہا کہ انٹرنیٹ پر جس فلم کے بارے میں ویڈیو چلی ہے جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے ہم اس کے مواد اور پیغام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ امریکہ دوسروں کے مذہبی عقائد کی توہین کرنے کی سوچی سمجھی کوششوں کی پوری سختی سے مذمت کرتاہے۔ سیکرٹری کلنٹن نے کہا کہ آج صبح ہمارے اجلاس میں جیسا کہ مراکش کے وزیر امور خارجہ نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ تمام پیغمبروں کا احترام ہونا چاہیے کیونکہ وہ پوری انسانیت کے لئے سمبل کا مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر نفرت اور تشدد سے ماحول میں زہر بھرتا ہے۔ بے حرمتی کا جواب دینے کے کئی طریقے ہیں اور ضروری نہیں کہ اس کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کیاجائے۔ امریکہ میں لیبیا کے سفیر اوجالی نے جو لیبیا میں جاں بحق ہونے والے امریکی سفیر کے ذاتی دوست تھے بن غازی میں تشدد کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ کارروائی لیبیا کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے کیونکہ امریکی سفیر لیبیا اور خصوصاً بن غازی کے عوام میں بہت مقبول تھے۔ امریکہ کی خصوصی مندوب فرح پنڈت نے بتایا کہ ہر سال سیکرٹری کلنٹن عید کے حوالے سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں امریکن مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کے لئے تقریب منعقد کرتی ہیں اور وہ ان کی ترقی میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شعبے نے حکومتوں کی بجائے مسلم ممالک کے افراد اور خصوصاً نوجوانوں سے رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے تاکہ انہیں انتہا پسندی کے خلاف تحریک میں شامل کیاجائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...