Šž¢”ª  ¤„

Šž¢”ª  ¤„
Šž¢”ª  ¤„

  

کوشش آغاز کار کا پہلا قدم ہے، مگر اس سے بھی پہلے خلوص نیت کہ کامیابی نیک نیتی کو ملتی ہے۔ اگر نیت ٹھیک ہو تو پھر انسان صرف کوشش ہی کر سکتا ہے کہ نیتوں کا حال جاننے والا اس کی ریاضت کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ کائنات کی سب سے سچی کتاب کہتی ہے: ”لیس للا نسان الا ماسعی“....ترجمہ: انسان کے لئے کوئی شے نہیں مگر کوشش۔

کُل جماعتی کانفرنس.... اسلام آباد میں امن کی تلاش میں ایک اور محفل سجی۔ نغمہ سراو¿ں نے درد میں ڈوب کر سُر اور تال ملانے کی بھرپور کوشش کی کہ سُننے والوں کے لئے اس بار سوز و گداز پیدا کیا جاسکے۔ وہ جان جائیں کہ پہلے کی طرح یہ محفل بے سروں نے نہیں، بلکہ استادوں نے سجائی ہے۔ امن، امن کے راگ نے محفل گرمائے رکھی، مگر اندازے بتاتے ہیں کہ یہ رات ابھی باقی ہے۔ ستارئہ سحری کہیں بادلوں کی اوٹ میں چھپا بیٹھا ہے کہ جس کے طلوع ہونے کے بعد ہی صبح نو کی امید پر یقین پختہ تر ہوتا ہے۔ ڈرون حملوں کا دہشت گردی سے گہرا تعلق ہے، اسی کے ری ایکشن میں دہشت گرد ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ ڈرون مسئلہ اقوام متحدہ میںلے جا کر امریکہ کو روکا جائے گا؟.... ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے.... آئی ایم ایف، امریکی خوشنودی، برطانیہ میں چلتے کاروبار اور عام انتخابات میں برطانیہ کی غیر معمولی دلچسپی۔ کیا یہ حکومت امریکہ کو ناراض کرنے کا رسک لے گی؟....”جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا“.... زندہ قوم، آزاد ملک، جمہوریت، ملکی سلامتی اور خود مختاری، مگر عملی طور پر سب کچھ اس کے برعکس:

اصولوں کو بدلنا پڑ رہا ہے

پرائی آگ میں جلنا پڑ رہا ہے

امریکہ کس قدر دیدہ دلیری سے ڈرون حملے کرتا رہا؟ جبکہ خود امریکیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مکمل اجازت و معاونت سے یہ جارحیت کر گزرتے ہیں۔ دہشت گردی کا جِن اپنا سایہ پورے ملک پر نہیں پھیلا چُکا۔ اسے پھیلانے میں انہی لوگوں کی کمزوریوں اور غیر ذمہ داریوں کا مکمل عمل دخل ہے جو پچھلی حکومت میں تھے، بلکہ فرینڈلی اپوزیشن بھی اپنی ذمہ داریوں سے نبر آزما ہونے میں مکمل طور پر ناکام آ رہی ہے۔ اگر حکومت اقتدار کے نشے میں مدہوش رہی اور این آر او کے ذریعے اقتدار سے نوازنے والے غیر ملکی آقاو¿ں کو ناراض نہیں کر سکتی تھی تو اپوزیشن کا فرض تھا کہ وہ اسے ہوش میں لانے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتی، مگر وہ بھی مکمل پانچ سال سوئی رہی۔ دونوں نے دہشت گردی کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، بلکہ ایک دوسرے کو کندھا فراہم کیا۔ پانچویں صدی کے عظیم سکالر امام ابن جوزیؒ کا فرمان ہے: ”سونے والا اونگھنے والے کو بیدار نہیں رکھ سکتا“.... حکومت مدہوش رہی اور اپوزیشن لمبی تان کے سوتی رہی، جبکہ دہشت گرد جاگتے رہے اور آج سب کی نیندیں حرام ہو چکیں۔

