ظلم بہت بڑاہے،مگرمیڈیا....؟

ظلم بہت بڑاہے،مگرمیڈیا....؟
ظلم بہت بڑاہے،مگرمیڈیا....؟

  

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک معصوم اور ننھی جان کے ساتھ بہیمانہ سلوک انتہائی تکلیف دہ، قابل مذمت اور معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے، لیکن اس سے بھی بڑا یہ دکھ ہے کہ اس واقعہ کی جس طرح اور جس پیمانے پر تشہیر کی گئی ، اس سے گھروں میں بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھنے والی ایسی دوسری بھولی بھالی بچیوں نے کیا تاثر لیا ہوگا،جس انداز سے ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے اس خبر کو فوٹیج کے ساتھ بار بار دکھایا، وہ اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ہمارے دوست اور بھائی اسے جہاد کہیں گے اور یہ بھی دعویٰ کریں گے کہ اس طرح انہوں نے مردہ ضمیروں کو جگایا اور اسی بناءپر نہ صرف چیف جسٹس نے ازخودنوٹس لیا، بلکہ صوبائی حکومت اور پولیس کو بھی الرٹ ہونا پڑا، یوں متاثرہ خاندان کی داد رسی کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔

یہ سب ٹھیک ہے ،لیکن ہمارے دوستوں نے یہ کیوں نہیں سوچاکہ یہ ایک معصوم کی پوری زندگی اور اس کے خاندان کا بھی سوال ہے۔کیا یہ سب فوٹیج کو بار بار چلائے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔کیا یہ لازم تھا کہ آپ ایک ہی نوعیت کی فوٹیج کو سینکڑوں بار دکھائیں اور پھر ریٹنگ کے چکر میں سبھی حضرات یہ دہراتے چلے جائیں۔اس دردناک اور دکھ بھرے مسئلہ کو اجاگر کرنے کی ضرورت سے بھی انکار نہیں، لیکن یہ سب قدرے بہتر طریقے سے بھی ممکن ہے۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ فوٹیج سے گریز کیا جاتا اور تبصروں،تجزیوں اور خبروں کی تفصیل کےلئے بہتر الفاظ کا چناﺅ کیا جاتا۔

یہ معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ یہاں ایسی درندگی در آئی ہے جس میں ماں ،بہن اور بیٹی کی بھی تمیز نہیں رہی، جس بچی کے ساتھ یہ دردناک سلوک ہوا، وہ کسی کی بیٹی ہے تومعاشرے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ محلے کی بیٹی سب کی بیٹی تھی اور ہر کوئی ایسے ہی تحفظ کرتا تھا، جیسے اس کی اپنی بیٹی ہو، لیکن آج یہ کیسا دور آ گیا ہے کہ جس میں تمام اخلاقی اور معاشرتی اقدار تباہ ہوگئی ہیں، اس درندگی کے خلاف جو سلوک ہمارے بھائیوں نے کیا اس کے پیچھے ہمدردی اور دردمندی کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، یقیناً دل دکھے ہیں اور دھڑکا بھی لگا ہے کہ کیا معصوم بچوں کو بھی گھر سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا اور کیا اب بچوں اور بچیوں کو اغوا اور درندگی کے خوف سے گھروں میں محبوس رکھا جائے گا اور پھر اس دور میں جب جدید اور اعلیٰ اسلحہ دستیاب ہے اور چور ڈاکو دندناتے پھرتے ہیں،کیا ضمانت ہے کہ سب گھروں میں بھی محفوظ ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے، جس کا دن اور رات تحفظ سے گزر جائے وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، لیکن ہمارا سوال پھر وہی ہے کہ جس پیمانے پر اس واقعہ کی تشہیر کی گئی ،فوٹیج چلائی گئی اور جس انداز کی گفتگو ہوئی کیا وہ ہماری معاشرتی اقدار کے مطابق ہے۔فوٹیج دکھاتے وقت چہرے کو ”فیڈ“ کرنے کا کیا فائدہ جب آپ نے بچی کے نام سے لے کر اس کے خاندان تک کا صرف ذکر ہی نہیں کیا، بلکہ ان کے انٹرویو بھی نشر کئے، اس سے کہیں بہتر طریقہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال ہم مطمئن ہیں کہ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تو اس سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ہدایات جاری کیں کہ ملزم ہر صورت پکڑے جائیں، لیکن اب تک کیا ہوا، صرف اور صرف تسلی....

پنجاب پولیس کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کی لاکھ برائیوں کے باوجود اس کے بارے میں یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ آج بھی پولیس میں ایسے اہلکاروں کی کمی نہیں جو اس نوعیت کے واقعات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔شرط یہ ہے کہ ان پر اعتماد بھی کرلیا جائے اور ان کو کام بھی سونپا جائے۔یہ واقعہ بہت ہی بدبخت انسانوں کا ہے، جن کے دماغ میں حس نام کی کوئی شے نہیں اور وہ بے ضمیر ہیں۔اس بارے میں بات کرنے اور بحث کی ضرورت ہے کہ معاشرتی بگاڑ کیوں بڑھ رہا ہے۔ہمارے یقین کے مطابق معاشی اور اقتصادی حالات کا ذکر کرنا ہے تو کرتے رہیں، یہ فلسفے کی بات ہے ،لیکن اصل وجہ احتساب کی نایابی ہے۔ملزم جرم کرکے پکڑا نہیں جاتا، پکڑا جائے تو اسے سزا نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں تحقیق و تفتیش اور پھر پیروی کی ضرورت ہوتی ہے۔عدالت کو شہادت چاہیے اور یہ کام استغاثہ کا ہے کہ ٹھوس شہادتیں مہیا کی جائیں کہ ملزم کے بچنے کی گنجائش نہ ہو، اس کے لئے صحیح انصاف کی ضرورت ہے جو تھانے کی سطح سے ہی شروع ہوتا ہے۔

