یمن،مصر،مراکش،سوڈان،ایران،بنگلہ دیش،عراق سمیت مسلم ممالک میں مظاہرے،امریکی پرچم نذرآتش ،پنجاب اسمبلی میں گستاخانہ فلم کے خلاف مذمتی قرار داد منظور

یمن،مصر،مراکش،سوڈان،ایران،بنگلہ دیش،عراق سمیت مسلم ممالک میں ...

لاہور(جنرل رپورٹر/سٹاف رپورٹر)پنجاب اسمبلی نے امریکہ میں بننے والی گستاخانہ فلم کےخلاف اورکراچی اورلاہور کی دو فیکٹریوں میںآتشزدگی سے جانی نقصان پر اظہار افسوس کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لیں جبکہ اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کر دیا گیا ‘ صحافیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ اور پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاجی مظاہرہ کیا ، اپوزیشن نے بھی صحافیوں سے اظہار یکجہتی کےلئے ایوان سے واک آﺅٹ کر کے احتجاج میں شرکت کی ۔ پنجاب اسمبلی کا 41واں اجلاس مقررہ وقت تین بجے کی بجائے 25منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا ۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولﷺ کے بعد مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری ظہیر الدین نے کہا کہ کراچی اور لاہور کی دو فیکٹریوں میںآتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونےوالوں کےلئے فاتحہ خوانی کرائی جائے جس پر ایوان میں فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اجلاس میںچوہدری ظہیر الدین کی طرف سے متعلقہ قواعد معطل کر کے توہین رسالت پر مبنی فلم کے حوالے سے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی گئی ۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان متنازعہ فلم میں نبی اکرم کی شان اقدس میں کی گئی گستاخی کی مذمت کرتا ہے او رمطالبہ کرتا ہے کہ اس کے ذمہ داروں کےخلاف کارروائی کی جائے ۔ مہذب دنیا کے تمام مالک دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے داعی ہیں جبکہ اس دعویٰ کے برعکس انہی ممالک میں اخبارات اور میڈیا کے لوگ نبی آخر الزمان کی ( نعوذ با اللہ) تسلسل کیساتھ توہین کر کے امت مسلمہ کے جذبات بھڑکانے کی سازش کر رہے ہیں۔ توہین آمیز فلم کی ریلیز اور اس سے قبل اسی قسم کے خاکوں کی اشاعت کے پے درپے واقعات پرپوری دنیا کے مسلمانوں میں سخت غم و غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے لہٰذا دنیا میں امن کے قیام کے لئے مسلمانوں کی دل آزاری کا یہ مذمم سلسلہ فی الفور بند ہونا چاہیے ۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی کہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کے مکروہ جرائم کی جسارت نہ کر سکے ۔ مذکورہ قراردادکو متفقہ طور پر منظو رکر لیا گیا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے بھی قواعد معطل کر کے کراچی اور لاہور میں آتشزدگی کے واقعات کے حوالے سے قرارداد پیش کی ۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان آتشزدگی کے ہولناک واقعات کے نتیجے میں ہوےنوالی جانی نقصان پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہا رکرتا ہے او ران واقعات کو انسانی المیہ اور قومی سانحہ قرار دیتا ہے ۔ ان سانحات پر ہونیوالی ہلاکتوں پر ہر آنکھ اشکبار ہے او رپورا ملک سوگ کی کیفیت میں ہے ۔ یہ ایوان دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور انکے لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطائے فرمائے ۔ مذکورہ قرارداد کوبھی متفقہ طورپر منظو رکر لیا گیا ۔قبل ازیں صحافیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور تمام صحافی پریس گیلری سے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر جمع ہو گئے جہاں دیگر صحافی تنظیموں کے عہدیدار بھی موجود تھے جنہوںنے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ اپوزیشن نے بھی صحافیوں سے اظہا ریکجہتی کرتے ہوئے واک آﺅٹ کیا اور انکے احتجاج میں شرکت کی ۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے صوبائی وزیر ملک ندیم کامران‘ حاجی اللہ رکھا ‘ رانا ارشد ‘ احسان الحق نولاٹیا اور آمنہ الفت کو صحافیوں کو منانے کےلئے بھیجا تاہم صحافیوں نے واپس آنے سے انکار کر دیا ۔ وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے یقین دہانی کرائی کہ صحافیوں کی تین روز میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کراﺅں گا جس پر صحافیوں نے پیر تک احتجاج ختم کر دیا اور واپس آگئے ۔اجلاس میں وقفہ سوالات جاری تھا کہ حکومتی رکن اصغر علی منڈا نے کورم کی نشاندہی کر دی اور مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر اجلاس 15منٹ کےلئے ملتوی کر دیا گیا اور دوبارہ اجلاس شروع ہونے پر بھی تعداد پوری نہ ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک لئے ملتوی کردیا ۔ اس موقع پر اپوزیشن اراکین شیم شیم کے نعرے لگاتے رہے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...