طالبان تخلیق کرنے والوں نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ دشمن کے گلے میں ڈالنے کے لئے تیار کردہ پھندا خود اپنے گلے میں آپڑے گا۔ شاید ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“.... اسی کو کہتے ہیں۔ کانفرنس کے نتائج کی کامیابی کے لئے حسن ظن رکھنا چاہئے کہ امن ریاست کی روح کا نام ہے، یہ ناپید ہو جائے تو ریاست کا وجود مردہ ہو جاتا ہے۔ ادارے تباہ حال اور معیشت زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہے اور ریاستی اکائی روز بروز بکھرنے لگتی ہے۔ روس ابھی کل کی بات ہے اور بنگلہ دیش تو ہمارے اپنے کینسر کی مثال، مگر حکومت کو بتانا چاہئے کہ پچھلی آل پارٹیز کانفرنسیں کیوں اپنے فیصلوں پر عمل نہ کروا سکیں اور اس بار کیا نیا ہوا ہے اور کیسے ممکن ہوگا؟ جن ریاستی دفاعی اداروں نے امن قائم کرنا ہے اور ہمیشہ سے ہر کانفرنس میں انہوں نے جمہوری پارٹیوں کے فیصلوں پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی، پھر ماضی میں کیونکر کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ کیا صرف چہروں پر سنجیدگی کے تاثر سے یہ سب ممکن ہے یا خلوص نیت چاہئے، خلوص نیت۔

مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی حکومت میں اب تک جو واضح فرق نظر آ رہا ہے، وہ سنجیدگی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کسی بھی بڑے سے بڑے معاملے پر کسی قسم کی سنجیدگی دکھانے سے قاصر ہوتی تھی۔ بے حِسی اور لاپرواہی سے کام لیتی رہی ، لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھرپور سنجیدگی دکھا رہی ہے، مگر صرف سنجیدگی، عملی طور پر گراو¿ٰنڈ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ مہنگائی نے زندگی سزا بنا دی، لیکن سنجیدگی کمال کی ہے۔ وزیراعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک سب کے چہرے خوشی و شادمانی بھول چکے۔ کیا یہ ناکامی کا خوف ہے کہ دہشت گردی، لاقانونیت، غربت اور مہنگائی ان کے کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور ان کے چہروں پر بے بسی کا رنگ غالب آچکا۔ خادم اعلیٰ کے پچھلے دور کے ترانے اور ولولے بھی کہیں نظر نہیں آ رہے:

افلاس نے میرے بچوں کو تہذیب سکھا دی

سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

کامیابی ممکن ہے.... اگر حکومت یہ طے کر لے کہ اس نے تمام گروہوں سے بات چیت کر کے اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور کانفرنس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے نیک نیتی سے آگے بڑھنا ہے۔ میاں نواز شریف کی حکومت کی کامیابی یا ناکامی دونوں کا دارومدار امن پر ہے۔ چین واضح کر چکا۔ پہلے امن قائم کرو، پھر سرمایہ کاری ہوگی، جبکہ میاں صاحب کے تمام میگا پراجیکٹ کہ جن کا وہ اپنی تقاریر میں دعوے کرتے رہے ہیں، اس کے لئے چین سے وہ معاہدے بھی کر چکے، ان پر آغاز کا انحصار ملکی حالات کی بہتری سے مشروط ہے۔ تمام پارٹیاں انہیں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلا چکیں۔ اب عمل کرنے کا وقت شروع ہو چکا۔ اب میاں نواز شریف کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ہاتھ سے بندوق لے کر امن قائم کریں تاکہ چین سے سرمایہ کاری کر کے خوشحالی کے بڑے بڑے منصوبوں پر کام کا آغاز کر سکے اور اس کے تحفظات دور ہوں۔ پوری قوم دعا گو ہے کہ امن قائم ہو اور خوشحالی کا دور لوٹ آئے۔

کانفرنس میں سب رہنماو¿ں نے مل کر لائحہ عمل بنایا، کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ ملک کی ٹاپ لیڈر شپ مل کر شام پر ممکنہ امریکی جارحیت کی بھی یک زبان ہو کر مذمت کر دیتی تاکہ ہر جماعت کے علیحدہ علیحدہ جلوس نکالنے اور سڑکیں بند کرنے کے اذیت ناک ڈراموں سے عوام بچ جاتے، مگر شاید سیاست کے لئے اپنا اپنا الگ سٹیج شو ضروری ہے کہ ثابت کیا جاسکے کہ اسلام کے اصل ٹھیکیدار ہم ہیں۔   ٭

مزید :

کالم -