پاکستانی حکومت چاہے تو عافیہ جلد رہا ہوکر واپس آسکتی ہیں، ٹینا فوسٹر

پاکستانی حکومت چاہے تو عافیہ جلد رہا ہوکر واپس آسکتی ہیں، ٹینا فوسٹر

لاہور (نامہ نگار خصوصی) امریکی سینیٹر مائیک گریول نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سزا دینا ایک جرم ہے جس کا ارتکاب امریکی سرزمین پر کیا گیا۔ وہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار میں جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے زیر اہتمام ”بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کا اطلاق“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وکیل ٹینا فاسٹر سپریم کورٹ بار کی نائب صدر عمرانہ پروین بلوچ اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ مائیک گریول نے کہا کہ اسلام کے بارے میں بنائی گئی متنازع فلم قابل افسوس اقدام ہے۔ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں وہ پھر بھی مسلمانوں سے معذرت خواہ ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ کیس کی طرح اس فلم کے معاملے میں امریکی عوام ملوث نہیں ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے حوالے سے مزید کہا کہ انہیں ایک عرصہ تک حبس بے جا میں رکھا گیا۔ ان کی کوئی شنوائی تھی اور نہ ہی انہیں وکیل کی خدمات میسر تھیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں دو سال تک کسی کو پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وکیل ٹینا فاسٹر نے کہا کہ وہ حال ہی میں ڈاکٹر عافیہ کی وکیل مقرر ہوئی ہیں۔ اس سے قبل انہیں امریکہ اور پاکستان کے اشتراک سے ایک وکیل فراہم کیا گیا جن کی سرکاری فیس کئی لاکھ مقرر کی گئی۔ اس کے باوجود عافیہ صدیقی کیس کی صحیح پیروی نہیں کی گئی۔ تفتیش کے نقائص اور شواہد کے بارے میں عدالت کی درست رہنمائی نہیں کی گئی تھی۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور عمرانہ پروین بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے جس میں انسانوں کو سب سے زیادہ حقوق دیئے گئے۔ رمشاءمسیح کے ساتھ زیادتی ہوئی تو پوری پاکستانی قوم اٹھ کھڑی ہوئی۔ جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں امریکہ کی بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسی طرح امریکہ میں مذہب اسلام کی توہین کے لئے ایک فلم بنی، اس پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ امریکہ کو مسلمانوں کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے فوری طور پر اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کردینی چاہئے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...