ہمارے میڈیا والے بھائی اور بچے کسی بھی شعبے سے پوچھ لیں، اس کے پاس اپنی نااہلی کا جواز موجود ہے، جبکہ جو کوئی بھی کسی ذمہ دار آسامی پر ہوتا ہے اسے وہ ذمہ داری تو دیانت داری سے پوری کرنا چاہیے۔اس کے لئے وسائل کی کمی یا دوسری نوعیت کے جواز تلاش کرنا درست نہیں، جہاں تک شہریوں کا تعلق ہے تو ان کا بھی فرض ہے کہ وہ جرائم کے قلع قمع کے لئے میدان میں آئیں۔ حوصلہ کریں، لیکن یہ حوصلہ بھی مشروط ہے۔سوال یہ ہے کہ پولیس خود استغاثہ کے گواہوں کو کتنا تحفظ فراہم کرتی ہے؟اور جب تک ایسا نہ ہوگا شہری آگے نہیں بڑھیں گے۔

شہریوں کی فرض شناسی کے حوالے سے ہمیں ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ہم لندن سے مانچسٹر جا رہے تھے، آدھے راستے میں بائیں طرف نظر گئی تو ایک ویران جگہ پر ٹیلی فون بوتھ کے پاس پولیس کی ایک کار کھڑی نظر آئی۔ہمارے سمیت بس کے دوسرے مسافروں نے بھی اسے نظر انداز کردیا اور ایک دوسرے سے استفساریہ طریقے سے بات کرکے پھر سے اپنی باتوں میں لگ گئے۔ہم مانچسٹر سے اپنی نسبتی ہمشیرہ کے گھر گئے اور تھوڑی دیر بعد تجسس سے مجبور ہو کر ان کو ٹیلی ویژن لگانے کے لئے کہا، چینل فور پر اس ٹیلی فون بوتھ کی خبر چل رہی تھی۔خبر کے مطابق پولیس کار کو ٹیلی فون بوتھ کا ریسیور گرا ہوا ملا اور اس کے قریب ایک کار کھڑی پائی گئی ۔پولیس نے تھوڑی ہی دیر میں اوپر پہاڑی نما جگہ سے ایک نوجوان لڑکی کی نعش تلاش کرلی،جسے قتل کیا گیا تھا۔اس کے بعد وقوعہ کی فوٹیج تو نہ چلی۔مقتولہ کی تصویر اور یہ اپیل شروع ہوئی کہ اگر کسی کو اس لڑکی کے کوائف اور یہاں ہونے والے واقعہ کے حوالے سے کچھ بھی علم ہے تو پولیس کو اطلاع دے۔یقین جانیئے تین سے چار گھنٹوں کے دوران بچی کی شناخت ہوئی اور ایسے لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے لڑکی کو ٹیلی فون بوتھ کے قریب اور ایک کار سے اترنے والے لڑکوں کو اس کی طرف بڑھتے دیکھا تھا اور یونہی چند گھنٹوں میں ملزموں کی کار کا نمبر بھی مل گیا اور اگلے روز تک ملزم گرفتار بھی ہو گئے۔

اس پورے عرصے میں اپیل بھی چلی۔لڑکی کی تصویر بھی دکھائی گئی اور وقوعہ کے مقام کو فون کا ریسیور لٹکے ہوئے بھی دکھایا گیا،لیکن اسے بار بار نہیں دہرایا گیا، اگر مسلسل کوئی بات چلی تو وہ اپیل تھی کہ کسی کو کچھ علم ہو تو پولیس کو آگاہ کرے،حتیٰ کہ نام اور شناخت بھی خفیہ رکھنے کا یقین دلایا گیا تھاکیا ہم یہاں ایسے طریقے اختیار نہیں کر سکتے؟

بات کو یہیں ختم کرتے ہیں کہ میڈیا نے اپنا کام کیا، ازخود نوٹس لیا گیا اور پنجاب حکومت بھی متحرک ہے ۔توقع کرنا چاہیے کہ ایسے درندے جلد ہی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔یہاں ہمیں پھر یہ کہنا ہے کہ گواہوں کو تحفظ،مضبوط شہادتوں کے بعد ملزموں کو سخت ترین سزائیں نہ ملیں تو جرائم میں اضافے کو روکنا ممکن نہیں ہوگا اور آج کی معاشی اور اقتصادی ناہمواری کے ساتھ اخلاقی دیوالیہ پن ایسے دردناک جرائم کو جنم دیتا رہے گا۔اللہ پناہ دے....    ٭

مزید :

کالم -