علی موسیٰ گیلانی کی سپریم کورٹ کے گیٹ پر گرفتاری و رہائی25ستمبر تک ضمانت منظور

علی موسیٰ گیلانی کی سپریم کورٹ کے گیٹ پر گرفتاری و رہائی25ستمبر تک ضمانت ...

اسلام آباد(این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک) ایفیڈرین کیس میں اینٹی ناکوٹکس فورس نے سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے پہلے ہی گیٹ پر سابق وزیرا عظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی کو گرفتار کر لیا جس کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے اسے فوری پیش کرنے کا حکم دیدیا اور پھر ملزم کو عدالت میں پیش کردیا گیا ۔ عدالت نے ان کے وکیل خالد رانجھا کے دلائل سننے کے بعد پانچ ، پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض 25ستمبر تک ضمانت منظور کرلی ۔ جمعہ کو جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایفیڈرین کیس میں علی موسی گیلانی کی جانب سے دائر درخواست ضمانت کی سماعت کی تو ان کے وکلا نے عدالت کو بتایا علی موسیٰ گیلانی کو نوٹس جاری ہو چکا تھا لہٰذا عدالت کے گیٹ سے ان کی گرفتاری توہین عدالت ہے۔ مختصر سماعت کے بعد عدالت نے علی موسیٰ گیلانی اور گیٹ سے گرفتار کرنے والے اے این ایف کے اہلکاروں کو آدھے گھنٹے میں پیش ہونے کا حکم دیا جس کے بعد اے این ایف نے علی موسیٰ گیلانی کو عدالت میں پیش کر دیا اور سپریم کورٹ نے عدالت کے باہر سے گرفتار کرنے پر اے این ایف حکام کی سرزنش کی۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے علی موسیٰ گیلانی کی 25ستمبر تک ضمانت منظور کرلی ۔عدالت نے علی موسیٰ گیلانی کی ضمانت کو 5 لاکھ کے مچلکوں پرمنظور کیا ۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری کو بھی 25 ستمبر کو زیر سماعت لایا جائے گا۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علی موسیٰ گیلانی نے سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر باوردی لوگ نہیں کرتے۔ علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ 94 ہزار ووٹ لیکر منتخب ہوئے ہیں، چاہتے تو سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر 50 ہزار لوگوں کو بلا سکتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں عدالت پر تو اعتماد ہے تاہم اے این ایف پر نہیں۔ علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ اے این ایف کے پیش کردہ چلان کے مطابق بھی وہ مرکزی ملزم نہیں ہیں۔ علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا میڈیا گواہ ہے ¾ انہیں اے این ایف ڈائریکٹوریٹ میں کمرے میں بٹھاکر رکھاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر توہین عدالت لگی لیکن پھر بھی عدالتوں پر اعتماد کیا اور سپریم کورٹ پر بھی اعتماد ہے۔انہوںنے کہاکہ مجھے ایفیڈرین کیس کا مرکزی ملزم نہ گردانا جائے مجھ پر الزام ہے کہ میں نے دباﺅ ڈالا انہوں نے کہا کہ مجھے اے این ایف پر اعتماد ہے. میں سپریم کورٹ کا مشکور ہوں جس نے میرے نہیں یقین کو اور پختہ کردیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...